شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / حضرت خواجہ پیر ثناء محمد چشتی رحمتہ اللہ
loading...
حضرت خواجہ پیر ثناء محمد چشتی رحمتہ اللہ

حضرت خواجہ پیر ثناء محمد چشتی رحمتہ اللہ

sabir mughalبر صغیر میں دین اسلام کی اشاعت و ترویج میں سب سے بلا شبہ سب سے زیادہ کردار اولیا ء اللہ اور بزرگان دین کا ہے۔کروڑوں بے دین افراد ان کی وجہ سے دائرہ اسلام میں داخل ہوئے،محمد بن قاسم کے سندھ فتح کرنے اور محمود غزنوی کے ہندوستان پر حملوں کے ساتھ ہی بزرگان دین اور صوفیاء اکرام کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا ان صوفیا میں حضرت عون قطب شاہ علوی البغدادیؒ ،عبداللہ شاہ غازیؒ ،داتا گنج بخش ہجویری ؒ ،شاہ رکن عالم ؒ ،خواجہ معین الدین چشتیؒ ،سلطان سخی سرورؒ ،خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ ،بابا فرید الدین شکر گنج ؒ ؒ ،مخدوم علاؤدین صابرؒ ،شیخ نظام الدین اولیاء ؒ شیخ بہاؤالدین زکریاؒ ،سلیم چشتیؒ ،شیخ محمد غوث گوالیاریؒ ،مخدوم عبدالقادر ثانی ؒ ،شیخ داؤد کرمانیؒ ،حضرت خواجہ باقی اللہ ؒ ،حضرت میاں میرؒ ،حضرت مجدد الف ثانیؒ اور شاہ ولی اللہ ؒ کے نام خاص طور پر اسلام کی اشاعت کے سلسلہ میں قابل ذکر ہیں،دین اسلام کی اشاعت اور ترویج میں سلسلہ چشتیہ جس کے بانی حضرت علی حیدر کرارؓ کی نویں پشت میں سے ایک بزرگ ابو اسحاق شامی تھے،چشتیہ فارسی زبان کا لفظ ہے جو عرب سے افغانستان اور برصغیر تک پہنچا اس وقت سلسلہ چشتیہ کے اہم ترین مراکز برطانیہ،امریکہ آسٹریلیا اور جنوبی وشمالی افریقہ میں بھی قائم ہیں۔بعض روایات کے مطابق یہ بزرگ ایشیائے کوچک سے آئے اور ۔چشت۔نام کے ایک گاؤں میں جو علاقہ خراسان میں ہے مقیم ہوئے ،بعض کے نزدیک شام کے اقامت پذیر ہوئے اور وہیں پر وفات پائی اور مدفن ہیں،بعض لوگ اس سلسلے کا بانی معین الدین چشتی ؒ ؒ کو قرار دیتے ہیں،کئی لو گ چشت کے ابو احمد ابدال کو اس کا بانی سمجھتے ہیں ،چشت سے ہجرت کے بعد سلسلہ چشتیہ کے اولیاء نے بلوچستان کارخ کیا اور پشین جو اس وقت قندھار کا ایک ضلع تھا اور آجکل بلوچستان کا ایک ضلع ہے وہاں آباد ہو گئے یہاں پر نظام الدین مودود چشتی ؒ کا مزار ہے اس کے بعد اس سلسلہ کی ہجرت کوئٹہ (شال کوٹ) ہو گئی یہاں نقرالدین مودود چشتی ؒ ؒ کا مزار ہے اور وادی کوئٹہ کے مغربی جانب ان کے فرززند ولی مودود چشتی کرانی ؒ کا مزار بمقام کرانی ہے،کوئٹہ سے یہ سلسلہ بلوچستان کے شہر مستونگ پہنچا ،مستونگ میں سید شمس الدین ابراہیم پکتیاسی مودود چشتی ؒ کا مزار ہے،اگلی منزل درہ ضلع بولان کا شہر ڈھار ہے یہاں شمس الدین ابراہیمؒ کے نواسے ابراہیم پکتیاسی مودود چشتی ؒ کا مزار ہے ۔سلسلہ چشتیہ کی ابتداء ابواسحاق سے اور واسطہ در واسطہ معین الدین چشتی ؒ ؒ کے ذریعے ہندوستان کی طرف چلا گیا،بعض افراد تو خواجہ معین الدین چشتی ؒ کو ہی سلسلہ چشتیہ کا بانی قرار دیتے ہیں،مغل بادشاہ اکبر اور ان کا خاندان بھی باقاعدگی سے حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کے ؒ حضور حاضری دیتا تھا، قطب الدین بختیار کاکی ؒ سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی ؒ کے خلیفہ تھے اور خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ؒ ہی حضرت بابا فریدا لدین گنج شکر رحمتہ اللہ کے پیر و مرشد ہیں جن کا مزار دہلی کے علاقے مہر ولی میں ہے،شیخ العصام حضرت خواجہ فریدالدین گنج شکر ؒ سلسلہ چشتیہ کے عظیم صوفی بزرگ ہیں جن کی وجہ سے لاکھوں افراد مسلمان ہوئے ،بابا فریدالدین ؒ کی شاعری میں فارسی ،عربی،سنسکرت کے الفاظ ملتے ہیں،پنجابی شاعری کے وہ پہلے شاعر تھے ۔سلسلہ چشتیہ کی اہم ترین بزرگ ہستی حضرت خواجہ پیر ثناء محمد چشتی ؒ پاکپتن سے تقریباً 60کلومیٹر دور حویلی لکھا کے قریب بائیل گنج میں حضرت خواجہ پیر سید جلال چشتیؒ کے ہاں پیدا ہوئے ، حضرت خواجہ سید جلال چشتی جن کاتعلق حضرت بابا فرید الدین کی پشت میں سے ہے جو ایک درویش بزرگ تھے،انتہائی سادہ طبیعت کے مالک پیر سید جلال اپنے مریدین اور عقیدت مندوں سے گھل مل جاتے ہیں اور جہاں بھی تشریف لے جاتے روایتی پیروں سے ہٹ کر ان کے ساتھ صرف دو افراد ہوتے ،ان کا یہ واقعہ بے حد مشہور ہے وہ دریائے ستلج پار ایک گاؤں میں اپنے ایک مرید کے پاس اکثر جاتے تھے تو ان کا مرید ان سے کہتا ۔پیر صاحب۔آپ میرے کیسے پیر ہیں جو صرف دو آدمیوں کے ساتھ ہی میرے پاس آتے ہیں جبکہ میرے گاؤں میں دیگر لوگوں کے پیر صاحبان۔تو درجنوں مریدین کے ساتھ آتے ہیں ،میری بھی خواہش ہے کہ آپ کے ساتھ بہت سے لوگ ہون جن کی میں خدمت کروں۔حضرت خواجہ سید جلال ؒ کے سمجھانے کی باوجود مرید کی ضد ختم نہ ہوئی تب آپ ؒ نے اسے کہا۔ تم اہتمام کرنا آئندہ تمہاری خواہش مطابق میرے ساتھ بھی بہت سے لوگ ہوں گے ،مقررہ دن اس مرید نے کئی دیگیں چڑھا دیں اور حلوے کے کڑاہے تیار کرانے لگا۔پیر صاحب وہاں پہنچے تو حسب معمول وہی دو افراد ان کے ہمراہ تھے تب مرید نے عرض کیا حضور باقی لوگ کہاں ہیں؟ تو حضرت خواجہ سید جلالؒ نے فرمایا ۔تم ان دو افراد کو کھانا کھلاؤ باقی لوگ پہنچنے والے ہیں، کھانا شروع ہو کر ختم بھی ہو گیا مگر وہ دو افراد اب بھی اسی جگہ بیٹھے تھے ،پھر اس مرید کو ہوش آیا اور پیر صاحب کے آگے ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو گیا کہ حضور آئندہ کبھی ایسا نہیں کہوں گا۔حضرت خواجہ پیر سید جلال چشتی ؒ کے صاحبزادے حضرت خواجہ پیر ثنا ء محمد چشتی ؒ بھی اپنی مثال آپ تھے ،جنہوں نے اپنی تمام زندگی عشق رسولﷺ اور ذاتیات سے بالاتر ہو کر عوام کو ان کے دکھوں کے حوالے سے دیکھا،وہ اپنے مریدین اور معتقدین کے ساتھ ذاتی اور نظریاتی دونوں ہی اعتبار سے محبت اور پیار کرتے تھے یہی وجہ بنی کہ ان کی زندگی میں ہی ان کے مریدین کی تعداد لاکھوں میں پہنچ گئی،آپ اپنے مریدین کوہمیشہ نماز اور با شریعت ہونے کی تلقین کرتے،آپ اتفاق،پیار محبت اور اخلاق کا درس دیتے۔حضرت خواجہ پیر ثنا ء محمد چشتی ؒ کے پاس جو مرید بھی کسی پریشانی میں آتا حیرت انگیز طور پر آپ اسی کے مسئلہ سے متعلق بات کر رہے ہوتے،آپ ہر ایک مرید کو اس کے نام سے پکارتے ،قریبی قصبہ حویلی لکھا سے ۔فضل ۔نام کا ایک شخص اکثر آپ کی محفل میں آتا مگر ۔پیر صاحب۔نے کبھی اسے نام سے نہ پکارا جس اس نے پوچھ لیا کہ حضور آپ ہر ایک کو نام سے بلاتے ہیں مگر میرا نام ہی آپ کو یاد نہیں رہتا ،اسے جواب ملا کہ آپ اپنا نام یاد کرائیں تو یاد رکھا جائے ،اسے سمجھ آ گئی اس کے بعد ۔فضل جو بعدمیں ۔بابا فضل۔کے نام سے مشہور ہوا کبھی لوٹ کر اپنے گھر نہ گیا،وہ کئی مرتبہ حویلی لکھا گیا مگر اس نے پلٹ کر گھر کی طرف نہ دیکھا ،دس سال بعد ۔پیر صاحب نے اسے سپیشل بلاکر کہا کہ فضل دین تیرا گھر جانے کو دل نہیں کرتا ،جواب نفی میں ملا تو فرمایا کہ ۔ آج گھر لازمی جاؤ ،جس پر بابا فضل اجازت لے کر گھر چلاگیا،ٹھیک ایک روز بعد بابا فضل اس دنیا فانی سے کوچ کر گیا۔ایک مرید نے آپ سے کہا حضور دعا کریں ۔اللہ کریم مجھے اولاد عطا فرمائے،آپ نے دعا کی اور کہا کاغذ قلم لے آئیں ،وہ لے آیا تو آپ نے اسے بچوں کے نام لکھوانا شروع کر دئیے جب یہ تعداد 6تک پہنچی تو وہ بندہ ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو گیا کہ حضور بس یہ بہت ہیں ،اس کے وہ 6بیٹے آج بھی زندہ سلامت ہیں۔اسی نوعیت کی سینکڑوں مثالیں ہیں یہاں کس کس کا ذکر کیا جائے ،پیر خواجہ ثنا ئمحمدچشتی ؒ نے 1997میں ۔بائیل گینج ۔کو خیر باد کہہ دیا اور ساہیوال کے علاقہ نور شاہ کے قریب کے رہائش پذیر ہوگئے،ان کے آنے کے بعد یہاں جنگل میں منگل ہو گیا مگر ایک رات عشاء کے وقت انہوں نے اچانک وہاں موجود اپنے مریدوں کوبلایا اور کہا کہ کوچ کریں ہم یہاں نہیں رہیں گے،وہاں کے لوگوں کو پتا چلا تو آپ کی منت سماجت پر اتر آئے مگر آپ خاموش رہے اور نہ کسی کو جانے کی وجہ بتائی اور نہ کسی کی بات مانی۔ انہوں نے ضلع فیصل آباد کے علاقہ گڑھ فتح شاہ کا انتخاب کیا ،اس جگہ پر بھی ان کے ہزاروں کی تعداد میں مریدین رہتے تھے،یہاں آنے کے ٹھیک 3ماہ بعد25فروری 27شوال کو آپ دنیا سے رحلت فرما گئے۔اب ان کے اکلوتے فرزند ارجمند صاحبزادہ پیر طریقت پیر سید احمد جمال چشتی دربالیہ عالیہ حضرت خواجہ پیر ثناء محمد چشتیؒ کے گدی نشین ہیں اور وہ سب رونقیں اسی طرح بحال ہیں جو بڑے ۔پیر صاحب۔کی زندگی میں ہوا کرتی تھیں،دربار عالیہ پر سارا سال لوگوں کا جم غفیر رہتا ہے،پیر احمد جمال چشتی بھی اپنے والد محترم کی طرح ہر نئے ہونے والے مرید کو وقت بیعت حضرت بابا فرید گنج شکر رحمتہ اللہ کا مرید قرار دیتے ہیں،صاحبزادہ پیر احمد جمال چشتی سیرت وکرادر کا اعلیٰ ترین نمونہ ہیں،انتہائی ہنس مکھ ،سادہ طبیعت ،پیار و محبت کا منبع،اخلاس سے بھرپور شخصیت ہیں جن کے نورانی چہرے کو دیکھ کر ان سے الگ ہونے کو دل نہیں چاہتا۔خواجہ احمد جمال چشتی ؒ مریدین کو پیر بھائی کہہ کر بلاتے ہیں۔ حضرت پیر ثنا ء محمد چشتی ؒ نے ہمیشہ اپنی ذاتی زندگی میں ۔عشق رسولﷺ کے علاوہ کسی بات کو ترجیح نہ دی اور ہر سال انتہائی تزک و احتشام سے جشن عید میلاادلنبی ﷺ منایا کرتے اور یہ سلسلہ کم از کم گذشتہ پچاس سال سے باقاعدگی سے جاری ہے ۔ان کے ہاں اب بھی کسی عرس وغیرہ کا رواج نہیں ہے صرف ہر سال جشن عید میلاد النبی ﷺ کی بہت بڑی تقریب کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں اندورن و بیرون ملک سے ہزاروں افراد شرکت کرتے ہیں ،یہ تقریبات دو روزہ ہوتی ہیں جن میں پاکستان بھر سے نامور نعت خواں ،علماء اور قوال آتے ہیں، اس سال بھی 5اور6نومبر کو دو روزہ تقریبات دربا عالیہ حضرت خواجہ پیر ثنا ء محمدچشتی ؒ فرید پور شریف گڑھ فتح شاہ ضلع فیصل آباد میں ہوں گی۔

note

Share Button
loading...
loading...

About admin

loading...
Scroll To Top