شہ سرخیاں
Home / عزیز الطاف / ’’PP173میں ٹکٹ کے حصول کی جنگ‘‘

’’PP173میں ٹکٹ کے حصول کی جنگ‘‘

عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ اگر آپ کا کوئی عزیز یا قریبی سیا ست میں چلا جائے اور اثرورسوخ بھی رکھتا ہو تو باقی خاندان والوں اور قریبی ساتھیوں کی موج لگ جاتی ہے۔جو کہ بالکل درست ہے اسی مقصد کے حصو ل کیلئے آج کل لوگ جوق در جوق سیا سی پارٹیوں میں شامل ہو رہے ہیں کوئی تحریک انصاف میں شامل ہو رہا ہے توکوئی مسلم لیگ نواز میںزیادہ تر لوگ تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔PP173میں بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے ہر کوئی تحریک انصاف میں شامل ہو رہا ہے اور شامل ہونے کے بعد ٹکٹ کے حصو ل کیلئے سر گرم عمل ہے اس حلقے میں تحریک انصاف کی ٹکٹ حا صل کرنے لئے جو لوگ میدان میں ہیں اُن میں سے سب سے پہلے شیخ عبدالخالق پاکستانی ہیں جو مو ڑکُھنڈا سے تعلق رکھتے ہیں اور ٹکٹ کے حصو ل کیلئے کوشاں ہیں عبدالخالق پاکستانی کو یہ Advantageحاصل ہے کہ اُن کے بڑے بھائی 1997کے الیکشن میں کھڑے ہوئے اور تیسری پو زیشن حاصل کی شیخ عبدالخالق پاکستانی کو واربٹن ،منڈی فیض آباد اور مو ڑکھنڈا میں کافی لوگ جانتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تحریک انصاف کی طرف سے وہی PP173کے اُمید وار ہوں اُس کے بعد جو لوگ تحریک انصاف کی ٹکٹ کے خواہش مند ہیں اُن میں شامل ہیں جاوید منظور گِل جو ق لیگ سے تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور اب ٹکٹ کے حصو ل کیلئے میدان میں ہیں ان کے بعد باری آتی ہے شہریارورک کی جو ورک برادری کے اُسی حلقے میں نمائندہ ہیں لیکن کم مقبولیت رکھتے ہیں اسی حلقے میں PTIکی ٹکٹ چاہتے ہیں۔علی امیر جوئیہ جو دیہاتوں میں تو مقبولیت رکھتے ہیں مگر شہروں میں اُنھیں کم لوگ جانتے ہیں بات یہاں تک ہی ختم نہیں ہوئی بلکہ اسی حلقہ میںایک اور صاحب جن کا نام محسن شاہ ہے تحریک انصاف کی ٹکٹ حاصل کر نے کیلئے دن رات گاڑیاں دوڑا رہے ہیں قارئین مجھے کچھ دن پہلے عمران خان سے ملاقات کرنے کا مو قع ملا وہ بھی کچھ یوں کہ میانوالی سے کچھ MNA اور MPA جو مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھتے تھے عمران خان کی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کرنے لاہور خاں صاحب کے زمان پارک والے گھر تشریف لائے اور عمران کی موجودگی میں تحریک انصاف میں شمولیت کا با ضابطہ اعلان کیا جہاں میرے ساتھی صحافیوں نے اصرار کیا اس تقریب میں آپ بھی چلیں وہاں پہنچے تو ماحول ہی اور تھا ٹکٹ حاصل کرنے والوں کا تانتا بندھا تھا کوئی کہاں سے آیا تو کوئی کہاں سے سب کا مقصد اپنے حلقے میں تحریک انصاف کی ٹکٹ حاصل کر نا تھا کچھ دیر بعد عمران خان پہنچے تو نعرے بازی شروع ہو گئی عمران خان کے آگے پیچھے چاپلوسی کر نے والے ٹولے موجود تھے ان میں کچھ صحافی بھی شامل تھے ﴿ضرورت پڑنے پر ان کا نام بھی بتایا جا سکتا ہے﴾ ہر کوئی خان صاحب خاں صاحب کہہ رہا تھا ان سب کو چپ کر وانے کیلئے خان صاحب نے ایک آزمودہ فارمولا استعمال کیا اور کہا ’’تحریک انصاف میں کوئی بھی شامل ہو سکتا ہے پر ٹکٹ اُسی کو ملے گی جو PTIکے اصولوں کو جانتا ہے اور ایماندار ہے‘‘بس پھر اُس کے بعد خاموشی ہوگئی تو بات ہو رہی تھی PP173میں تحریک انصاف کی ٹکٹ کی جنگ کی شیخ عبدالخالق پاکستانی ، علی امیر جوئیہ ، شہریارورک ، جاوید منظو ر گِل اور محسن شاہ یہ سب اور ایک ٹکٹ۔میرے ناقص علم کے مطابق ان سب میں سے با صلاحیت شیخ عبدالخالق ہیں جن کے وجود پر کوئی داغ نہیں اور حلقہ بھر میں مقبولیت میںبھی کوئی کمی نہیں وابٹن ، موڑکھنڈا اور فیض آباد میں شیخ برادری کے مکمل حمایت یافتہ شیخ عبدالخالق پاکستانی کو دیہاتوں میں بھی لوگ چاہتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ تحریک انصا ف کی طرف سے انھیں ٹکٹ ملے ۔دیکھتے ہیں کہ ٹکٹ کی اس بازی میں کون میدان مارتا ہے اور ٹکٹ کے بعد لوگوں کی امیدوں پر کون پورا اُترتا ہے نمائندہ جو بھی ہو وہ اس بات کو نہ بھولے کہ جیتنے کے بعد اُسے عوامی فلاح وبہبود کیلئے کام کرنا ہے ۔

x

Check Also

“گُجروں کی رنگین مزاجیاں”

“Proud to be a Gujjar”یہ لکھا تھا ایک دودھ والے ڈالے کے ...

Connect!