شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / تحریک انصاف کادھرنامؤخر، کھویاکیاپایاکیا
loading...
تحریک انصاف کادھرنامؤخر، کھویاکیاپایاکیا

تحریک انصاف کادھرنامؤخر، کھویاکیاپایاکیا

zafarاگرچہ سوالات تو بہت اٹھے کہ عمران خان نے اگر سپریم کورٹ کی جانب سے پانامہ لیکس بارے کارروائی کرنے کے فیصلے کوبنیادبناکر اپنا دھرنا مؤخر کرناتھاتوسپریم کورٹ تو پہلے ہی سے اس معاملے سے جڑے لوگوں کوکو نوٹس جاری کرچکی تھی پھر اتناشورشراباکرنے اور ملک بھرکو ہیجانی کیفیت سے گزارنے کی کیاضرورت تھی ،یہ بھی کہ عمران خان تو دھرنے میں دس لاکھ افرادکی شرکت کادعویٰ کررہے تھے مگر محض چند ہزار افرادہی نے دھرنے کارخ کیوں کیا، عمران خان نے دھرنامؤخر کرنے کے اعلان سے قبل عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشیداحمدجو کہ ان کااہم اتحادی ہیں کواعتماد میں کیوں نہیں لیا،یہ بھی کہ وزیراعلی پرویز خٹک کی قیادت میں خیبرپختونخواکے پارٹی ورکرزصوابی برہان اور موٹروے کے دیگرمختلف مقامات پر آنسوگیس کی شیلنگ،لاٹھی چارج اور گرفتاریوں پر مشتمل ریاستی مشینری کاسامناکرتے ہوئے بھرپورمزاحمت کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے مگر دوسری جانب پنجاب ،کراچی اور اسلام آباد کے اہم پارٹی رہنماء جن میں مخدوم شاہ محمود قریش،جہانگیر ترین،عارف علوی،عمران اسماعیل،چوہدری سروراور کئی دیگر قابل ذکر تھے انفرادی حیثیت میں بنی گالہ میں عمران خان کے دائیں بائیں اپنی موجودگی کاپتہ کیوں دے رہے تھے کیاانہیں اپنے ورکرزکے ساتھ قافلوں میں نہیں ہوناچاہئے تھا ،کیاواقعی دھرنے کے معاملے میں پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت منقسم تھی جس کی بازگشت ہورہی ہے،اگرچہ پی ٹی آئی کادھرنامؤخر ہوناملک کی مفادمیں بہتر اقدام قراردیاجارہاہے مگراٹھتاسوال یہ ضرورو ہے کہ عمران خان نے بڑی عجلت میں دھرنامؤخر کرنے کااعلان کیوں کیا،عمران خان نے دھرنے میں کارکنان کی دکھائی دیتی غیرمعمولی کم تعداد کے باوجود یوم تشکر میں دس لاکھ افراد کی شرکت کادعویٰ کیوں کیااور اگر ان کی نظرمیں اتنے لوگوں کی آمد متوقع تھی تو کرسیاں محض چند ہزارہی کیوں رکھی گئیں جبکہ آزادمیڈیاکے اندازے کے مطابق پی ٹی آئی کے یوم تشکر کے موقع پر شریک کارکنان کی تعداد دس سے پندرہ ہزارکے درمیان تھی، یہ بھی کہ کیا اسلام آباد میں خیبرپختونخواکے وزیر علی آمین گنڈاپورکی گاڑی سے واقعی دیگر ممنوعہ اشیاء سمیت غیرقانونی اسلحہ برآمد ہواتھا جس کی بنیادپر ان کے خلاف مقدمہ بھی درج ہوچکاہے یایہ بدنیتی پر مبنی کارروائی تھی لیکن اٹھتاسوال یہ ہے کہ اگر اسلحہ قانونی تھاتو وہ موقع سے بھاگے کیوں تھے اوراب وہ کونسی ترکیب ہوگی جسے اپنانے پر انہیں بقول ان کے ان کاقانونی اسلحہ واپس اور مقدمہ ختم ہوسکے،اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر پانامہ لیکس کی بنیادپر پی ٹی آئی کی لڑائی حکومت اور حکمرانوں بالخصوص ویراعظم نوازشریف کے مبینہ کرپشن کے خلاف تھی تووزیراعظم نوازشریف،ان کی جماعت اور خاندان کے افراد کے خلاف بھلے کچھ بھی کہتے جبکہ عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے دیگر رہنماء تو بہت کچھ بولے بھی ہیں لیکن خیبرپختونخواکے وزیراعلیٰ کو ملک کا حشرنشرکرنے جیسے کلمات اداکرنے کی کیاضرورت تھی کیونکہ یہ ملک صرف نوازشریف اور نون لیگ کاتونہیں ۔دوسری جانب اگرچہ شہراقتدار اسلام آباد میں عوام اور سرکاری املاک کے تحفظ کے لئے سیکورٹی انتظامات کراناوفاقی حکومت کی ذمہ داری تھی لیکن وفاقی حکومت نے بھی تو وقت سے قبل کنٹینر ز لگا کر اور موٹروے پر مٹی کے پہاڑکھڑے کرکے ملک کوہیجانی کیفیت سے دوچارکرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اور لگ یہ رہاتھاکہ پی ٹی آئی نے اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کرانے کی دھمکی دی تھی مگر حکومت نے توایساعملاََ کرکے دکھایا،میڈیاکے ذریعے ملنے والی اطلاعات کی روشنی میں پی ٹی آئی کی بعض خواتین ورکزراور مرد رہنماؤں کے ساتھ پولیس کی جانب سے جوسلوک روارکھاگیاوہ بھی مناسب طرزعمل نہیں تھا بہرحال اس تمام تر صورتحال کے تناظرمیں اب تک کے نظرآتے زمینی حقائق یہ ہیں کہ دو نومبر کو تحریک انصاف کا دھرناہوا نہ ہی عمران خان 2014 کے دھرنے کی طرح کنٹینرپر چڑھ کرتواترکے ساتھ کارکنان اور وقت کے حکمرانوں کو للکارتے دکھائی دیئے ۔یوں بڑی حد تک کنٹینر کی سیاست بھی دم توڑگئی اور پی ٹی آئی اور حکومت کے مابین وہ غیرمعمولی ٹکراؤبھی نہ ہوسکاجس کی بازگشت دونومبر سے قبل اندازے لگاکر کی جارہی تھی ۔دھرنامؤخرہونے کے اعلان پر جہاں ملک کے اکثریتی عوام کوخوشی ہوئی ہے وہیں ممکن ہے کچھ لوگوں کومایوسی بھی ہوئی ہوگی ورنہ شیخ رشید ناراضگی کااظہار کرتے اور یہ سنائی دیتے کہ اب تحریک انصاف الگ راستہ لے لیاہے نہ ہی عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری اناللہ واناالیہ راجعون پڑھتے۔بہرحال اب پانامہ لیکس کااہم ترین کیس سپریم کورٹ میں ہے ۔سپریم کورٹ نے اس معاملے کو دیکھنے کی غرض سے ایک رکنی کمیشن کی تشکیل کافیصلہ کرتے ہوئے فریقین کو اپنے اپنے ٹی اوآرز جمع کرانے کی ہدایت کی ہے اور موصولہ اطلاعات یہ ہیں کہ پی ٹی آئی اپنے ٹی اوآرزاور وزیراعظم اپناجواب جمع کراچکے ہیں جبکہ وزیراعظم کے اوران کے خاندان کے دیگر افراد کی جانب سے جواب جمع کراناابھی باقی ہے۔بتایاجاتاہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے ٹی اوآرزمیں سوال اٹھائے گئے ہیں کہ نیسکال لمیٹڈ،نیلسن انٹرپرائززاوربرٹش ورجن کمپنیاں کب بنائی گئیں اور ان کمپنیوں کے اصل مالکان ،حقیقی وارث اور اس سے فائدہ اٹھانے والے کون ہیں،پارک لین کے فلیٹ 16 ،16 اے،17اور17اے سے متعلق بھی بتایاجائے،نوازشریف نے 1993میں کتنے فلیٹس خریدے تھے،لندن میں پیسے کب اور کن ذرائع سے منتقل کئے گئے تھے،وزیراعظم نوازشریف نے 1982سے1996تک کتناٹیکس ادا کیاہے،کیافلیٹ کی خریداری سے متعلق وزیراعظم نوازشریف نے پارلیمنٹ سے جھوٹ بولا،کیاوزیراعظم نوازشریف اسمبلی میں جھوٹ بولنے کے بعد صادق اور امین رہے،کیاان حقائق کی روشنی میں رکن اسمبلی نااہل ہوسکتاہے،ٹی اوآرزمیں کہاگیاہے کہ دوسوال بڑے اہم ہیں یہ کہ کس اکاؤنٹ سے التوفیق کمپنی کو 32ملین ڈالرز دیئے گئے اور دوسرایہ کہ مریم نوازمے فیئرفلیٹ کی اکلوتی مالک کیسے بنیں۔اگرچہ معاملہ اب عدالت میں ہے اور اس معاملے سے جڑے امور پر کوئی رائے دینا مناسب نہیں البتہ دلچسپ امر یہ ہے کہ وزیراعظم نوازشریف اور پی ٹی آئی کامقدمہ لڑنے والے وکلاء کاایک ہی لاء فرم سے تعلق ہونے کاانکشاف ہواہے۔گزشتہ دنوں نجی ٹی وی کے پروگرام میں خاتون سینئر صحافی نے یہ نکتہ اٹھایااور اس پر پی ٹی آئی سے تعلق رکھتے سیاستدان اور قانون دان فواد چوہدری سے رائے لی گئی توان کاکہنایہ تھاکہ یہ پاکستان میں ہی ممکن ہے کہ دو پارٹیزکامقدمہ لڑنے والے وکلاء آپس میں بزنس پارٹنر بھی ہوں جبکہ اس حوالے سے سینئر وکیل عاصمہ جہانگیر یہ کہتی سنائی دیں کہ یہ قسمت کی ستم ظریفی ہے دووکیل پارٹنرزمیں سے ایک وزیراعظم نوازشریف اور دوسرا تحریک انصاف کی وکالت کررہے ہیں ۔

note

Share Button
loading...
loading...

About admin

loading...
Scroll To Top