شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / قیامت کے دن ایک بچے کی فریاد
loading...
قیامت کے دن ایک بچے کی فریاد

قیامت کے دن ایک بچے کی فریاد

afzal ahmadاے اللہ میاں! میں نے اپنے اردگرد یہی کچھ ہوتا دیکھا‘ میرے والدین میرے بہن بھائی سب یہی کچھ کرتے تھے‘ اس لئے میں بھی یہ سب سیکھتا گیا، مجھے کبھی احساس ہی نہیں ہوا کہ میں کچھ غلط کر رہا ہوں، میں نے جب آنکھ کھولی گھر میں ٹی وی کی آواز سنی۔ تھوڑا سا بڑا ہوا تو مجھے کارٹون دیکھنا اچھا لگنے لگا‘ میں روزانہ ایک ڈیڑھ گھنٹہ کارٹون دیکھنے لگا‘ دادی اماں منع کرتیں کہ اتنا زیادہ ٹی وی دیکھنا آنکھوں کے لئے اچھا نہیں تو ابو کہتے خیر ہے کم از کم شرارتوں سے تو بچا ہوا ہے۔ میں تھوڑا بڑا ہوا تو ہمارے گھر میں کیبل بھی آگئی کبھی میں گانے اور ڈرامے دیکھنے بیٹھا تو امی کہتیں کہ بچے بڑوں کے پروگرامز نہیں دیکھتے اور خود وہی پروگرام دیکھنے لگتیں‘ میں سمجھا کہ شاید بڑوں کے لئے ہر طرح کے پروگرامز دیکھنا جائز ہے‘ میں بڑا ہونے کا انتظار کرنے لگا تا کہ مجھ پر بھی کوئی روک ٹوک نہ ہو۔ امی ابو سے چھپ کر بڑوں والے پروگرامز دیکھتا اور امی ابو آتے تو چینل بدل دیتا۔ یا اللہ ایسے ماحول میں میں تیرے نیک بندوں کی طرح آنکھ جھکانا کیسے سیکھتا؟
جب دادا ابو گاڑی میں ہوتے تو ابو گانے نہیں لگاتے تھے ورنہ عموماً گاڑی میں بھی گانے لگے رہتے‘ میں نے بہت چھوٹی عمر سے ہی گاڑی کا ٹیپ چلانا سیکھ لیا تھا‘ ابو کا ٹچ موبائل میں بہت اچھے طریقے سے استعمال کر لیتا تھا‘ مجھے ٹوکنے کے بجائے سب میری اس حرکت پر خوش ہوتے کہ دیکھو ابھی سے ہی کتنا چالاک ہے‘ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ گانوں کا شوق بھی بڑھتا گیا۔ میرے جیب خرچ کا بیشتر حصہ فلم و گیمز کی سی ڈیز پر خرچ ہونے لگا، مجھے کبھی کسی نے نہیں روکا کہ غلط ہے، کبھی کسی نے نہیں بتایا کہ ہمارے نبی کریمؐ تو ’’مزامیر‘‘ (گانے بجانے کے آلات) توڑنے کے لئے آئے تھے اور ہم انہی کے امتی کہلانے کے باوجود اٹھتے بیٹھتے گانے گنگنانے اور سننے والے بن گئے۔
ابھی میں بہ مشکل تین چار سال کا تھا کہ مجھے شہر کے مہنگے ترین انگلش میڈیم سکول میں ڈال دیا گیا۔ امی ابو مجھے دن رات پڑھنے کا کہتے‘ میں کلاس میں فرسٹ آنے لگا۔ امی ابو مجھ سے بہت خوش تھے۔ ایک دفعہ ایک نیک آدمی ابو سے ملنے آئے مجھ سے بھی باتیں کرنے لگے‘ مجھ سے انہوں نے اے۔ بی۔ سی اور بہت سی انگلش نظمیں سنیں جو میں نے فر فر سنا دیں‘ پھر اچانک انہوں نے مجھے سورۂ الناس سنانے کو کہا مجھے سورۂ الناس نہیں آتی تھی پھر سورۂ فاتحہ سنانے کو کہا تو میں پھر گھبرا سا گیا اور ان سے کہا کہ انکل یہ تو مجھے ٹیچر ز یا والدین نے نہیں سکھائی۔ انہوں نے مجھے پیار سے کہا کہ بیٹا اگر آپ کو یہ سورتیں کوئی نہیں سیکھاتا تو آپ کو قاری صاحب سے سیکھنی چاہئیں۔ آج کل کی ٹیچرز کو تو خود بھی نہیں آتیں ویسے بھی اب تو آپ تیسری جماعت میں ہو اور آٹھ سال آپ کی عمر ہے۔ اب تو آپ کو نماز بھی پڑھنی چاہئے‘ میں دل ہی دل میں بڑا شرمندہ ہوا کہ انکل مجھے نالائق سمجھیں گے‘ مگر جب انکل کے جانے کے بعد امی نے کہا کہ کاشف صاحب بھی بچے کے پیچھے ہی پڑ جاتے ہیں‘ بھلا اتنے سے بچے کو اتنی زیادہ سورتیں کہاں یاد ہو سکتی ہیں؟ تو میری تسلی ہو گئی کہ سورتیں یاد نہ ہونا کوئی اتنی بڑی شرمندگی کی بات نہیں ہے۔ اللہ میاں ایسے ماحول میں قرآن کی عظمت اور اہمیت میرے دل میں کیسے پیدا ہوتی؟
دادا جی فجر کے وقت نماز کے لئے مجھے آواز دیتے تو امی آہستہ سے کہتیں کہ ذرا ٹھہر کر پڑھ لے گا‘ رات کو دیر تک ہوم ورک (سکول کا کام) کرتا رہا ہے، اسی ’’ذرا ٹھہر‘‘ کے چکر میں دیر ہو جاتی اور کرتے کراتے ناشتے کا وقت ہو جاتا، میں ناشتہ کرکے سکول چلا جاتا۔ دوپہر کو سکول سے واپس آتا تو دادا جی نماز پڑھ چکے ہوتے‘ مجھے بھی وضو کرنے کا کہتے تو ابو کہتے کہ ابھی تھکا ہارا سکول سے آیا ہے کھانا کھا کر پڑھ لے گا۔ کھانا کھا کر میں چپکے سے بستر میں گھس جاتا، میرے ذہن میں یہ بات کبھی آئی ہی نہیں کہ نماز ہر کام سے زیادہ اہم ہے نہ مجھے والدین نے بتایا۔ میں نے تو ہمیشہ اپنے بڑوں کو ’’آخری عمر‘‘ میں عام سا کام سمجھ کر نماز پڑھتے دیکھا، اس حالت میں میں نے پرورش پائی تو پھر میں کیسے ان صحابہ کرامؓ جیسا ہو جاتا جو میدان جنگ میں بھی نماز چھوڑنے پر راضی نہ ہوتے تھے۔
اے اللہ میاں! میں نے اپنے والدین کو جھوٹ سے منع کرتے ہوئے پھر اسی محفل میں جھوٹ بولتے ہوئے دیکھا‘ غصے میں چیختے ہوئے دیکھا اور ساتھ ہی نرمی کی نصیحت بھی سنی‘ مجھے بتایا جاتا کہ غیبت گناہ ہے مگر چند لمحوں میں ہی کسی کی ڈھیر ساری خامیاں بیان کر دی جاتیں۔ صبر شکر کی فضیلت پر قصے سنائے جاتے مگر کھانا ذرا سا لیٹ ہونے پر چیخ و پکار شروع ہو جاتی۔ بڑوں کا اداب کرنے کا کہا جاتا مگر دادا جی کے کاموں پر دیر تک بڑ بڑا یا جاتا، میں سمجھا کہ خوش اخلاقی شاید اس کا نام ہے کہ منہ پر ہنس ہنس کر میٹھا بول بولا جائے اور پیٹھ پیچھے کھال کھینچ لی جائے۔ اے اللہ میاں میں نے بار ہا سنا کہ رسول اکرمؐ اعلیٰ اخلاق کا بہترین نمونہ ہیں مگر اپنے اردگرد لوگوں میں مَیں نے کسی میں بھی ان کے طریقے اپنانے کی تڑپ نہیں دیکھی۔
میری بہنیں بھی ایسے ہی ماحول میں بڑی ہوئیں‘ ایسے ہی دُہرے معیار دیکھتی اور سیکھتی گئیں۔ جب باجی پہلی دفعہ کالج جانے لگیں تو دادی اماں نے انہیں سر پر بڑی چادر لینے کو کہا‘ باجی کو بہت بُرا لگا، دادی اماں کے سامنے تو باجی چپ ہو گئیں مگر امی کے پاس جا کر شور مچانے لگیں کہ ساری لڑکیاں تو یونیفارم کا دوپٹہ ہی اوڑھ کر کالج آتی ہیں‘ میں بڑی سی چارد لے جاؤں؟ میں نے اتنی بڑی چادر اُوڑھ کر نہیں جاؤں گی۔ امی نے ایک دو دفعہ دھیمے لہجے میں کہا کہ اُوڑھ لوں نا‘ جب باجی نہ مانی تو امی بولیں اچھا دادی اماں کے سامنے اُوڑھ لو گھر سے باہر جا کر چادر اُتار دینا اور یونیفارم والا دوپٹہ اُوڑھ لینا۔ اس دن سے باجی اچھی طرح سیکھ گئی کہ بڑوں کو دھوکہ کس طرح دیا جاتا ہے۔ جب ایک دفعہ دھوکہ دینے کا راستہ کھل گیا تو پھر بات دادی اماں تک رکنے والی کہاں تھی۔ امی کو پتہ بھی نہ چلتا اور باجی کالج سے بازار جا کر اپنی مرضی کے ڈائجسٹ اور ’’انگلش ناول‘‘ اور ’’انگلش تصاویر‘‘ والے میگزین خرید کر لے آتیں۔ کالج کی کتابوں میں چھپا کر پڑھتیں اور امی ابو سمجھتے کہ ہماری بیٹی کمرے میں پڑھائی کر رہی ہے۔ اللہ میاں کیا ہمارے بڑے ہمارے گناہوں میں برابر کے شریک نہیں ہیں؟ انہوں نے برائی کو ’’چالاکی‘‘ اور ’’ہوشیاری‘‘ کا نام دے کر ہماری تائید کی۔ ایسے ماحول میں میری باجی کس طرح معصوم اور دیندار بن جاتی؟
اے اللہ میاں! میرے ماں باپ نے میرے لئے دنیا کی ہر نعمت مہیا کی‘ مجھے ہر طرح کی سہولت دی‘ میرے آرام کے لئے اپنا آرام تک قربان کیا‘ میں نے جو خواہش کی انہوں نے اسے پورا کرنا ضروری سمجھا‘ ایک دفعہ مجھے بچپن میں عجیب قسم کا بخار ہو گیا۔ رات کو سر میں بہت سخت دَرد ہوتا تو رات کو ابو دو تین بجے تک میرا سردباتے اور امی دودھ وغیرہ گرم کرکے مجھے پلاتیں‘ اگلے دن میں تو آرام سے سوتا رہتا اور ابو نیند پوری نہ ہونے کے باوجود دفتر اور امی گھر کے کاموں میں لگ جاتیں‘ تقریباً ایک ڈیڑھ ہفتہ یہی ہوتا رہا اور میرے ماں باپ ماتھے پر شکن لائے بغیر دن رات ڈیوٹی دیتے رہے‘ اللہ میاں میرے امی ابو نے میرے دنیاوی آرام کے لئے ہر چیز مہیا کی مگر وہ یہ بھول گئے کہ آخرت کا آرام بھی تو میری ضرورت ہے۔ دنیا کی چھوٹی چھوٹی تکلیفوں پر تڑپ اُٹھتے مگر آگ کے خوفناک عذاب کو بھول گئے‘ میرے کھانے پینے کے لئے میری پسند کی چیزوں سے گھر بھر دیا مگر ’’کھولتے پانی‘‘ اور ’’بدبو دار پیپ‘‘ کو بھول گئے۔ مجھے قیمتی ترین لباس پہنایا گرمی سردی سے میری حفاظت کی مگر آگ کے کُرتے اور تارکول کی شلوار کو بھول گئے‘ میرا رنگ پیلا ہونے پر پریشان ہو گئے مگر روز محشر میں کالی رات کی سی تاریکی والے چہروں کو بھول گئے۔
یا اللہ میں اپنے والدین سے محبت تو بہت کرتا ہوں مگر یہ بھی جانتا ہوں کہ آج میری رسوائی میں کچھ نہ کچھ ہاتھ ان کا بھی ہے‘ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تیرے سامنے میرا یہ عذر قابل قبول نہیں ہے کیونکہ بلوغت کے بعد سے میں اپنے قول و فعل کا خود ذمہ دار ہوں ‘ میرے خدا جب میری بنیاد ہی غلط رکھی گئی تو میں بلوغت میں کیسے دیندار بن جاتا، مگر خدایا میں اپنے والدین کی شکایت لے کر آیا ہوں کہ انہوں نے مجھ سے بے پناہ محبت کرنے کے باوجود مجھے کیوں گمراہیوں کے جنگل میں دھکیل دیا۔ جہاں سے نکلنا میرے لئے ناممکن نہ سہی دشوار ضرور تھا۔اہل علم میری اصلاح ضرور کریں۔

note

Share Button
loading...
loading...

About aqeel khan

loading...
Scroll To Top