شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / قرآن کی رو سے علم تاریخ کی اہمیت

قرآن کی رو سے علم تاریخ کی اہمیت

علم تو بنی نوع انسان کا سب سے قیمتی گہنہ ہے ہمارے نبیؐ کی ایک مشہور حدیث ہے کہ سچی بات کہیں سے بھی مل جائے اسے قبول کرنے میں تامل سے کام نہیں لینا چاہیے اور پھر تاریخ تو خواہ کسی قوم کسی ملت اور کسی بھی ملک دوستوں یا دشمنوں کی ہو اس میں ہماری نئی نسل کے لیے بڑی عبرتیں اور نشانیاں جمع ہیں۔یہ تاریخ ہی کا عمل ہے جس سے ہم کو پچھلی قوموں کی غلطیوں کوتاہیوں اور عروج و زوال کے اسباب کی وجوہ معلوم ہوتی ہیں۔قرآن پاک سے بڑا صحیفہ دانش وفکر اور رہنمائے صراط مستقیم اور کون ہے! اس کتاب الہی کا ورق ورق الٹیے تو یہ ماضی کی گم کردہ راہ قوموں جابر و قاہر بادشاہوں فرعون ہامانوں عادو ثمود اہل مدین قوم لوط بنی اسرائیل اور گمراہیوں کے قصے بار بار دہراتی ہے۔اور اس لیے دہراتی ہے کہ محمدعربیؐ کو رہنما و ہادی ماننے والی قوموں کی غلطیوں سے عبرت پکڑے اور سیدھی راہ پر چلنے کا سلیقہ سیکھے۔دنیا میں جتنے بھی علوم ہیں ان سے لوگوں کا تعلق محدود ہوتا ہے یہ صرف تاریخ کا ہی علم ہے جس سے ہر فرد کسی نہ کسی انداز میں وابستہ ہے۔ اسلام کے مطالعے سے اور قرآن حکیم کے ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ تاریخ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو از خود جنم لیتی ہے بلکہ تاریخ ایک خدائی عمل ہے۔قوموں کے عروج و زوال کی کیا وجوہ ہیں یہ ایک لمبی بحث ہے لیکن ہم اتنا ضرور کہیں گے کہ قوموں اور تہذیبوں کے عروج کی بنیاد چار چیزیں ہیں۔اور تاریخ کا مطالعہ کرنے سے ہر شخص اس نتیجے پر پہنچ سکتا ہے خود قرآن حکیم سے بھی اس کا سراغ ملتا ہے۔پہلی بات یہ ہے کہ جس قوم کو بھی تاریخ میں عروج حاصل ہوتا ہیاور جو قوم پائیدار نقوش تاریخ کے صحرا میں چھوڑ جاتی ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ اسے اپنے مقصد سے عشق ہواس کے سامنے کوئی متعین نصب العین ہواور یقین وایمان کی دولت سے مالا مال ہواس میں قربانی کا جذبہ ہو۔ اگر ایک قوم یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ ایمان رکھتی ہے لیکن وہ ایمان عمل کے سانچے میں نہیں ڈھلتا تو وہ ایمان راسخ نہ تھا وہ یقین پختہ نہ تھا وہ مقصد گہرا نہ تھا وہ دل میں بیٹھا نہ تھا اس لیے وہ عمل کا رنگ اختیار نہیں کر سکا۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ مقصد کا بیج دل میں بویا جائے اور اس عمل کا شجر بارآور نہ ہو۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ مقصد کی بنیاد رکھی جائے اور اس پر کوئی عمارت نظر نہ آئے یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ مقصد اور ایمان کا پھول دامن میں ہو اور وہ خوشبو عمل کی صورت میں نہ دے یہ دونوں باتیں سمجھ میں نہیں آسکتیں۔
اس کے بعد جو بات سامنے نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ ایسی عروج پانے والی قومیں اپنے یقین و عمل کے نتیجے میں حاصل ہونے والی سچائیوں کو عام کرتی ہیں اپنی قوم کے افراد کو ایجوکیٹ کرتی ہیں ان کے دل میں بھی صحیح تڑپ پیدا کرتی ہیں اور پھر انہیں با عمل بھی بناتی ہیں ۔پھر اس راستے میں جو تکالیف و مشکلات آتی ہیں ان پر ثابت قدمی اور پامردی سے قائم رہتی ہیں اور ان کا قدم صراط مستقیم سے نہیں ہٹتا۔
جو باتیں ہم نے کہی ہیں قرآن حکیم نے بھی ان کو پیش کیا ہیقرآن مجید کی مشہور سورۃ جس میں اللہ نے کہا ہے والعصر زمانے کی قسم اور یہ شہادت کے طور پر کھائی ہے کہ زمانہ گواہ ہے اور زمانہ تاریخ ہے یعنی کہ تاریخ گواہ ہے اس کو تقویت اس بات سے بھی ملتی ہے کہ خدا کسی ایسی چیز کی قسم نہیں کھاتا جو مقدس نہ ہو۔خدا نے زمانے کی قسم کھانے کے بعد یہ حقیقت بیان فرمائی ہے کہ یقیناًانسان خسارے میں ہے ان لوگوں کے سوا جو ایمان لائے اور صالح عمل کرتے رہے اور جنہوں نے حق کی وصیت کی اور صبر کی وصیت کی اور صبر کی بات عام کی۔
بد قسمتی سے ہمارے ہاں صبر کا رائج الوقت مفہوم بے چارگی اور بے بسی ہے یہ صبر نہیں ہے کہ انسان بے بسی اور بے کسی کو صبر کا نام دے۔ بلکہ قرآنی مفہوم میں صبر مقادمت پا مردی استقامت اور مقصد کی راہ میں آنے والے تمام مصائب کا پا مردی کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے اپنے رستے پر قائم رہنا ہے یہ ساری باتیں صبر کے مفہوم یں شامل ہیں۔صبر اصل میں اس جوہر کا نام ہے کہ انسان ہزار مشکلوں مصیبتوں و تکلیفوں کے ہجوم میں بھی اپنے رستے سے نہ بھٹکے اپنے مقصد کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے اور جو اس کا عقیدہ ہے اس سے رو گردانی نہ کرے۔یہ تاریخ کا سبق ہے کہ تاریخ میں ایسی قوموں کو عروج حاصل ہوا ہے جو صبر ضبط اور عزم و عمل سے متصف تھیں۔ وہ قومیں جنہوں نے انسانیت کے لیے نفع بخش کام کیے وہ دنیا میں اوپر اٹھتی ہیں اور ان کا وجود باقی رہتا ہیوہ غیر معمولی عروج پاتی ہیں۔ لیکن جب وہ ایسے کام کرتی ہیں جو انسانیت کے لیے ضرر رساں ہوتے ہیں تو وہ زوال کا شکار ہو جاتی ہیں اور زوال کا آغاز عام طور پر ہر قوم کے خوش حال طبقات سے ہوتا ہے جو سرمایہ دار ہوتے ہیں ان لوگوں کی خرابیوں سے قوم مائل بہ زوال ہونے لگتی ہے۔ان لوگوں کے فسق و فجور اور گناہوں کیوجہ سے اور خدا کی مقرر کردہ حدوں کو توڑ دینے کی وجہ سے تباہی انکا مقدر بن جاتی ہے۔قرآن میں جگہ جگہ بیان فرمایا گیا ہے کہ کسی قوم کے زوال کے سبب اسکی زیادتیاں اور مظالم ہوتے ہیں۔ظالم کی حکومت کو دوام حاصل نہیں ہو سکتا۔
یہ سارے عروج و زوال جو کائنات میں نظر آتے ہیں یہ بے سبب نہیں ہیں یہ کسی قدرت اور کسی کی منصوبہ بندی کے بغیر سامنے نہیں آ رہے بلکہ ایک منصوبہ بنانے والی عظیم طاقت کے زیر اثر ہیں۔یہ وقت کا فیصلہ ہے ۔یہ تاریخ کا فیصلہ ہے۔ یہ خدا کا فیصلہ ہے۔کہ یہ ظالمانہ نظام تہو بالا ہو جائے ۔یہ استحصال پرستانہ معاشرہ دنیا میں جہاں کہیں بھی ہے ختم ہو جائے اور اس کی بجائے ایسا معاشرہ قائم ہو جو انصاف پر مبنی ہو عدل پر قائم ہو۔جس کے اندر لوگوں کی ضروریات عزت سے پوری ہوں جس کے اندر کوئی استحصال کرنے والا نہ ہو۔اٹھارویں اور انیسویں صدی کے اندر استحصالی قوتیں حد سے تجاوز کر گئی تھیں اور خدا کی کمزور مخلوق سرمایہ داری اور جاگیر داری کے مسلسل مظالم سے بری طرح تنگ آ چکی تھی ۔یہ بھی تاریخ کا ایک نا گزیر عمل تھا کہ سوشلزم کی تحریک بڑھی اور پھلی پھولی تا کہ سرمایہ داری اور جاگیرداری کے ظالمانہ نظام کی بنیادیں اکھڑجائیں۔
اور ہمارا تو یہ دعویٰ ہے کہ جو قوم بھی خدا کی اس تقدیر کا مقابلہ کرے گی ۔خدا کی اس آواز کے آگے رکاوٹیں کھڑی کرے گی ۔ تاریخ کی رفتار کا منہ موڑنا چاہے گی۔تاریخ کے پاؤں میں بیڑیاں ڈالنے کی کوشش کرے گی وقت کے دھارے سے نبر آزما ہو گی وہ خس و خاشاک کی طرح بہ جائے گی اور اس کائنات کے اندر کبھی عروج نہ پا سکے گی۔یہ قدرت کا نظام ہے جسکو اب کوئی طاقت مٹا نہیں سکتی۔
آدمیت وانسانیت کو اب آگے بڑھنا ہے اور اس منزل کی سمت سفر پیما ہونا ہے جسے اسلام آخری منزل قرار دیتا ہے اور جو موت کے بعد آنے والی زندگی تک لے جاتی ہے ایسی زندگی تک جہاں انسان کو جسم کی ضرورتوں کے ساتھ ساتھ روح کی ضرورتوں کا بھی احساس ہوتا ہے۔یہ زندگی بھی آئے گی اور یہ دور بھی آئے گا۔۔
خدا کرے کہ ہم مسلمان اس قابل ہو سکیں کہ سب سے پہلے موجودہ دور کے تقاضوں کا ساتھ دیں اپنے معاشرے میں عدل وانصاف قائم کریں اور اس کا رستہ فضول روکنے کی کوشش نہ کریں پھر ہم کائنات کے اس ارتقائی سفر کو اس مقام پر لے آئیں گے جہاں سے اسلام دوسری دنیا کی رہنمائی کرتا ہے۔

error: Content is Protected!!