شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / جنرل راحیل شریف کے بعد۔۔۔
loading...
جنرل راحیل شریف کے بعد۔۔۔

جنرل راحیل شریف کے بعد۔۔۔

javidپاکستان دنیا میں اُن چند ممالک کی فہرست میں شامل ہے جس کی افواج کی صلاحیت و قابلیت صف اول میں شمار کی جاتی ہے ، پاکستانی افواج کی جرات مندی، بہادری، نڈر، بےباکی اورمہارت کا جادو دنیا بھر میں مشہور ہے، یہی وجہ ہے کہ مسلم ممالک مین واحد ایٹمی طاقت کا حامل ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ ایٹمی صلاحیت کو جدید خطوط پر استوار کیا ہے، پاکستان کے دشمن ممالک مشرق کی جانب بھارت اور مغرب کی جانب افغانستان واقع ہیں جبکہ شمال کی جانب چین پاکستان کا مخلص دوست ملک ہے۔پاکستان کو بیرون ممالک بھارت اور افغانستان کے ذریعے کئی سالوں سے دہشتگردی کا سامنا ہے ، بھارت افغانستان کی زمین سے پاکستان کے اندورنی معاملات کو مستقل بنیادوں پر دخل اندازی کرتا چلا آرہا ہے ، بھارتی خفیہ ایجنسی را کے کئی کارندے گرفتار بھی کیئے ، دوسری جانب پاکستان کے اندرونی سیاسی و معاشی حالات کی بگاڑ سے بھارت اور افغانستان نے بہت زیادہ فائدہ اٹھایا، ان دونوں ممالک کے پس پشت امریکی آشیر وار رہا ہے ، سابق جنرل پرویز مشرف نے دہشت گردی کے خلاف آپریشن کیئےپھر جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بھی دہشت گردوں کےخلاف آپریشن کیئے، اشفاق کیانی کے بعد افواج پاکستان کے نہایت نڈر اور پروفیشنل آفیسر جنرل راحیل شریف نے کمان سنبھالی، جنرل راحیل شریف نے آپریشن ضرب عضب شروع کیا، آپریشن ضرب عضب میں پاک آرمی، پاک فضائیہ اور پاک نیوی نے بھی اپنی اپنی خدمات پیش کیں، ایک اندازے کے مطابق آپریشن ضرب عضب میں پچاس ہزار سے زائد ہمارے فوجی جوانوں نے جوم شہادت نوش فرمائی ہیں لیکن اُن کی ان قربانیون کا ثمر یہ ٓایا کہ کراچی سمیت وزیرستان اور بالائی علاقوں نے دہشت گردوں کا قلع قمع ہوگیا ہے، چند ایک چیدہ چیدہ وہ عناصر ہیں جن کی اب کی سہولیت کارون اور معاون کاروں کا ہاتھ ہے جب تک افواج پاکستان بلا تفریق سہولت و معاون کاروں کا بھی خاتمہ نہیں کریگی اُس وقت تک پائیدار امن نصیب نہیں ہوگا۔ کراچی کے امن کیلئے ڈی جی رینجرزمیجر جنرل بلال اکبر کی خدمات کو خراج تحسین پیش نہ کیا جائے
 تو یہ نا انصافی کے مترادف ہوگا ، میجر جنرل بلال اکبر نے بھی کراچی میں رینجرز اہلکاروں سے دہشت گردی، بے امنی، لوٹ مار، اسٹریٹ کرائم جیسے جرائم کے خاتمے کیلئے بھرپور آپریشن کیئے، کراچی میں کالعدم تنظیموں کے کارندوں کی گرفتاری اور ان کی سرگرمیوں کو بلاک کیا، سیاسی جماعتوں کے اندر پائے جانے والے عسکری ونگ کا بھی خاتمہ کیا، ان تمام آپریشن کو آپریشن ضرب عضب کا ذیلی آپریشن قرار دیا گیا ہے ، انتیس نومبر سن دو ہزار سولہ بروز منگل کو جنرل راحیل شریف اپنے منصب سے سبکدوش ہوجائیں گے ، آج بروز ہفتہ چھبیس نومبر دو ہزار سولہ کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کی ایڈوائس پر صدر پاکستان ممنون حسین نے لیفٹننٹ جنرل زبیر محمود حیات اور لیفٹننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کو جنرل کے عہدے پر ترقی دینے کی منظوری دے دی ، ترقی کے بعد جنرل زبیر محمود حیات کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مقرر اور جنرل قمر جاوید باجوہ کو آرمی چیف مقررکردیا۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے متعلق تفصیلات میں اپنے معزز قائرین کی خدمت میں پیش کرتا ہوں ۔۔۔۔!! جنرل قمر جاوید باجوہ نے 24 اکتوبر 1980 میں پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا، جنرل قمر کا تعلق 16 بلوچ رجمنٹ سے ہیں، جنرل قمر جاوید کینیڈین فورسز کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کے گریجویٹ ہیں، جنرل قمر نیول پوسٹ گریجویٹ یونیورسٹی مونٹری کیلی فورنیا کے امریکہ کے فارغ التحصیل ہیں ،جنرل قمر نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے بھی گریجویٹ ہیں، جنرل قمر انفنٹری اسکول میں انسٹرکٹر کے فرائض انجام دے چکے ہیں، جنرل قمر کورکمانڈر روالپنڈی کے فرائض بھی انجام دے چکےہیں،جنرل قمر اس وقت انسپکٹر جنرل ٹریننگ کے فرائض انجام  دے چکے ہیں۔۔۔!!جنرل زبیر حیات بھی ایک بہترین پروفیشنل آرمی آفیسر ہیں، جنرل زبیر محمود حیات نے 24 اکتوبر 1980میں فوج میں کمیشن کیا، جنرل زبیر محمود حیات کا تعلق آرٹلری رجمنٹ سے ہیں، جنرل زبیر محمود حیات فورڈ سل اوکلوہامہ امریکہ سے فارغ التحصیل ہے، انہوں نے کمانڈ اینڈٖ اسٹاف کیمبرلے یو کے سے ڈگری حاصل کی ، جنرل زبیر محمود حیات نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے بھی گریجویٹ ہیں، جنرل زبیر کو کمانڈ اسٹاف اور انسٹریکشنل پوسٹوں پر کام کا وسیع تجربہ ہے، جنرل زبیر بطور بریگیڈیر انفنٹری ڈویژن کی قیادت کر چکے ہیں، جنرل زبیر ہاکستان ایمبیسی یو کے میں ڈٖیفنس اتاشی بھی رہ چکے ہیں،جنرل زبیر ایک کور کے چیف آف اسٹاف بھی رہیں، جنرل زبیر ڈائریکٹر جنرل اسٹرٹیجک پلان ڈویژن کے بھی فرائض انجام دے چکے ہیں، جنرل زبیر نے کور کمانڈ بہاولپور کے بھی خدمات انجام دیے ہیں، اسلام آباد: جنرل زبیر محمود حیات نے 24 اکتوبر 1980میں فوج میں کمیشن کیا، جنرل زبیر محمود حیات کا تعلق آرٹلری رجمنٹ سے ہیں، جنرل زبیر محمود حیات فورڈ سل اوکلوہامہ امریکہ سے فارغ التحصیل ہے، انہوں نے کمانڈ اینڈٖ اسٹاف کیمبرلے یو کے سے ڈگری حاصل کی ، جنرل زبیر محمود حیات نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے بھی گریجویٹ ہیں، جنرل زبیر کو کمانڈ اسٹاف اور انسٹریکشنل پوسٹوں پر کام کا وسیع تجربہ ہے، جنرل زبیر بطور بریگیڈیر انفنٹری ڈویژن کی قیادت کر چکے ہیں، جنرل زبیر ہاکستان ایمبیسی یو کے میں ڈٖیفنس اتاشی بھی رہ چکے ہیں،
جنرل زبیر ایک کور کے چیف آف اسٹاف بھی رہیں، جنرل زبیر ڈائریکٹر جنرل اسٹرٹیجک پلان ڈویژن کے بھی فرائض انجام دے چکے ہیں، جنرل زبیر نے کور کمانڈ بہاولپور کے بھی خدمات انجام دیے ہیں۔۔۔!!جنرل قمرجاویدباجوہ نے اپنی تقرری کے بعدآرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی،آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے جنرل قمرباجوہ کونامزدگی پرمبارکباددی،ملاقات میں پیشہ ورانہ اورباہمی امورپرتبادلہ خیال کیاگیا۔۔۔!!جنرل قمر جاوید باجوہ کی آرمی چیف تقرر پر  میئر کراچی وسیم اختر نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو آرمی چیف بننے پر مبارکباد پیش کی ، میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ جنرل قمر باجوہ پر پورے یقین ہے کہ ملک میں امن کی بحالی میں تیزی لائیں گے، جنرل زبیر محمود حیات کو جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی بننے پربھی مبارکباد پیش کی جبکہ میئر کراچی وسیم اختر نے جنرل راحیل شریف کو انکی خدمات پر خراج تحسین پیش کیا ، میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ جنرل راحیل شریف کو پاکستان کی تاریخ میں سنہرے حروف میں یاد رکھا جائے گا۔۔پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما اور قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر خورشیدشاہ نے کہا کہ راحیل شریف جیسے چندہی آرمی چیف رہےجنہوں نےاپنی مدت ملازمت پوری کی اورایسےچندآرمی چیف تھےجنہوں نےمدت ملازمت میں توسیع نہیں لی،خورشیدشاہ نے کہا کہ جنرل راحیل شریف نےدہشت گردی کیخلاف میں کرداراداکیا،پاک فوج نےدہشت گردی کیخلاف نمایاں اوربہترین جنگ لڑی،آپریشن ضرب عضب کی مثال دنیامیں کہیں نہیں ملتی،اپوزیشن لیڈرخورشیدشاہ نے کہا کہ سیاستدان اورفوج ایک ہی پیج پرہوتےہیں،سیاستدان کااپنااورفوج کااپنارول ہوتاہے،موجودہ صورتحال میں پاکستان کےلیےکام کرنےکی ضرورت ہے،یہ تاثرغلط ہےکہ فارن پالیسی فوج دیتی ہے،ایساکچھ نہیں ہے،فارن پالیسی
سیاستدان دیتےہیں،وزیرخارجہ کاتقرروزیراعظم کاکام ہے،حکومت کےپاس ایڈوائزرہیں،فارن پالیسی پرکام ہونا چاہیئے۔۔۔،
 مصطفی کمال نے کہا کہ نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو مبارکباد پیش کر تا ہوں،امید ہے کہ نئے آرمی چیف دہشت گردی سمیت دیگر مسائل کو احسن طریقے سے حل کریں گے، انڈیا کا پاکستان کے خلا ف ہمیشہ منفی پروپیگنڈا رہا ہے، بھارت نہیں چاہتا کہ پاکستان میں ترقی ہو ، مصطفی کمال نے کہا کہ بھارت سی پیک کے خلاف سازشیں کر رہا ہے، جنرل راحیل شریف کے اقدامات قابل تعریف ہے، جنرل راحیل شریف نے ملک کی بقاء نے اچھے اقدامات اٹھائے۔۔، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی نئے آرمی چیف اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کو مبارکباد پیش کی ،انھوں نے کہا کہ نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پیشہ وارانہ صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔۔۔،وزیر اعظم ہاؤس میں وزیر اعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کے دوران جنرل زبیرمحمود حیات اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیراعظم کا شکریہ اداکیا،جنرل زبیرمحمود حیات ،جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ریاست پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے، انھوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج مادرِ وطن کے دفاع کی خاطر کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گی،سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا انتخاب خوش
آئند ہے ، جنرل قمر جاوید باجوہ کو پاکستان کا سپہ سالار منتخب ہونے پر مبارکباد دی،انھوں نے جوائنٹ چیف آف اسٹاف کے عہدے پر جنرل زبیر حیات کی تقرری پر بھی مبارکباد دی، ڈاکٹر عشرت العباد خان نےکہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی قیادت میں پاکستانی افواج کامیابیوں کی نئی مثال رقم کرے گی،انھوں نے کہا کہ جنرل راحیل شریف کی پاکستان کیلئے خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ،جنرل راحیل شریف نے جس عزم کے ساتھ ضرب عضب کو کامیابی سے ہمکنار کیا ہے وہ نہ صرف بے مثال بلکہ سب کیلئے قابل تقلید بھی ہے ،ڈاکٹر عشرت العباد خان نے نئی تقرریوں کو پاکستان کیلئے کامیابیوں کی ضمانت قراردیا۔۔۔، مریم نوازنے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ نئے آرمی چیف اور جوائنٹ چیف آف اسٹاف کو مبارکباد پیش کرتی ہوں،اللہ کریں پاکستان خوشحالی کی طرف جائے۔۔۔، سنی اتحاد کونسل  کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضانے جنرل قمر جاوید باجوہ کی بطور آرمی چیف نامزدگی کا خیر مقدم کیا، انھوں نے کہا کہ جنرل قمر باجوہ جنرل راحیل شریف کے بہترین نعم البدل ثابت ہو ں گے، قوم جنرل راحیل شریف کو عہد ساز خدمات پر سلام پیش کرتی ہے ۔۔۔، شاہ محمود قریشی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ میں جنرل زبیر حیات کو جوائنٹ چیف آف اسٹاف بننے پر مبارکباد پیش کر تا ہوں،  اہم قومی ذمہ داری سنبھالنے پر نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔۔۔، پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان  نے نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل زبیر محمود حیات کو مبارکباداور نیک خواہشات کا اظہار پیش کیا ۔۔۔،سابق صدر و جنرل پرویز مشرف نے ٹوئٹ کیا کہ میں جنرل زبیر حیات کو جوائنٹ چیف آف اسٹاف اور جنرل قمر جاوید باوجوہ کو آرمی چیف بننے پر مبارکباد پیش کر تا ہوں۔۔۔،نامزدآرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ کی پڑوسی ملک میں دھاکہ،سابق بھارتی آرمی چیف بکرم سنگھ بھی جنرل قمرباجوہ کی صلاحیتوں کےمعترف ہیں، جنرل(ر)بکرم سنگھ نے بھارتی نجی چینل کو این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ بھارت کوجنرل قمرجاویدباجوہ سےمحتاط رہناہوگا، جنرل قمرباجوہ کوایل اوسی،کشمیراورشمالی علاقوں کاوسیع تجربہ ہے، جنرل قمرجاویدباجوہ ایل اوسی کےتمام علاقوں سےبخوبی واقف ہیں،پاکستانی فوج کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، جنرل قمر جاوید باجوہ بیکرم سنگھ کی سربراہی میں اقوام متحدہ کے کانگو مشن میں کام کر چکےہیں۔۔۔،گجرانوالہ شہر میں جنرل قمرجاویدباجوہ کےآرمی چیف منتخب ہونےپران کےآبائی علاقے گھکھڑ میں مٹھائیاں تقسیم کی گئیں،جنرل قمرجاوید باجوہ کےاہل علاقہ دوستوں میں خوشی کی لہردوڑ گئی، جنرل قمر جاوید باجوہ کےچیف آرمی اسٹاف منتخب ہونےکےبعد ان کےدوستوں کی ان کےوالدکرنل محمداقبال باجوہ کی قبرپرحاضری اورفاتحہ خوانی کی۔۔!!پاکستانی عوام جنرل راحیل شریف کے بعدجنرل قمرباجوہ سے بہت امید لگائے بیٹھے ہیں، عوامی حلقوں میں چہمہ گوئیاں پھیل رہی ہیں کہ نئے چیف پاکستان کی سالمیت، بقا اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پہلے سے کہیں زیادہ عملی مظاہرہ پیش کرینگے اور جس طرح جنرل راحیل شریف نے پاک فوج کا مورل بلند کیا ہے اسے نہ صرف برقرار رکھیں گے بلکہ مزید بلند کرینگے۔
Share Button
loading...
loading...

About aqeel khan

loading...
Scroll To Top