شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / پا کستان کا روشن مستقبل
loading...
پا کستان کا روشن مستقبل

پا کستان کا روشن مستقبل

sohail warsiپا کستان کا مستقبل ایسا ہی ہو گا جیسے ہما رے سیا ست دان اقتدار کے لیے حر بے استعمال کر رہے ہیں ،، عوام ہے تو پر یشا ن کہ بنے گا کیا مگر ما یو س ہو نہیں سکتے ،ساتھ یہ بھی کہتے ہیں جیسے شا عر نے کہا
آ نسو بھی ہیں آ نکھوں میں دعا ئیں بھی ہیں لب پر
بگڑے ہو ئے حا لا ت سنو ر کیوں نہیں جا تےآ آ ج کل جو ہنگا می حا لا ت پیدا کیے جا رہے ہیں ، ہم جیسے جو یو رپ کے کسی حصے میں دن گزارتے ہیں ان کی خو اہش ہوتی ہے کہ جب بھی ٹی وی دیکھتے ہیں تو اپنے وطن عز یز کی طر ف سے اچھی خبر یں ہی سنے کو ملیں ،مگر ہز اروں خو اہشیں ایسی ،،،دو نو مبر کیلے حکومت اور اپوزیشن اپنی پو زیشن مضبو ط کر نے میں لگی ہے ، اسلام آ با د ، پنڈ ی کے لو گو ں کے لیے جو مشکلا ت پیدا ہو ہی ہیں ، قلق بے حد ، ان دنوں کے حالات بہت سے سوالات پیدا ہو تے ہیں ، پا کستانی ہو نے کے نا طے ، سوال ابھر تے ہیں ، ایک پر وفیسر صا حبہ کے سامنے سوال رکھا ، وہ ہیں سا ئیکو لو جی فیلڈ سے شا ہد ان کی با تو ں کی طر ف جلدی متو جہ ہو نا بھی یہ ایک وجہ ،سوال ، ان حا لا ت میں پا کستا ن کا مستقبل کیا ، تو جو اب ملا ای میل پڑ ھ لینا سمجھ آ جا ئے گی ، وہ ای میل قا رئین کی نظر ۔ پا کستان کا روشن مسقبل ایک خو اب یا حقیقت ، قا ئد اعظم نے بھی ایک علیحدہ وطن کا خواب یہی تو دیکھا تھا اور اس خواب کو حقیقت میں بد ل کر دکھا دیا اور روشن مستقبل کی ذ مہ داری ہما رے کا ند ھو ں پر ڈال تھی ، کیا ہم ذمہ داری ادا کر رہے ہیں ، ہم کیا ان تا ریکیوں سے پو ری طر ح نکل پا ئے ہیں ، جن سے نکلنے کی جد وجہد کا آ غاز قا ئد ملت نے کیا تھا ، جنہوں نے ایما ن ، اتحا د ، تنظیم کا نعر ہ بلند کر تے ہو ئے یکجا ن ہو جا نے کی تلقین کی تھی ، ہم تا ریکیوں میں کھو ئے ہو ئے ہیں ، ان تما م خو بیوں سے عا ری اند ھیر وں میں ڈبو ے ہو ئے ہیں ،لیکن چند ایک آ نکھیں ابھی بھی مستقبل کا خوا ب لیے اپنے ملک کو اند ھیروں سے نکا لنے کے لیے کو شا ں ہیں ، چند ایک دلوں پر ابھی بھی اند ھیر وں میں ڈوبے جا نے کا لرزہ طا ری ہے ، چند ایک ہا تھ ابھی بھی روشن راہوں کے را ستے ہمو ار کر نے کے لیے سر گرداں ہیں ، اسلام کے اصو لوں کو زند گیو ں پر وضع کر نا ہی روشن مستقبل کی دلیل ہے ۔ یہی وہ اصول ہیں جنہیں اپنا کر قو موں نے خو د کو اند ھیر وں سے نکا ل کر اپنے مستقبل خوشخا لی کی طر ف گا مز ن کئے ہیں ،جن سے قو موں کی تر قی کی راہیں ہمو ار ہو ئیں ۔
؂سچ وہ طا قت جو اخلا ق کو مالا مال کر دینے کی پہلی سیڑ ھی ہے ، وہ حقیقت جس نے قو موں کے اطوار بد ل دیے ایک دوسرے پر یقین کر نا سکھا دیا ، جس نے خو ان خرا بے سے نکل کر ایک دوسرے کا احترام کر نا سکھا دیا ، ہما رے معا شر ے میں جتنی بھی بد یا ں ہیں ، اور جتنے بھی بڑ ے مسا ئل ہیں ، ان کا آغا ز جھو ٹ سے ہو تا ہے ، ہم روز مر ہ کی زند گی میں چھو ٹے مو ٹے جھو ٹ بو لتے ہی ہیں پھر کیا تو قع کر یں کے ہما رے بڑ ے سچے راستے پر گا مز ن ہو ں گے ، معا شر تی جگہ جھو ٹ فسا د ، بے چینی ، اورانتشا ر کا با عث بنتا ہے ، اور اس عا دت سے چھٹکا را آ صل کر نے کے لیے اس سو چ کا اجا گر ہو نا ہی پا کستان کے روشن مستقبل کا ضا من بن سکتا ہے ، یہ ذ مہ داری تر بیت کے عمل سے شر وع ہو تی ہے ، مگر ہما رے ہاں الٹا حسا ب ہے یہاں مکمل طر یقے کے ساتھ جھو ٹ بو لنا سکھا یا جا تا ہے اور سنے والے میں بھی اتنا ظر ف اور ہمت نہیں ہو تی کہ وہ سا منے کہہ سکے کہ حقیقت کے خلا ف با ت کی جا رہی ہے ، برداشت بہت سے مسا ئل کا حل پیش کر تی ہے ، نظم و ضبط کا میا ب قو موں کی پہچا ن ہو ا کر تا ہے ، یہ ایسی طا قت ہے جو معا شر ے کے تمام افرا د کی قو توں کو منظم طر یق پر عمل پیرا ہو نے کا درس دیتی ہے ، کس کی بد ولت روزمر ہ کی ذمہ داریا ں اور ہر فر د کی جو سر کا ری ذ مہ داریا ں ہیں بہتر ین طر یق سے سر انجا م دی جا سکتی ہیں ، یہ ایسی طا قت ہے جو پو رے معا شر ے اور قو م کو ایک لڑ ی میں پڑو دیتی ہے ،
جن با توں کا ذ کر کیا گیا اب تو جہ کر تے ہیں کہ خا میاں ہیں ان کا اعتراف کر تے ہیں یا ہٹ دھر می پر قا ئم رہتے ہیں ، اگر ایسا ہی ہے تو پھر ہما رے معا شرے کا مستقبل ویسا ہو سکتا جیسے ہما رے قا ئد ملت نے سو چا تھا اور ہمیں ما حو ل فرا ہم کر نے کے ساتھ ایک مکمل ریا ست بنا کر دی تھی ، جھو ٹ ، بد انتظا می ، بد اخلا قی ، کر دار کشی ، ذا تی مفا د ، کیا یہ وہ وجو ہا ت نہیں ہیں جن کو ہم نے اپنے اندرجگہ دے کر زوال کے راستے کا انتخا ب کیا اور با قی تر قی یا فتہ معا شر ے ان بیما ریوں سے نجا ت پا کر کا میا ب اور کا مرانی کے را ستے پر گا مز ن ہیں ،
ملکی حا لا ت ہما رے سیا ست دانوں کے رحم کر م پر چلتا ہے ، ان میں جب ذا تی مفا د کی آ گ بھڑ کتی ہے تو پھر بہت سی عز تیں خا ک میں ملتی ہیں ، قیمتی جا نیں ضا ئع ہو تی ہیں ، ابھی کل ہی ایک ننھا معصو م بچہ دنیا میں آ یا تو تھا لیکن اس کو معلوم نہیں تھا کہ و ہاقتدار کی جنگ کی بھنت چڑ ھ جا ئے گا ، تر قی کی با تیں کر نے والے ، ان میں سچا ئی کتنی ، صر ف ایک با ت سے اندازہ لگا یا جا سکتا کہ آ ئے دن ٹاک شو میں جو زبا ن استعمال ہو تی ہے کیا یہ لو گ ہما رے معا شر ے کی پہچان بن کر تر قی کے رستے پر گا مزن کر یں گے ،ہر گز یز نہیں ،امید با قی رکھنی ہے ، قدرت جب راستہ نکلا لتی ہے تو ، بڑ ے عظیم لو گ آ تے ہیں ، نئے خیال ت شےئر ہو تے ہیں ، سلسلہ بے شک ایک پر وفیسر سے ہی کیو ں نہ شر وع ہو ، قو میں تا ریخ رقم کر چکی ہیں کہ بہتری کے راستے پر کو ئی ایک چلا تو کا روان بنتے جا تے ہیں ۔
پا کستان کا مستقبل ایسا ہی ہو گا جیسے ہما رے سیا ست دان اقتدار کے لیے حر بے استعمال کر رہے ہیں ،، عوام ہے تو پر یشا ن کہ بنے گا کیا مگر ما یو س ہو نہیں سکتے ،ساتھ یہ بھی کہتے ہیں جیسے شا عر نے کہا
آ نسو بھی ہیں آ نکھوں میں دعا ئیں بھی ہیں لب پر
بگڑے ہو ئے حا لا ت سنو ر کیوں نہیں جا تے

note

Share Button
loading...
loading...

About aqeel khan

loading...
Scroll To Top