شہ سرخیاں
Home / ساحر قریشی / ’’بتی چوک وی بتی کوئی نئیں‘‘

’’بتی چوک وی بتی کوئی نئیں‘‘

بتی چوک وی بتی کو ئی نئیں
حکومت نوں غیرت رتی کوئی نئیں
انھی پے گئی چارچوفیرے
دھندمہنگائی دی لتھی کوئی نئیں
چائ دا گھٹ ویلے انج بھریا
ددھ ہے تے پتی کوئی نئیں
سرکاری ٹوٹی پئی سیٹیاں مارے
نلکے نال وی ہتھی کوئی نئیں
ایتھے ماڑے دا کم کی ہوسی
ہتھ نوٹاں دی دتھی کوئی نئیں
جوٹھے پیرتے بابے ہرتھاں
اج کل جتی ستی کوئی نئیں
جنتی حور اوہدے گھرساحر
جس دی رن کپتی کوئی نئیں
صحافت ایک مسلسل امتحان ہے جو ہر لمحہ اور روزانہ آپ کو نہ صرف پاس کرنا پڑتا ہے بلکہ تلوار سے تیز دھار کہلانے والی اور تیر کمان سے نکل کر تیر کی مناسبت رکھنے والی خبر سے بھی نبرد آزما ہونا پڑتا ہے ۔صحافی قلم اٹھانے پر اس لئے مجبور ہوا کہ آج جو حال صحافت کا ہورہا ہے اگر یہی سلسلہ چلتا رہا تو آنے والے دنوں میں ریاست کا یہ چوتھا ستون تباہی کی طرف نہ صرف سفر طے کرے گا بلکہ اس میں بھی لوگ انقلاب کی باتیں کریں گے ۔ آج کے دور میں جب پاکستان میں صورتحال اس قسم کی ہے کہ ہر فرد صحافت کا لبادہ اوڑ ھ کر دوسرے کو اپنے زیر سایہ کرنے کی سوچ رکھتا ہے ۔صحافی کو بڑے طاقتور لوگوں کو ناراض کر کے جینا بھی پڑتا ہے ان کو سب سے بڑا امتحان اپنے ہی پیشہ کے ان دوستوں کے ہاتھوں دینا ہوتا ہے جو جونیئر کو آگے بڑھتا نہیں دیکھ سکتے اور ان ظالموں کا بڑے پن میں ساتھ دیتے ہیں جن کے ہاتھ نہ صرف اس قوم کی لوٹی ہوئی دولت سے رنگے ہوتے ہیں بلکہ اپنا وقت نکالنے میں یہ ماہر افسران تصور ہوتے ہیں ۔’’ میں بھی اسی کا شکار اپنے دوستوں سے ہوا ہوں لہٰذا کسی اور سے گلہ کیا۔۔۔!!‘‘روس کا عظیم ناول نگار لیوٹا لسٹائی جب اپنی تمام جائیداد بے زمین کسانوں میں بانٹنے کے بعد ریلوے اسٹیشن پر کسمپرسی کی حالت میں آخری سانسیں لے رہا تھا تو اسے کسی طعنہ دینے والے ایک شخص کو کیا خوبصورت بات کہی کہ ’’ایک انسان کو اپنی موت کو قریب پاکر آخر کتنی زمین کی ضرورت ہوتی ہے ۔صرف چھ گز ۔۔۔۔!!‘‘یہ تو مغربی مفکر کا قول تھا اس کائنات کی جان اللہ تعالیٰ کے رسول محمد ö کی تمام زندگی اس جیسی مثالوں سے بھری پڑی ہے ۔آپ (ص) اس وقت تک کھانا نہ کھاتے جب تک دوسروں میں کھانے کو بانٹ نہ لیتے ، خود پیٹ پر پتھر باندھا کرتے اور بھوک سے نڈھال صحابہ اکرام (رض) کو کھانا پیش کرتے ۔حضرت عمر کی مثال لیجئے دوران اقتدار لمبے کُڑتے کا بھی حساب دیا جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں اس معاشرے کا ہر تیسرا فرد آج اپنے کالے دھندے کو سفید ،اپنی کُرتوتوں کو معاشرے کی آنکھ بنانے پر لاکھوں روپے لگانے کو تیار ہیں ۔ ’’صحافی بلاشبہ معاشرے کی آنکھ ہیں مگر آج اس آنکھ کو 10نمبر کی عینک لگا کر سر عام اس کا سودا کیا جارہا ہے ۔ ‘‘ ملک بھر میں صحافیوں کی تعداد 11سے12ہزار بتائی جاتی ہے جن کے معاش کا مکمل انحصار صحافت پر ہے ۔ یہ وہ صحافی ہیں جو دفاتر میں ڈائریکٹ شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں ۔ مگر فیلڈ میں موجود وہ صحافی جو علاقائی سطح پر کام کر رہے ہیں ۔ ان کی تعداد کو شمار کرنا کافی مشکل کام ہے کیونکہ ہر تیسرا فرد کسی نہ کسی اخبار کا کارڈ ہاتھ میں لیے معاشرے میں اس عظیم پیشے کی خوب آتما رو ل رہا ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق 50فیصد وہ صحافی جو ڈائریکٹ اداروں کے تنخواہ دار ہیں اس وقت معاشی بدحالی کا شکار ہیں مگر دوسری طرف اداروں کو چھوٹے سے چھوٹے مسائل پر خبریں دینے والے وہ صحافی جو دن رات محنت کر کے اپنے مضافات کی خبریں اپنے اداروں کو بھیجتے ہیں مگر ان کا کوئی بھی پرسانِ حال نہیں ہے یہ لوگ بغیر کسی معاوضے کے خبر کو اس کی اصل اہمیت کے مطابق اداروں میں بھیجتے ہیں جس کے بعد ان کے ہاتھ تو کچھ نہیں لگتا مگر ادارے اس سے بہت کچھ کماتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہائی پوٹینشن اور ہائی بلڈ پریشر کے موزی امراض جو صحافیوں میں سب سے زیادہ پائے جاتے ہیں اور جو کسی بھی وقت جان لیوا ثابت ہوتے ہیں میں مبتلا ہونے کے باوجود لوگوں تک خبر پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں ۔ مگر اداروں تک خبر پہنچانے میں چاہے وہ خبر پرنٹ میڈیا کی ہو یا الیکٹرونک میڈیا کی 80سے90فیصد لوگ ایسے ہیں جو اپنی جنم کنڈلی پر چھائے ہوئے کرپشن ،بدعنوانی ،بلیک میلنگ اور سیاہ دولت کو سفید بنانے کے لئے ریاست کے چوتھے ستون کی چھائوں میں بیٹھ کر بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھونے کا دھندہ کر رہے ہیں ۔ علاقائی سطح پر اگر صحافیوں کی بات کی جائے تو شیخوپورہ کو سامنے رکھ کر بات کروں گا یہاں لگ بھگ 1ہزار کے قریب صحافی بھائیوں کی تعداد ہوگی جو مختلف اخبارات اور چینلز سے وابستہ ہیں ۔میرے نقطہ نظر کے مطابق ﴿اختلاف رائے کا قائرین کو حق حاصل ہے﴾ 4قسم کے لوگ شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں ۔اول طبقہ ان لوگوں کا ہے جن کے پاس خداکا دیا ہوا سب کچھ ہے مگر شوق صحافت نے اس میدان میں انہیں کودنے پر مجبور کیا ۔دوسرے وہ لوگ ہیں جو اپنی کسی نہ کسی کاروبار ی کرپشن کو چھپانے کے لئے صحافت کا جھنڈا اٹھائے میدان عمل میں ہیں ۔ اس کے بعد تیسری قسم ان افراد کی ہے جن کا اوڑھنا بچھونا صرف صحافت ہے ۔بس بند لفافے اٹھائے ، تھانے کچہریوں کی چودھراہٹ کی کسی نہ کسی محکمہ سے ٹیکہ لگایا اور عزت کے ساتھ خوب روزی کمائی اور اگر کوئی اس میں حائل ہوا وہی سب سے برا اور اس کا دشمن ہوگا چاہے وہ اسی شعبے کا اس کا اپنا ساتھی ہی کیوں نہ ہو ۔ چوتھا وہ طبقہ ہے جو پڑھا لکھا اور جستجو کرنے کا عادی ہے جو اگر ٹی وی یا اخبار سے منسلک ہوجاتا ہے تو پھر اس کی شامت آتی ہے کہ وہ خبریں لائے ، سٹوریاں چھاپے اور ا سکی سزا تمام صحافی برادری میں اس کا بائیکاٹ کر کے پریس کلب میں حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اس کی ممبر شپ تک بھی نہیں کی جاتی بلکہ صحافتی شعبے کے ٹھیکیداروںمیں یہ بدنام زمانہ کا تمغہ بھی وصول کرتا ہے ۔ اپنے اعمال کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہمیں آخر کیا چاہیے ’’صرف چھ گز زمین ۔۔۔!!‘‘سارا مال جو دنیا میں دونوں ہاتھوں سے لوٹا یہیں رہ جائے گا ہمیں کوئی یاد نہیں کرے گا یہاں تک کہ ہمارے اپنے ہی ہماری قبروں کو بھول جائیں گے خدا کے لئے صحافت کو زرد صحافت میں تبدیل مت کریں اس کے اصل وق

ار اور دبدبہ کو قائم رکھنا ہوگا ۔پاکستان میں صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون قرار دیا جاتا ہے مگر یہ عملاً چند افراد کے لئے ٹور ٹپے ، منفعت بخش کاروبار اور مقامی سطح پر سیاہ کو سفید کرنے کے علاوہ کچھ حیثیت رکھتا نظر نہیں آتا ۔میری اس رائے سے بعض لوگ اختلاف بھی کریں گے جو ان کا حق ہے مگر میرے دل کی آواز اور ضمیر کا بوجھ اس قلم کے ذریعے آپ تک پہنچانا میرا فرض تھا جو پورا کررہا ہوں ۔صحافیوں کو معاشرے کی آنکھ ،کان اور زبان بھی کہا جاتا ہے مگر معاشرے کی آنکھ کے دیکھے اور کان کے سنے ہوئے سچ کو سننے کی صلاحیت بہت کم لوگوں میں ہوتی ہے۔مگر دوستو!یاد رکھنا یہ سب حکمران اور افسران اسی کو حقیقی صحافت مانتے ہیں جو ان کی پسند ہو باقی سب زرد صحافت میں شمار ۔۔۔۔حالانکہ یہی لوگ نجی محفلوں میں ان حقائق کا اعتراف بھی کرتے ہیں مگر معاشرے کے سامنے اس سچ کو زرد صحافت کا نشان دیا جاتا ہے آج کے دور میں حضرت عمر (رض) کی طرح کڑا احتسا ب کرنے کے لئے ویسے ہی پاک صاف محتسب بھی درکار ہیں گند،بدبودار ،رشوت ، کمیشن خور اور بدیانتی سے لتھڑے ہوئے آج کے محتسب کس منہ سے احتساب کا نام لے سکتے ہیں بس اتنا یاد رکھیں کے ہمارے ہاتھ میں ریاست کے چوتھے ستون کو اٹھا رکھنے کی چابی ہے اور اس چابی کو چند سکوں اور جھوٹی حرام کی کمائی کو تحفظ دینے کے لئے مت بیچ دینا یہی صحافت کا اصل پیغام ہے ۔

x

Check Also

بے حس معاشرہ اور حکمران

یہ درست ہے کہ ہمارا ملک بے شمار مسائل میں گھرا ہے ...

Connect!