شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / سراپا احتجاج نجی تعلیمی شعبہ اور حکومتی ہٹ دھرمی
loading...
سراپا احتجاج نجی تعلیمی شعبہ اور حکومتی ہٹ دھرمی

سراپا احتجاج نجی تعلیمی شعبہ اور حکومتی ہٹ دھرمی

zafarخیبرپختونخواحکومت نے تعلیمی اداروں میں جماعت پنجم کاامتحان تعلیمی کے بورڈکے تحت لینے کافیصلہ کیاہے جبکہ نجی تعلیمی ادارے نہ صرف اس فیصلے پرشدید تحفظات ظاہرکررہے ہیں بلکہ نجی سکولوں کی متحدہ اورنمائندہ تنظیمیں پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک (پین)پرائیویٹ سکولز منیجمنٹ ایسوسی ایشن اوراسلامی نظامت تعلیم پاکستان نے سراپااحتجاج بن کراس اقدام کے خلاف باقاعدہ تحریک چلانے کاآغازبھی کرلیا ہے ۔نجی شعبہ کے مذکورہ تینوں نیٹ ورکس نے پشاورسمیت صوبہ کے تمام ڈویژنزمیں کنونشن منعقدکروانے سمیت وزیراعلیٰ پرویزخٹک اور دیگر حکومتی ذمہ داروں کے ساتھ ملاقات کرکے اس معاملے کوبھرپورقوت سے اٹھانے کی بھی سعی کی ہے دوسری جانب جماعت پنجم کے امتحانات تعلیمی بورڈکے تحت لئے جانے کے مجوزہ اقدامات کے خلاف نجی تعلیمی اداروں کے منتظمین کی جانب اسلامی نظامت تعلیم کے کنٹری ڈائریکٹر ہدایت خان کی سرکردگی میں مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے بھی کئے گئے۔اٹھتے اس سوال کے جواب میں کہ جماعت پنجم کا امتحان بورڈکے تحت لئے جانے میں آخر قباحت کیاہے پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک (پین) خیبرپختونخواکے جنرل سیکرٹری عطاء الرحمان ایڈووکیٹ کامؤقف یہ ہے کہ یہ اقدام اٹھانے سے قبل اگر تعلیمی ماہرین سے مشاورت کرکے اور چندسکولوں میں بطورپائلٹ پراجیکٹ اس کاتجربہ کیاجاتاتوفوائد اور نقائص برآمد ہونے کے بعد اسے سودمند قراردینے میں کوئی قباحت نہ ہوتی لیکن انہیں یقین ہے کہ ایسے کسی بھی تجربے کے نقائص ہی سامنے آئیں گے مگر باعث حیرت امرہے کہ اس کے باوجود حکومت نے اس نامناسب اقدام پر عملدرآمد کی ٹھان لی ہے۔عطاء الرحمان ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ اس فیصلے کوقابل عمل بنانے کی غرض سے اگرتعلیمی سال کے آغازپر انہیں اعتماد میں لیاجاتاتووہ تیس سے زائد منظورشدہ پبلشرزمیں سے کس پبلشر کی کتابوں کواپنے اداروں میں پڑھائیں بارے حکومت سے رہنمائی لیتے کیونکہ کتابوں کابغورمطالعہ کرنے سے ان میں تضادات کی واضح نشاندہی ہوتی ہے اوریہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ ہرپبلشرکی کتابیں دوسروں سے یکسرمختلف ہوتی ہیں۔ان کے مطابق اگر نجی تعلیمی اداروں کواعتماد میں لیاجاتاجوکہ بنیادی سٹیک ہولڈرزہونے کی حیثیت سے ان کاحق بھی ہے تو تعلیمی سیشن کے آغاز سے قبل نصاب کے انتخاب اوراس کی پڑھائی سے متعلق ان کی جانب سے بہترمنصوبہ بندی کے مشورے دیئے جاتے اورکوئی قابل عمل درمیانی راستہ نکالاجاتا لیکن بدقسمتی سے ایسانہیں کیاگیامگریہ امر حکومت سے تقاضاکرتاہے کہ نجی تعلیمی شعبے کوغیر ضروری مسائل ومشکلات میں الجھانے کی بجائے اسے پوری یکسوئی کے ساتھ کام کرنے دیاجائے کیونکہ انتظامی اور تعلیمی امورنمٹانے سمیت سیکورٹی مسائل میں پہلے سے منقسم یہ شعبہ مزید مسائل کاسامناکرنے کی سکت نہیں رکھتا۔پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک کے صوبائی جنرل سیکرٹری عطاء الرحمان ایڈووکیٹ کے مطابق نجی تعلیمی شعبہ سوال اٹھاتاہے کہ ستوری داپختونخوا پروگرام میں نجی تعلیمی اداروں کے طلباء کووظائف کی ریلیف سے محروم کیوں رکھاجاتاہے،آرپی ٹی پی سکیم میں پسندوناپسند کی پالیسی کیوں اپنائی جاتی ہے،پرائیویٹ تعلیمی ادارے غریب اورگلی کوچوں میں گھومتے پھرتے بے سہارابچوں کی تعلیم کا بندوبست کرنااپنافرض سمجھتے ہیں لیکن باعث تشویش امریہ ہے کہ خیبرپختونخواحکومت نے ’’تعلیم سب کے لئے‘‘کے اہم نکتے کوفراموش کیوں کیاجوکہ اس کے منشور کاحصہ بھی ہے،صوبائی وزیرتعلیم نے یہ فیصلہ لیتے وقت معصوم بچوں کے ذہنوں پر اس کے پڑنے والے برے اثرات اور دیگرنقصان دہ کیفیات کومدنظرکیوں نہیں رکھا،حقائق کونظراندازکرکے اورنجی تعلیمی اداروں کے منتظمین کامؤقف سنے بغیرعجلت میں یہ اقدام کیوں اٹھاگیااور اس کی تمام پہلووں کاباریک بینی اور مشاور کے تحت جائزہ کیوں نہیں لیاگیا،عطاء الرحمان ایڈووکیٹ کامؤقف یہ بھی ہے کہ اگرمتعلقہ جملہ امورکاتفصیلی جائزہ لینے اور ماہرین تعلیم پر مشتمل کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کوئی فیصلہ لیاجاتاجس میں تمام سٹیک ہولڈرکی باہمی مشاورت بھی شامل ہوتی توایسافیصلہ سب کو قابل قبول ہوتااوراس پر عملدرآمد کرانے میں بھی کوئی رکاؤٹ نہ ہوتی اور تعلیمی نظام سمیت اجتماعی معاشرہ پر اس کے انتہائی مثبت نتائج بھی مرتب ہوتے لیکن ان تمام محرکات کو پس پشت ڈال کرلیا گیاغیرضروری اوربلاجواز فیصلہ نجی تعلیمی شعبے کے منتظمین جوپہلے سے شدید کوفت کے شکارہیں کے لئے مزید ہراساں کرنے کافیصلہ ثابت ہواہے حالانکہ فروغ تعلیم کے لئے ناقابل فراموش بے لوث خدمات دینے پرنجی تعلیمی شعبہ حوصلہ افزائی کامستحق ہے اورتقاضاکرتا ہے کہ اس شعبے کوجملہ ٹیکسوں کی چھوٹ دے کراسے سوشل سیکٹر کادرجہ دیاجائے۔عطاء الرحمان ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ نجی تعلیمی شعبہ نونہالانِ قوم کو زیورتعلیم سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہزاروں لوگوں کوروزگاربھی فراہم کررہاہے اور نجی تعلیمی ادارے بناء کسی حکومتی امدادکے اپنے تمام اخراجات بچوں کی فیسوں سے پوراکرتے ہیں جبکہ ماہرین تعلیم کے ذریعے تدریسی عملہ کی تربیت کی غرض سے ورکشاپس کاانعقاد ، مختلف مدوں میں حکومت کوٹیکسوں،ای اوبی آئی اورتعلیمی بورڈزکورجسٹریشن اورری نیول فیس کی مدمیں حکومت کوبھاری رقوم کی آدائیگی بھی کرتے ہیں مگروجودرکھتے ان تمام حقائق کے باوجودحکومتی اورسرکاری حکام نجی تعلیمی اداروں کے ساتھ نامناسب رویہ رکھتے ہیں جبکہ اس شعبے کے لئے قانون سازی کرنے سے قبل سٹیک ہولڈرزہونے کے باوجود نجی اداروں کے منتظمین کو آگاہ کیاجاتاہے نہ ہی ان کامؤقف سنا جاتاہے جوکہ سراسرمبنی برظلم طرزعمل ہے جس کے باعث نجی تعلیمی شعبہ کے منتظمین اوراس سے وابستہ تمام لوگوں میں شدید تشویش اور بے چینی کی لہردوڑرہی ہے۔قطع نظراس کے کہ جماعت پنجم کاامتحان تعلیمی بورڈکے تحت لئے جانے کے فوائد اور نقائص کیاہیں تاہم بلاشبہ یہ بات قابل غورہے کہ خیبرپختو نخوا میں قائم میرٹ کی بالادستی اورتبدیلی کی دعویدارحکومت نجی تعلیمی شعبہ کے لئے پالیسیاں وضع کرنے سے قبل اس شعبے سے وابستہ لوگوں کے ساتھ مشاورت کرکے انہیں اعتماد میں لینے ،ان کامؤقف سننے اورانہیں حقائق کی بنیادپر آگاہ کرنے پر توجہ دیں بصورت دیگر اٹھتے سوالات اور گن گرجتے احتجاج کے تناظرمیں کئے گئے کسی بھی فیصلے کانتیجہ’’ کھوداپہاڑنکلاچوہاثابت ہوگا‘‘۔

note

Share Button
loading...
loading...

About aqeel khan

loading...
Scroll To Top