شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / سائنسی اورصنعتی تحقیق کےلےٗ مربوط منصوبہ بندی کی ضرورت ہے

سائنسی اورصنعتی تحقیق کےلےٗ مربوط منصوبہ بندی کی ضرورت ہے

پر وشیا کے با دشا ہو ں نے اپنے دور میں یو رب کی معتوب اقلیتوں کو پنا ہ دی جس نے ایک جدید معا شرے کی بنیاد پر علم و دانش کو فروغ دیا ۔ برلن میں سا ئنسی اور تعلیمی ادارے قا ئم کر کے جو مشعل روشن کی اس سے علم کا اجالا شہر کی حدود کے با ہر بھی پھلا اور یکے بعد دیگر ے ادارے قائم ہو تے چلے گئے ۔ 1700 ء میں گو لفریڈولہم نے اکیڈمی آف سا ئنس قا ئم کی ۔1810ء میں بر لن یو نیو رسٹی وجو د میں آئی جو جدید یو نیورسٹی کا پہلا نمو نہ تھی اسطر ح لو ٹن بو رگ ٹیکنکل یونیو رسٹی کے علا وہ فروغ سائنس کی قصر و علم کی سوسا ئٹی اور دیگر اداروں کا قیا م عمل میں آیا ۔
پہلی جنگ عظیم سے بہت پہلے برلن میں سائنسی تر قی کے نتیجے میں جدید صنعتی مملکت کی بنیا د رکھی جا چکی تھی اور یہ عمل بعد میں بھی جا رہی رہا ۔ دوسری عالمی جنگ میں شکست نے جرمنی کی سائنسی ترقی پر بہت برا اثر ڈالا مگر اس کے با وجود بھی سائنسی اور تعلیمی نظا م کو ازسرنومربوط منظم کر نے کی کوشش کی گئی تا کہ ان شعبوں کا بین الا اقوامی سطح پر مقابلہ کیا جا سکے اس وقت وفا قی جمہوریہ جرمنی میں تحقیقی تر قی پر خصوصی پیداوار کاتقریبا 300فیصد خرچ ہورہا ہے اور سرسر ی اندازے کے مطابق یہ شرح اس رقم کے مساوی ہے جو جاپان اور امریکہ تحقیقی ترقی پر حرچ کرتے ہیں لیکن اگر اعداد وشما ر کا درست جائز ہ لیا جائے تو پھر جو صورتحا ل واضح ہو تی ہے وہ یہ ہے ہے کہ ان ملکو ں کی آبا دی زیادہ ہے اور ان کے اقتصادی مسا ئل بی مقا بلتًا بہت زیا دہ ہیں ۔ جاپا ن کی تحقیقی صلاحیت جر منی سے زیا دہ ہے اور اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان ملکو ں کی آبادی اور اقتصادی وسائل کہیں زیادہ ہیں ۔جاپا ن کی تحقیقی صلاحیت جرمنی سے تقریباًدوگنی ہے اور امریکہ کی صلا حیت سے پا نچ گنا ہے لیکن صنعتو ں کے مقا بلے کی صلاحیت صرف تحقیق کی وجہ سے نہیں بڑ ھی۔ 1986 ء کے سروے سے ظا ہر ہو تا ہے کہ اگر جرمن معیشت کی برآمدی کا رکر دگی اور کا میابیوں کو مدنظر رکھا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ ٹیکنا لو جی کی منڈی کے مقا بلے میں جرمنی کی پو زیشن خا صی مضبوط ہے ۔ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے فر سو دہ سا ئنسی اورتعلیمی نصا ب کو تبدیل کر کے تر قی یا فتہ نہ سہی تر قی پزیر ممالک کی ہی دوڑ میں شامل ہو جا نا چا ہئیے کیو نکہ ہم تر قی پزیر مما لک کی صفوں میں بھی ابھی تک شامل نہین ہو پائے ۔ ہما ر ے یہا ں اول تو شر خ خواند گی بہت ہی کم ہے پھر جو بچے پڑھتے ہیں انکا زیا دہ تررجحا ن آرٹس مضا مین کی طرف رہتا ہے لیکن جو تھو ڑے بہت طلباء سائنس پڑھنا چا ہتے ہیں انکا نصا ب اتنا نا قص ہو تا ہے کہ سا ئنسی مید ا ن میں ہما را گریجو ایت اتنی معلو ما ت نہیں رکھتا جتنا کہ تر قی یا فتہ ممالک کا بچہ رکھتا ہے ۔ ہما رہ موجودہ نصا ب تعلیم بہت ہی پرانا ہے اور اس میں سا ئنس کی جدید تحقیقا ت شامل نہیں ہیں ۔ سا ئنس ایک ا یسا وسیع میدان ہے جس میں آئے روز نت نئی تحقیقا ت سا منے آتی رہتی ہیں اگر کوئی قوم صرفِ نظر کرتی ہے تو وہ صدیو ں پیچھے رہ جا تی ہے ۔تر قی یا فتہ اقوام ہم سے پہلے ہی صدیوں آگے ہیں لیکن ہما رے غیر معیا ری اور فر سو د ہ نصا ب کے سبب یہ فا صلہ سا ل بہ سال بڑھتا ہی جا رہا ہے ۔ لہذا یہ اشد ضروری ہے کہ اپنے یہاں سائنسی اور تعلیمی نصا ب کو جدید بنا کر یہ فا صلے کم کرنے کی سعی و کوشش کی جا ئے ۔ اس سلسلے میں سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات اور فیصلوں کی ضرورت ہو گی ۔ بین الا اقوامی سرد مہری کے باعث ملک عزیز کو ان گنت معاشی و اقتصادی مسائل کا شکار ہونا پڑ رہا ہے ۔ اس پر مستزادیہ کہ دہشتگردی کے واقعات کے باعث ہونے والے کھربوں روپے کے مالیاتی نقصان سے بھی ملکی اقتصادی نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے ۔ مزید یہ کہ ہمارا جمہوری نظام بھی بہت مہنگا ہے اس پر اٹھنے والے اخراجات بھی غربت میں اضافہ کا سبب بن رہے ہیں اور ہم قرض لے کر ڈوبتی ناؤ کو بچانے کی ناکام تگ و دو کرنے میں مصروف ہیں ۔ اس سے بڑھ کر اور کیا بد قسمتی ہو سکتی ہے کہ ہماری یونیورسٹیاں اور بڑے بڑے تحقیقاتی ادارے فنڈز نا ہونے کے باعث اپنی موت مرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ ان حالات میں ہمیں کڑوے فیصلے کرنا ہوں گے اور سائنسی و ٹیکنیکل تعلیمی سر گرمیوں کو جدید بنانے کے لیے جمہوریت پر خرچ ہونے والے بھاری اخراجات کو کم کرنا ہو گا اور بجٹ کٹوتی نظام سے ان اداروں کو بچانا ہو گا اور ان اداروں کو مربوط انداز دینے کے لیے نجی صنعتی اداروں سے تعاون حاصل کرنا ہو گا اور انہیں خود مختیار ادارے بنانا ہو گا ۔ موجودہ انتظامی نظام ناکارہ ہو چکا ہے اس نظام میں جدت پیدا کرنے کے لیے ملکی اور غیر ملکی فلاہی ایجنسیوں اور اداروں سے مدد حاصل کرنا ہو گی بس یہی ایک راستہ باقی نظر آ رہا ہے ورنہ بند گلی میں محبوس ہو کر رہ جائیں گے اور ہمیں اس گلی سے باہر لانے والا کوئی بھی نہیں ہو گا ۔ کیونکہ ہمارے سیاسی نظام میں جس طرح کا غدر مچاہوا ہے اور جس طرح ہمارے لیڈر اقتدار کے حصول کے لیے آپس میں دست و گریبان ہیں کوئی ایسی صورت نظر نہیں آ رہی ہم ترقی اور خوشحالی کی منزل پا لیں گے ۔ یہ لمحہ فکریہ ہے قوم کے دانشوروں ، سماجی لیڈروں ، صحافیوں اور،؂؂عدلیہ کے لیے کہ وہ اپنا فرض دیانت داری سے نبہائیں ۔

error: Content is Protected!!