شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / ترقی کے دعوے اور تنزلی
ترقی کے دعوے اور تنزلی

ترقی کے دعوے اور تنزلی

sabir mughalدل میں حسرت ہی رہ جاتی ہے کہ کچھ ایسا لکھا جائے جس میں پاکستانی عوام کی بہتری کا کچھ موا د شامل ہو ان کے خوشخبری ہو مگرہر بار ہماری یہ معصومانہ سی خواہش ۔در مقتل۔جا پہنچتی ہے،حکومت اور سیاسی لیڈران پرہماری تنقید تو شاید کبھی نہ پہنچے مگر ملکی ترقی کے یہ بڑے بڑے دعوے کرنے اور بڑھکیں لگانے والے۔لیڈران۔ سعودی عرب ضرور جا پہنچتے ہیں ،چلو اسی بہانے ۔عمرہ ۔کی ادائیگی بھی ہو جاتی ہے،یہ ہماری کیسی بد نصیبی ہے کہ ہمارے قومی اور ذاتی معاملات پر مکمل طور پر بیرونی عناصر ۔پنجہ زن ۔ہیں ان عناصر میں مغربی اور کئی برادر سلامی ممالک بھی شامل ہیں،کیا یہ کسی کو ممکن نظر آتا ہے کہ پاکستان اور ملک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کی جرات کر سکے گا۔ہرگز نہیں.ہمارے رہبروں کو جب اپنے سیاہ ترین کرتوتوں پر جب کوئی ۔زد۔پہنچنے کا خدشہ ہوتا ہے تب یہ دیار غیر میں کسی کے پاؤں پکڑنے سے بھی نہیں ہچکچاتے،دو دن پہلے ایک خبر نظر سے گذری ہمارے زر مبادلہ میں مزید کروڑوں روپے کا اضافہ ہو گیا ہے، پرنٹ اور خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا پر ۔TAPI۔منصوبے کو لاکھوں روپے کے اشتہارات کی مدد سے یوں بتایا جا رہا ہے جیسے ماضی میں ہماری ترقی میں اصل رکاوٹ یہی منصوبہ تھا ،(چلو کم از کم چولہے تو جل جائیں گے جس کے لئے اب تو ہم غیرت والوں کی عورتیں بھی سڑکوں پر ہیں۔زندہ باد حکمران)2013کے آغاز پر ہی ۔پاک ایران ۔گیس منصوبے پر کچھ ایسے ڈونگرے برسائے گئے تھے،مگر ہمارے آقا جو در حقیقت کسی کے غلام ہیں اس منصوبہ کو پایہ تکمیل پہنچانے کی جرات نہ کر سکے،ہماری حکومت 20روزقبل ہی عوام کو نئے ٹیکسوں کی ۔مد ۔میں40ارب روپے کا ٹیکہ لگا نے کے بعد اب ۔تاپی ۔منصوبے کے فوری بعدگیس کی قیمت میں 38فیصد اضافہ کر چکی ہے اس نئے گیس ٹیرف سے حکومت کو 40ارب نہیں بلکہ213 ارب روپے کی آمدنی ہو گی اس سے قبل حکومت گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کے نام پر عوام سے 200ارب روپے سے زائد رقم اکٹھی کی جا چکی ہے،ایک طرف عوام کے لئے ٹیکسوں کا ۔آتش فشاں۔اور دوسری جانب قرضوں کا ۔کوہ ہمالیہ۔ بڑی ڈھٹائی سے دعویٰ کہا جاتا ہے پاکستان ترقی کی ۔موٹر وے۔پر ہے مگر اقوام متحدہ کی رپورٹ ان بڑے دعوؤں داروں کے منہ پر کچھ اور ہی ۔تھوپ۔رہی ہے مگر ان سیاہ کاروں کو کچھ پرواہ نہیں ہو گی ،ایسی رپورٹس کو چاہے وہ کسی مستند عالمی ادارے کی ہی ہوں ردی کی ٹوکری کی زینت بنا دیتے ہیں،یہ تازہ ترین رپورٹ کہتی ہے۔انسانی ترقی(معیار زندگی) کے عالمی اشاریہ میں امسال پاکستان کے مقام میں ایک درجہ کی تنزلی آئی ہے اور ریاست پاکستان کا ہیومن ڈویلپمنٹ کی ۔قدر۔صرف0.538ہے جو بدترین معیار کے قریب ترین ہے،اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے UNOPکی اس رپورٹ میں۔ناروے۔کو رہائش کے لئے دنیا کا سب سے بہترین ملک قرار دیا ہے ،ناروے مسلسل12سال سے اس فہرست میں پہلے نمبر پر ہے وہاں اوسط انسانی عمر81.6سال ہے،ناروے کے بعد بالترتیب آسٹریلیا،سوئٹرزلینڈ،ڈنمارک،ہالینڈ،جرمن،آئرلینڈ،امریکہ،کینیڈااور نیوزی لینڈہیں،برطانیہ کا14واں نمبرجبکہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں چین اور بھارت کا نمبر بالترتیب80اور130واں نمبر ہے،بھارت کے علاوہ جنوبی ایشیاء کے دیگر ممالک سری لنکا73،بنگلہ دیش142،نیپال 145،پاکستان147 اور افغانستان کا 171واں نمبر ہے،آخری مقام پر افریقی ممک نائیجر ہے اس سے پہلے مرکزی افریقی جمہوریہ،اریٹیریا،چاڈاور برونڈی کو رکھا گیا ہے،یہ انسانی ترقی اعشاریہ میں دنیا کے188ممالک اوسط عمر،تعلیم،آمدنی اور معیار زندگی کی بنیاد پر تیار کیا جاتا ہے،ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ کے مطابق کئی سال سے پاکستان 146ویں نمبر پر تھا اور اس سال اس کا ایک درجہ مزید کم ہو گیا ہے،8کروڑ سے زائد افراد غربت کا شکار ہیں،پنجاب کے شہر لاہور میں یہ شرح 7فیصد جبکہ جنوبی پنجاب کے ضلع راجن پور میں یہ شرح خطرناک حد تک بلند جو 70 فیصد ہے،پاکستان میں 40افراد کے روزگار کا انحصار زراعت پر ہے لیکن پھر بھی زراعت میں شرح نموکم ہوتی جا رہی ہے،پاکستان کی ترقی کی حائل رکاوٹوں میں ایک مسئلہ ملک کی 30فیصدنوجوان نسل یاان پڑھ ہے یاپھر کوئی ہنر نہیں رکھتی،اس چونکا دینے والی رپورٹ کے طابق پاکستان سوشل سیکٹر میں کانگو اور اس جیسے کئی افریقی ممالک سے بھی کم خرچ کرتا ہے،پاکستان اپنی مجموعی پیداوار کا صرف0.8فیصد صحت پراور1.8فیصد تعلیم پر خرچ کرتاہے ،اسے کہتے ہیں ترقی کی معراج کو چھونا،اسے کہتے ہیں بہترین پالیسیوں کا ۔ثمر۔اسے کہتے ہیں عوام سے محبت ،اسے کہتے ہیں درد دل ،ہاں قوم کے ساتھ ایسے شرمناک ۔مذاق ۔کو ہی ترقی،بہتر پالیسی ،محبت،خلوص اوع درد دل کہا جاتا ہے،اسے جھوٹے دعویداروں ،بے حسوں کے پاس شرم ہو تو انہیں کچھ ۔شرم ۔آئے ،قارئین کرام پاکستان کو تو وہ ملک بنا دیا گیا ہے جہاں پیسہ ہے تو صحت کی سہولت بھی حاصل ،تعلیم کی سہولت بھی میسر،رہائش کی سہولت بھی،گاڑیاں بھی ،آسائشیں بھی،اقتدار بھی اور اختیار بھی دستیاب، اور یہ سب کرپشن ،لوٹ مار کی بدولت ہی ممکن ہے،تیسری بار وزارت اعظمیٰ کے عہدے پر فائز ہونے والے نہایت تجربہ کار وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو تیسری ٹرم نصف مدت پوری ہونے کے بعد خیال آیا کہ ۔خادم اعلیٰ ۔کی میٹرو بسیں ،اورنج ٹرین یا لاہور میں پلوں اور سڑکوں کی تعمیر ۔ترقی۔نہیں ہے،،مسائل حل کرنا ہیں تو تعلیم ،صحت اور صاف پانی مہیا کرنے جیسے منصوبوں پر کام کیا جائے،یہ لوگ بلدیاتی انتخابات کو بھی اپنی کارکردگی کا پیمانہ بتانے لگے ہیں انہیں پتا نہیں تو اور کس کو پتا ہو گا کہ یہ الیکشن تو۔DCO,S۔کے ذمہ تھے بس ہر صورت ۔جیت چاہئے،لوٹ کے لے جاؤ سب ۔ماڈل گرلز کے ذریعے،لانچوں کے ذریعے،طیاروں کے ذریعے،یہ سب آپ کے باپ کا مال ہے،گندی نالی کے یہ کیڑے چیخ چلا کر پھر بھی آپ کے آگے ہی ناچیں گے،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا ایک اور تازہ بیان (وہ ایسے ریمارکس اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد تقریباً روزانہ کی بنیاد پر دے رہے ہیں مگر کسی خرافات یا بدعنوانی پر سوموٹو؟)۔کرپشن معاشرے میں دیمک کی طرح پھیل رہی ہے جہاں سستا انصاف نہ ملے وہاں عوام مسائل کا شکار ہوتے ہیں حکومت کا فرض ہے معاشی نظام میں ایسی راہیں پیدا کرے کہ کسی کا معاشی استحصال نہ ہو۔محترم چیف جسٹس صاحب نظام کی درستگی کے لئے اس مخلوق کو تلقین یا نصیحت کر رہے ہیں جن کا اوڑھنا بچھوڑنا ہی ۔استحصال اور بس استحصال ہے،یہ طبقہ بہت طاقتور ہے یہ رینجرز کے بھی ہاتھ پاؤں باندھ سکتا ہے،یہ حساس ادارے کی تحویل میں دہشت گردوں کی مدد کرنے کا اعتراف کرنے والوں کو ۔کلین چٹ۔دلوا سکتا ہے،لٹیروں اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو بچانے کے لئے سرکاری پراسیکیوٹر بھی پل بھر میں بدل دیتا ہے تا کہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔

note

Share Button

About aqeel khan

Scroll To Top