شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / ٹیکسلا:یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ٹیکسلا ڈیپارٹمنٹ آرکیٹیکچر انجینئرنگ کا شعبہ قائم کرے گی
loading...
ٹیکسلا:یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ٹیکسلا ڈیپارٹمنٹ آرکیٹیکچر انجینئرنگ کا شعبہ قائم کرے گی

ٹیکسلا:یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ٹیکسلا ڈیپارٹمنٹ آرکیٹیکچر انجینئرنگ کا شعبہ قائم کرے گی

ٹیکسلا(ڈاکٹر سید صابر علی سے)گندھارا آرٹ اینڈ کلچر ایسوسی ایشن اسلام آباد کے تعاون سے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ٹیکسلا تین سو پچاس ملین روپے کی لاگت سے ڈیپارٹمنٹ آرکیٹیکچر انجینئرنگ کا شعبہ قائم کرے گی ۔جس میں جدید تعمیراتی انجینئرنگ کے ساتھ ساتھ گندھارا طرز تعمیر پر بھی تعلیم دی جائے گی ان خیالات کا اظہار وائس چانسلر یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پروفیسرڈاکٹر نیاز احمد نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا ۔اس موقع پر گندھارا آرٹ اینڈ کلچر ایسوسی ایشن کی چیئر پرسن ایستر پارک بھی موجود تھیں ڈاکٹر نیاز احمد کا کہنا تھا کہ اس شعبے کی علیحدہ عمارت کے تعمیراتی کام کا آغازجنوری 2017 میں شروع ہوجائیگا ۔جس کے لئے بی ایس سی آرکیٹیکچر انجینئرنگ کی کلاسز کا آغاز 2017 میں شروع کر دیا جائیگا انہوں نے کہا کہ اس منصوبے اور شعبے کے لئے ہائر ایجوکیشن کمیشن نے تین سو پچاس میلین روپے کے پی سی ون کی منظوری دی ہے انہوں نے مزید بتا یا کہ اس منصوبے کے تحت ایک غیر ملکی طلبہ و طالبات کے لئے علیحدہ ہاسٹل بھی تعمیر کیا جائیگا انہوں نے کہا کہ اس شعبہ میں گندھارا تہذیب و تمدن کے ساتھ ساتھ گندھارا طرز تعمیر پر بھی تحقیق اور ریسرچ کا کام کیا جائیگا یونیورسٹی آف ٹیکسلا تہذیب کے مرکز میں واقع ہے ایک طرف سرکپ جسکو ٹیکسلاکا دوسرا شہر بھی کہا جاتا ہے واقع ہے اور دوسری طرف جنڈیال سٹوپہ بھی قائم ہے جو کہ رومن طرز تعمیر کا اعلٰی نمونہ ہے انہوں نے کہا کہ سرکپ جو کہ میٹروپولیٹن شہر کہلاتا ہے۔ٹیکسلا تہذیب کو باقاعدہ نقشہ کے تحت تعمیر کیا گیا تھا اور اس طرح ملکی اور غیر ملکی ریسرچ کرنے والوں کو عملی تجربات کے وسیع مواقع ملیں گے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے گندھارا آرٹ اینڈ کلچر ایسوسی ایشن کی چیئر پرسن ڈاکٹر ایسٹر پارک نے کہا کہ شعبے کے فعال ہونے سے دنیا بھر سے با لعموم بدھ مت والے مذہب کے ممالک سے با لخصوص گندھارا پر ریسرچ کرنے والے طلبہ اور سکالرز یہاں آئیں گے جس سے نہ صرف تاریخ کے نئے پہلو سامنے آئیں گے بلکہ پاکستان کا سافٹ امیج بھی دنیا کے سامنے بہتر ہو سکے گا انہوں نے کہا کہ یہ شعبہ پاکستان میں آثار قدیمہ پر کام کرنے والوں کے لئے ابھی بہت اہم کردار ادا کرے گا کیونکہ انہیں دنیا بھر کے سکالرز کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملے گا انہوں کہا کہ اس شعبہ میں کوریا کے تعاون سے جدید آلات سے آثار قدیمہ پر ریسرچ اور نوادرات کو محفوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی سے بھی تربیت دی جائیگی ۔

Share Button
loading...
loading...

About admin

loading...
Scroll To Top