شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / طیب اردوان کی پاکستان آمد،عمران بائیکاٹ ختم کریں
loading...
طیب اردوان کی پاکستان آمد،عمران بائیکاٹ ختم کریں

طیب اردوان کی پاکستان آمد،عمران بائیکاٹ ختم کریں

safiaترکی کے صدر طیب اردوان صدر پاکستان ممنون حسین کی دعوت پر سرکاری دورے پرپاکستان پہنچے ہیں،ترکی پاکستان کا عظیم دوست ہے اور دونوں ممالک کے مابین تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ترکی نے مشکل کی ہر گھڑی میں ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے، پاک ترک تعلقات اور دوستی ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، ترک وزیراعظم کے دورہ پاکستان سے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے رشتے مزید مستحکم ہوں گے۔1947ء کے بعد پاکستان اور ترکی کے درمیان تعلقات قائم ہوئے جو وقت کے ساتھ ساتھ مستحکم ہوئے ہیں۔پاک ترک عوام کے درمیان باہمی اعتماد کے رشتے سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا ر شتہ مزید مستحکم ہو گا۔پاکستان اور ترکی کے عوام محبت، بھائی چارے اور اخوت کے تاریخی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ترکی کے عوام نے اپنے عظیم قائد صدر رجب طیب اردوان کی قیادت میں جمہوریت کے خلاف سازش کو ناکام بنایا۔ترک عوام کی جمہوریت بچانے کی جدوجہد تاریخ میں سنہری حروف میں لکھی جائے گی۔ترک عوام رجب طیب اردوان کی ایک کال پر سڑکوں پر نکل آئے اور ٹینکوں کا راستہ روکا۔ترک قوم نے عظیم قربانیاں دے کر فوجی بغاوت کو ناکام بنایا اورجمہوریت کو توانا کیا۔ترکی آج جدید معاشرے کی علامت ہے اور گزشتہ پندرہ برس کے دوران ترکی نے اپنے قائد رجب طیب اردوان کی ولولہ انگیز قیادت میں بے پناہ ترقی کی ہے۔ ترکی کی مضبوط معیشت پوری دنیا کیلئے قابل مثال ہے۔ ترکی کے عوام نے جمہوریت کے ساتھ جس عزم کا اظہار کرتے ہوئے لازوال قربانیاں دی ہیں اس کی عصر حاضر کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ترک عوام نے اپنے قائد کی کال پر جمہوریت بچانے کے لئے جس طرح لبیک کہا وہ صرف اور صرف ترکی کی عظیم لیڈر شپ کی عوام کو بہترین خدمات کی فراہمی کی مرہون منت ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے بے پناہ محنت کے ساتھ اپنے عوام کی بے لوث خدمت کی ہے اور اپنے مقاصد کے حصول کیلئے امانت اور دیانت کے ساتھ کام کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ انتہائی مشکل حالات میں بھی ترک قوم کیلئے ان کا ایک پیغام کونے کونے میں پھیلایا اور عوام ٹینکوں کے سامنے بلا خوف و خطر کھڑے ہوگئے اور ان کا راستہ روکا۔ جمہوریت بچانے کے لئے جو عظیم قربانیاں ترک عوام نے دیں اس کا ذکر کرنا آسان ہے لیکن اس جدوجہد کو عملی شکل دینا مشکل ہے اور یہ اعزاز عظیم قائد رجب طیب اردوان کی عظیم قوم کو جاتا ہے اور رجب طیب اردوان جیسی ایماندار اور پر عزم لیڈر شپ کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے عوام کی جس طرح بے لوث خدمت کی ہے ، عوام نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ ترک عوام کی عظیم جدوجہد میں ہم سب کے لئے ایک سبق ہے اور وہ سبق یہ ہے کہ ہمیں بھی دیانتداری، ایمانداری اور پیشہ ورانہ انداز سے عوام کی خدمت کرنی ہے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنی ہیں۔ زلزلہ ہو یا سیلاب یا کوئی قدرتی آفت ترکی ہمیشہ پاکستان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہا ہے۔ ترکی نے عالمی سطح پر بھی پاکستان کا ہر فورم پر بھرپور ساتھ دیا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران پاکستان اور ترکی کے درمیان بھائی چارے اور محبت کے رشتے معاشی تعاون اور سرمایہ کاری میں بدل گئے اور ترکی کی متعدد کمپنیاں پاکستان خصوصا پنجاب میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ ترکی پنجاب پولیس کی تربیت ، صحت کی سہولتوں کی بہتری اور تعلیم کے شعبے میں بھی بھرپور تعاون کر رہا ہے۔ پاکستان اور ترکی کے درمیان دوستی اورمحبت کے رشتے ازل سے ہیں اور ابد تک رہیں گے۔ اس میں کبھی زوال آیا نہ آئے گا ۔ترک صدر کے ہمراہ وزراء اور اعلیٰ عہدیداروں سمیت اعلیٰ سطح کا وفد بھی ہو گا۔صدر اردوان صدر ممنون حسین اور وزیراعظم نواز شریف سے بھی ملاقات کریں گے۔ترک صدر پروگرام کے مطابق جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ صدر ممنون حسین معزز مہمان کے اعزاز میں ضیافت بھی دیں گے۔صدر اردوان لاہور بھی جائیں گے جہاں وزیراعظم شاہی قلعہ میں ان کے اعزاز میں ضیافت دیں گے۔وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کو ترک صدر کے دو روزہ دورہ کے موقع پر حکومت پاکستان کا وزیر مہمانداری مقرر کر دیا گیا۔صدر مملکت ممنون حسین نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس جمعرات کی دوپہر ڈیڑھ بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کیا ہے۔پاکستان میں ترکی کے سفیرصادق بابر گرگن نے کہا ہے صدر رجب طیب اردوان کا سرکاری دورہ بہت اہمیت کا حامل ہے جو دونوں برادر ممالک کو مزید قریب آے کا موقع فراہم کرے گا۔اور تعلقات میں وسعت کا باعث بنے گا۔ پاکستان بہت حسین ملک ہے ترک حکومت پاکستان میں ترکی کی طرح سیاحت کا فروغ چاہتی ہے اور ترک عوام کی پاکستانی سیاحت میں دلچسپی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ترک ڈرامے پاکستان میں بہت مقبول ہیں اور پاکستانی عوام ترک ڈراموں کو بہت شوق سے دیکھتے ہیں۔ ترک سفیر سے صحافی نے پی ٹی آئی کی جانب سے مشترکہ اجلاس کے بائیکاٹ کے متعلق سوال پوچھا تو ترک سفیر نے ممکنہ بائیکاٹ پر بات سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکی برادر ملک ہیں اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات پر بات نہیں کرتے۔ لہذا مقامی سیاست پر بات کرنا مناسب نہیں ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت سے ملاقات ہوئی اس ملاقات کے حوالے سے جواب دینا مناسب نہیں ہے۔تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلے پرقائم رہنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ ترک سفیر نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کی درخواست کی تھی مگر جب تک پاناما لیکس کا کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے پارلیمینٹ نہیں جائیں گے ۔ ترکی سے پاکستان کی سب سے قریبی دوستی ہے اگر پاکستانی عوام چین کے بعد دنیا میں کسی ملک سے محبت کرتے ہیں تو وہ ترکی ہے اور یہ محبت صدیوں پر محیط ہے۔ ترکی کے سفیر نے اپیل کی تھی کہ ترک صدر کی آمد کے موقع پر پارلیمینٹ کے اجلاس کا بائیکاٹ ختم کریں ہم ترک سفیرکی درخواست کوقدرکی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ہم تر ک صدر کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ تحریک انصاف پارلیمینٹ کے بائیکاٹ پر قائم رہے گی اور اس کی وجہ نواز شریف ہیں۔موجودہ صورتحال میں پارلیمینٹ جانا بنتا ہی نہیں، جب تک سپریم کورٹ میں پاناما کیس چل رہا ہے ہم پارلیمینٹ نہیں جائیں گے۔عمران خان کی جانب سے ترک صدر کے خطاب کے موقع پر پارلمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بائیکاٹ کے فیصلہ پر مسلم لیگ(ن) نے شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاست ضد، انا پرستی اور الزام تراشی کا نام نہیں ہے۔ ترک صدر کی آمد پر تحریک انصاف نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا۔ پی ٹی آئی کی جانب سے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے بائیکاٹ پر افسوس ہے۔ اب بھی وقت ہے، عمران خان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شریک ہوں۔ خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے مشترکہ پارلیمنٹ میں شرکت کیلئے ذاتی دعوت نہیں دی۔ عمران خان کو دعوت اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا فرق ہی نہیں پتہ ہے۔تحریک انصاف نے کشمیر کاز پر بلائے گئے اجلاس کا بھی بائیکاٹ کیا تھا۔ سی پیک میں تاخیر عمران خان کی وجہ سے ہوئی۔ انہوں نے ہی پاکستان میں سرمایہ کاری میں رکاوٹ پیدا کی۔ عمران خان پاکستانی سیاست کے انوکھے لاڈلے بنے ہوئے ہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ انوکھا لاڈلا جو کہتا جائے، ہم مانتے جائیں۔ طارق فضل چودھری نے کہا کہ سیاست سمجھداری کا کام ہے جو عمران خان کے بس کی بات نہیں ہے۔ عمران خان کو پارلمینٹ کا بائیکاٹ ختم کرنا چاہئے اور ترک صدر کی آمد کے موقع پر اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ پیش کرنا چاہئے۔

note

Share Button
loading...
loading...

About aqeel khan

loading...
Scroll To Top