شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / شکر یہ کس کا ادا کر یں ؟
loading...
شکر یہ کس کا ادا کر یں ؟

شکر یہ کس کا ادا کر یں ؟

sohail warsiسنا تھا سو بیل والا ایک بیل والے کے پا س جاتا ہے ، پہلے روایت تھی کچھ نہ بھی کرو خا ند انی حیثیت مل جا نی ہے ، اب بڑے سمجھ گے ، نہیں ، بلکل نہیں، ہماری عوام بہت خو ش قسمت شا ہد ملک کے جنم لینے کی وجہ سے جیسے شا عر نے کہا ۔۔۔
خد ا جب دوست ہے اے داغ کیا دشمن سے اند یشہ
ہمارا کچھ کسی کی دشمنی سے ہو نہیں سکتا
معا ملہ سپریم کو رٹ ہیں ، یہاں دو سوال ، اگر کلین چٹ مل گئی تو کیا تحر یک انصا ف کی سیاست ختم ہو جائے گئی کیو نکہ اس نے ہنگا مے کیے دھر نے دیے ، عوام ذلیل ہو ئی ، جا نی نقصان کے ساتھ ما لی نقصان ہو ا ، لہذا جب کیس میں سچا ئی نہیں ثا بت ہو ئی لہذا سارا نقصان تحر یک انصا ف کے ذمے ، اور اگر کلین چٹ نہ ملی تو (ن) کا، ان کے قا ئد کا کیا بنے گا ،کیس چل رہا ، تجریہ پیش کیے جا رہے ہیں ، اس سارے دور میں ہو کیا رہا اس طرف دھیان کیا جائے تو بہتر ی نظر آ ئے گی ، اس دوران کیا ہو رہا ، معا ملہ سپر یم کو رٹ میں جا نے سے پہلے کی با ت کریں تو بات لمبی ہو جا ئے گی ، سپر یم کو رٹ میں کیس اس کے بعد دیکھنے اور سنے میں آ یا کہ وز یراعظم میاں نو از شر یف تر قیا تی کاموں ، پر وجیکٹ کا افتتا ح کیے جا رہے ہیں ، اور زیا دہ زور اس صو بے کی طر ف جہاں پر صو با ئی حکومت تحر یک انصا ف کی ہے ، تر قیا تی کا موں کے بارے تفصیل کے ساتھ یہ لا زمی کہا جا تا ہے کہ ئنا خیبر پختو خواہ بنا نے والے کہاں ہیں جو کہتے تھے ہم یہ تبد یل لے آ ئیں گے ،بطو ر وزیر اعظم ساتھ ایک جلسے میں یہ بھی عوام سے کہہ رہے بہت سے مسا ئل پیدا کیے گیاب عوام ان سے پو چھے ، عوام پو چھے ؟ قا نو ن کے بغیر ؟ جنا ب آ پ کے پا س اقتدار ہے ، قا نونی اختیا ر آ پ کے پا س تو پھر عوام کو کیوں تکلیف دے رہے ہیں ، جیسے ارشا د فر مایا گیا کہ جنہوں نے مسا ئل پیدا کیے عوام ان سے پو چھے ، اس سے صا ف لگتا کہ آ پ کا اشارہ سا بقہ دور حکومت کی طر ف ہے یا اور ان سے پہلے کی طر ف ، تو پھر پہلے سے پہلے حکو مت جن کی تھی ان کو تو بعد میں دیکھ لینا جو آ پ سے پہلے تھے ان سے قا نونی طو ر پر کہٹرے میں لا ئیں کہ یہ مسا ئل آ پ کے دور حکومت میں ہوا ، مسا ئل پیدا ہو ئے ، اس کا سید ھا سا مطلب ،اختیا رات کا نا جا ئز استعمال کیا گیا ، کر پشن تو ہو ئی ہو گی ، پھر آج تک کیا قانونی کاروائی ہو ئی اور اس حکومت کے کتنے وز یر اورصا حب اختیا ر لو گ جو تھے وہ قانون کے شکنجے میں ہیں ،ڈاکٹر صا حب تو کسی کی غلطی میں اپنا کام نکال گے ہیں ، کیا پٹر ول اور گیس کے مسا ئل نہیں پیدا ہو ئے اس دور میں اور اب بھی ہیں ، پھر ایک وزیر کو سزا نہیں ہو سکی، سرکا ری جو اکیس ، با ئیس لیول پر مضبوط لو گ ان میں سے کسی کو پکڑ کا ڈالا گیا جیل میں ، اور تو اوربے چارے راجہ صا حب کو کر پشن کا تمغہ دیا گیا اور اب تک سزا ء ہی نہیں ہو ئی ، وہ رینٹل پا ور کا پیسہ گیا ، یہ تو خو ب کہہ دیا جا تا ہے کہ ہم عوام کے ساتھ ہیں اور جو ملک کا پیسہ کھا گے ان سے حسا ب لیں گے ،حسا ب اس لیے نہیں لیا جا رہا کیو نکہ تحر یک انصا ف زورپکڑ تی جا رہی ہے لہذا پا نچ سا ل پو رے کر نے کے لیے بڑی سیا سی جما عت کا سا تھ ہو نا ضروری ہے ۔
یو رپ میں رہنے والے پا کستانی اس خوا ہش کا اظہا ر کرتے ہیں کہ ان تر قی یا فتہ ممالک کی طر ح کے قانون پا کستان میں کیو ں نہیں بنا ئے جاتے ہیں ، جیسے یہاں کو ئی سیا سد دان کچھ بھی بو لتا تو اس پر بہت دھیان دیا جا تا ہے اور کچھ خرابی کی بات کی جائے تو اس سے پو چھ ہو تی ہے کہ یہ جو بات کی عوام کو اس کا جوا ب دو ، جیسے ہما رے شہبا ز شر یف صا حب نے ایک عوامی جلسے میں فر ما یا کہ جو ہم سے کر پشن کا الزام لگا رہے ان کی ایک کر پشن کے کیس کی فا ئل کھل گئی تو وہ ساری زند گی ملک سے وا پس نہیں آ سکیں گے ، ہما رے ملک میں کو ئی ایسا ادارہ ہو نا چاہیے جو ایسی با توں پر ایکشن لے اور بات کی طۃ تک جا ئے کہ جو با ت کی گئی کہ ایک فا ئل کھلی تو یہ ہو جائے گا تو کس فا ئل کا کہا گیااب یہاں تفصیل دیے یا وجہ بتا ئیں ایسی دھمکی کیوں دی گئی ، اس طر ح کے قانون اس لیے نہیں بنا ئے جا تے ہیں اور نا ہی با قی جما عتیں اس طر ح کی ما نگ کر تے ہیں کیو نکہ کل کو ان کو بھی ایسے قانو ن فا لو کر نے پڑتے ہیں ، جیسے دھر نے میں جو بھی جہ دو جا نیں گئی ہیں ،لا ہو ر میں ڈاکٹروں کی ہڑتال سے دوجا نیں گئی ہیں اور خبر دیکھی کہ مطا لبے پو رے ہو نے پر جشن میں سیلفیا ں بنا ئی گئی ہیں ،جو دو جا نیں گئی ہیں ان بے چا روں کے خا ندان کسی اذیت اور دکھ میں ہو ں گے ،دو پا رٹیا ں ایک دھر نا یا ریلی والے یا پھر حکومت ، دونوں میں سے کسی کو ذمے دار وں میں سے پھا نسی ہو نی چا ہیے ، روایت بنے گی تو یہ عوام کے ساتھ کھیل تما شہ بند ہو گا ،ورنہ یہ سلسلہ چلتا رہے گا ۔
ان دو ہفتو ں میں خو د وزیر اعظم نے بہت سے تر قیا تی کا موں کا افتتا ح کیا او ر منصوبوں کا بھی اعلان کیا ، لو ڈ شیڈ نگ میں کمی کی گئی اور کا فی حد تک کمی کی گئی جس سے عوام کچھ تو سکو ن لے گی ، یہاں سوال ، ان دنوں ایک دم لو ڈ شیڈ نگ کم کی گئی تو اتنی بجلی کہاں سے آ ئی ،کیا کو ئی بجلی بنا نے والے پر وجیکٹ جوشر وع ہو ئے تھے وہ مکمل ہو ئے انہوں نے کا م کر نا شروع کیا یا ایسے ہی بجلی کی لوڈ شیڈ نگ کم کر نے کا اعلان کیا گیا ، اگر ایسے ہی کیا گیا تو عوام کو سمجھ جا نا چا ہیے کہ عمران خان کے دھرنے اور اب بات سپر یم کو رٹ میں با ت تو عوامی ہمدردی حا صل کر نے کے لیے تمام وسا ئل استعمال میں لا ئے جا رہے ہیں۔
تحر یک انصاف اگر پا نا مہ کیس کے معاملے میں خا مو ش ہو جا تی اور معاملہ سپر یم کو رت میں نہ جا تا اور جو دبا ؤ ابھی حکومت پر بنا کیا پھر وز یر اعظم صاحب ایسے ہی آ ئے دن تر قیا تی کا موں کا افتتا ح کر تے اور کیا لو ڈ شیڈ نگ کم ہو تی اور آ نے والے دنوں میں حکومتی کا رکر دگی اور بہتر نظر آ ئے گی ، ایک طر ف پیپلز پا رٹی فل حکومت کا سہا را دے رہے تو تحر یک انصا ف مضبو ط اپو زیش کا رول نہ ادا کر تی تو دو تین ہفتوں سے جو کام ہو رہے یا کا رکردگی دکھا ئی جا رہی کیا ایسے ہو تا ، کیا وز یرا عظم الیکشن سے اتنا ٹا ئم پہلے ایسے عوام میں جا تے ۔ سیا ست کے کھیل میں تبد یل آ رہی ہے ، عوام ہما ری خو ش قسمت ، کر پشن ہو ئی ، پیسہ لو ٹا گیا ، پھر بھی کبھی چین کے تعا ون سے تو کبھی اپوزیشن کے رول سے تو کبھی اقتدار کے لا لچ سے ملک میں تر قی ہو ہی رہی ہے، اور سیا ست دان آ تے عوام کے ہی پا س آ تے ہیں ، سنا تھا سو بیل والا ایک بیل والے کے پا س جاتا ہے ، پہلے روایت تھی کچھ نہ بھی کرو خا ند انی حیثیت مل جا نی ہے ، اب بڑے سمجھ گے ، نہیں ، بلکل نہیں، ہماری عوام بہت خو ش قسمت شا ہد ملک کے جنم لینے کی وجہ سے جیسے شا عر نے کہا ۔۔۔
خد ا جب دوست ہے اے داغ کیا دشمن سے اند یشہ
ہمارا کچھ کسی کی دشمنی سے ہو نہیں سکتا

note

Share Button
loading...
loading...

About aqeel khan

loading...
Scroll To Top