شہ سرخیاں
Home / عزیز الطاف / "جی آپ پاکستان سے آئے ہو"

"جی آپ پاکستان سے آئے ہو"

یہ سوال کسی ائیر پورٹ پے اترتے ہوئے چیکر نے نہیں کیا نا ہی کسی غیر ملکی نے کیا بلکہ یہ سوال وادی آزاد کشمیر میں داخل ہوتے وقت ایک چیک پوسٹ پر کھڑے سپاہی نے کیا کہ “جی آپ پاکستان سے آئے ہو”۔ قارئین یہ سنتے ہی بندہ ناچیز کا رنگ فق ہو گیا۔ وہ س لیے کہ ارے یہ بھی پاکستان ہی ہے میں کسی اور ملک میں تو نہیں داخل ہوا جو جگہ جگہ روک کر سوال کیا جاتا ہے کہ آپ پاکستان سے آئے ہو؟ جواب میں ہاں کہا گیا اور پھر جانے دیا گیا۔ آزاد کشمیر کے دارلحکومت مظفر آباد میں تین دن رہنے کا اتفاق ہوا اور ان تینوں دنوں میں وہاں پر طرح طرح کے لوگوں سے ملاقاتیں بھی ہوئیں ان میں سے کچھ صحافی برادری کے لوگ بھی شامل تھے اور کچھ وہاں کے شہری۔ اتفاق سے جن جن سے میری ملاقات ہوئی وہ مجھے یوں ہی لگے جیسے میں کسی اور ملک سے آیا ہوں اور وہ کسی دوسرے ملک سے تعلق رکھتے ہوں۔
قارئین یہ سوال آخر کیوں کیا گیا کے “جی آپ پاکستان سے آئے ہو”۔ کیا وجہ ہے کہ کشمیریوں کے دلوں میں پاکستان کیلئے وہ محبت نہیں رہی جو پہلے تھی۔ وہ اس لیے کے کشمیریوں نے بنگلہ دیش بنتے دیکھا ہے وہ اس لیے کہ بلوچستان کو آج بھی وہ حقوق نہیں مل رہے جو بلوچ قوم اور وہاں کے لوگ چاہتے ہیں تو پھر کشمیری اپنا نعرہ کیوں نا تبدیل کر یں جو کے بندہ ناچیز نے گورنمنٹ کے سکولوں کے باہر لکھے دیکھا ہے “کشمیر بنے کا خود مختار”آپ نے نعرے میں تبدیلی تو نوٹ کی ہوگی”کشمیر بنے کا پاکستان”کو “کشمیر بنے گا خود مختار”بنادیا گیا ہے اور نعرے کے ساتھ ساتھ ان کے دلوں میں بھی مکمل تبدیلی کی لہر آچکی ہے جب وہ یہ دیکھتے ہیں کے بلوچستان کی ترقی کیلئے اسمبلیوں میں بل پاس ہوئے ہیں مگر حقیقت میں کوئی کام نہیں ہوتا اسی مایوسی کی سی کیفیت میں تھا کہ ایک مقامی طالب علم سے بات کرنے کا موقع ملا وہ بھی کچھ ایسی باتیں کرنے لگا جیسے پاکستان میں ان سے انتہا کا ظلم ہو رہا ہو اور وہ اس ظلم کے سہنے سے عاری ہوں مجھے غصہ تو بہت پہلے سے تھا جہاں پہلی چیک پوسٹ پر روک کر یہ سوال کیا گیا کے”جی آپ پاکستان سے آئے ہو”پر غصے کو نکالنے کا جائز موقع اب ملا۔میں نے اس طالب علم سے کہا کہ آپ لوگ ہم سے خوش کیوں نہیں؟ ہم نے کشمیر کے پہاڑوں ﴿مری﴾تک سوئی گیس کی فراہمی یقینی بنادی ہے اور آپ اس کا استعمال بھی کرتے ہو مگر دوسری طرف زیارت میں کچھ ایسے علاقے بھی ہیں جہاں ابھی تک سوئی گیس نہیں پہنچ سکی جواب تھا کے “پھر ان سے آپ نے اچھا نہیں کیا”قارئین وہ کسی بھی طرح خوش نہیں تھا اسی مایوسی کی سی کیفیت میں مظفر آباد سے اوپر پیر چناس جانے کا اتفاق ہوا راستہ بہت خطرناک تھا کوئی کلمہ شریف پڑھ رہا تھاتو کوئی سہم کر بیٹھا تھا اس دوران یہ شعر یاد آیا
ò بہت خوش ہوں خدا یاد آرہا ہے اس مصیبت میں
میری کشتی کو اے طوفان یویہی زیرو زبر رکھنا
کہ چلو اللہ تعالیٰ کی یاد تو آرہی ہے نا چاہے مصیبت کا عالم ہے پر مجھے خوشی ہے اسے یاد توکر رہا ہوں۔ وہاں پہنچا تو ہو کا عالم تھا اور کوئی گروپ وہاں پہلے سے موجود نا تھا۔ برف باری ہو رہی تھی ہم تھے یا کچھ مقامی لوگ جنہوں نے وہاں چھوٹی چھوٹی دکانیں بنا رکھی تھیں۔خاموشی اس قدر کہ جیسے یہاں سرے سے کوئی آباد نہ ہو۔ پرندوں کی آواز تک نہ تھی، مگر کچھ ہی دیر کے بعد خدائے بزرگ و برتر کے نام کی آوازکانوں میں گونجی اللہ اکبر۔۔۔۔۔اللہ اکبر ۔۔۔۔۔تو جسم میں کپکپی طاری ہو گئی او راس کے ہر جگہ ہونے کا احساس ہوا یقینا وہاں کوئی بھی ہوتا تو یوںہی اذان کا جواب دیتا جیسے بندہ نا چیز نے دیا۔
پیر چناس پر وہ سوال تو دفن ہو چکا تھا کے “جی آپ پاکستان سے آئے ہو” مگر دفن ہونے سے قبل وہ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ جی آپ ہی غلط کر رہے ہو سوئی گیس پہنچا دینے سے لوگوں کے دل نہیں جیتے جا سکتے آپ کو آزاد کشمیر میں اصطلاحات لانا ہوں گی اور بلوچستان کی محرومیاں دور کرنا ہوں گی یہاں بھی معیاری ہسپتال بنانا ہوں گے اور لوگوں کو روزگار مہیا کرنا ہوگا۔ شاید اس کے بعد آپ ہمارے دل جیت سکو۔

About admin

Scroll To Top