شہ سرخیاں

واہ جی واہ ! ۔۔۔۔

کالم شروع کرنے سے پہلے ایک لطیفہ سُن لیں جو ہم پہلے بھی اپنے کسی کالم میں لکھ چکے ہیں۔ لطیفہ کچھ یوں کہ ایک بلّی کو بہت بھوک لگی تھی۔ چوہا اُس کے سامنے تھا مگر اپنے بِل میں، بلّی کی پہنچ سے باہر۔ کافی سوچ بچار کے بعد بلّی کو ایک تدبیر سوجھی۔ بِلّی نے چوہے کو مخاطب کرکے کہا ’’بھانجے! اگر تم اِس بِل سے نکل کر اُس بِل میں چلے جاؤ تو میں تمہیں پانچ سو روپے دوں گی‘‘۔ چوہے نے لالچ میں آکر مُنہ بِل سے باہر نکالا لیکن پھر جلدی سے اندر گھُس گیا۔ بلّی نے پوچھا ’’بھانجے ! کیا ہواَ‘‘۔ چوہابولا ’’خالہ! پَینڈا تھوڑا تے پیسے بوتے نیں، کوئی چکر اے‘‘۔ (خالہ! فاصلہ کم اور پیسے زیادہ ہیں اِس لیے کوئی چکر ہے)۔
ستّر کی دہائی میں ذوالفقارعلی بھٹو مرحوم نے ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کا نعرہ بلند کرکے بھولے بھالے عوام کو خوب بیوقوف بنایا۔ یہ نعرہ پیپلزپارٹی کے ہاں اب بھی جاری وساری ہے۔ بھولے بھالے عوام سمجھتے ہیں کہ اگر بھٹو زندہ رہتا تو یقیناََ وہ ہر کسی کو روٹی، کپڑا اور مکان دے جاتا۔ اب ایک ایسا ہی نعرہ تحریکِ انصاف لے کر انتخابی اکھاڑے میں اُتر رہی ہے ۔ سونامیوں کو یقین ہے کہ اب کی بار تحریکِ انصاف ’’آوے ای آوے‘‘ اور کپتان بھی سمجھتے ہیں کہ 2013ء کے انتخابات میں تو دھاندلی کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا لیکن اِس بار اُن کی اپنے بیٹوں (قاسم اور سلیمان) سے اگلی ملاقات وزیرِاعظم ہاؤس میں ’’ہووے ای ہووے‘‘ کیونکہ اب ’’خلائی مخلوق‘‘ اُن کے ساتھ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُنہوں نے ’’اپنی حکومت‘‘ کے پہلے 100 دنوں کا پروگرام جاری کر دیا ہے۔
اِس پروگرام کے مطابق اگلے پانچ سالوں میں ضرورت مندوں کو پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں دی جائیں گی۔ یہ دِل خوش کُن خبر پڑھ اور سُن کر ہم باغ باغ ہو گئے اور قریب تھا کہ مارے خوشی کے دارِ فانی سے کوچ ہی کر جاتے لیکن اللہ بھلا کرے ایک لیگیئے کا جس نے ہمیں مشورہ دیتے ہوئے کہا ’’پہلے حساب کتاب تو کر لو‘‘۔ ہم نے فوراََ کیلکولیٹر سنبھالا اور جو نتائج سامنے آئے، اُنہیں دیکھ کر ہمارے چودہ کیا بتّیس طبق روشن ہوگئے۔ ہمارے حساب کے مطابق پانچ سالوں میں 1825 دِن ہوتے ہیں۔ اُنہیں اگر ایک کروڑ پر تقسیم کیا جائے تو ایک دِن میں تحریکِ انصاف 5480 نوکریاں دینے جا رہی ہے۔ گویا ہماری ’’ عظیم ترین‘‘ تحریکِ انصاف ہر منٹ کے بعد 4 افراد کو ملازمت سے نوازے گی۔ اِسی طرح سے روزانہ 2740 ’’نَوّیں نکور‘‘ گھر معرضِ وجود میں آئیں گے۔ بھٹو نے تو صرف روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ بلند کیا تھا اور مدت تکمیل کا کوئی تعین نہیں کیا تھا لیکن کپتان نے تو باقاعدہ پانچ سالہ مدت کا تعین بھی کر دیا جسے سُن کر ہم نے بے ساختہ ’’واہ جی واہ ‘‘ کا نعرہ بلند کیا۔ یہ الگ بات کہ حساب کتاب کے بعد ہمیں خود ہی اپنے اِس ’’نعرۂ مستانہ‘‘ پر شرمندہ ہونا پڑا کیونکہ ہمیں تو یہ چوہے بلّی والا لطیفہ ہی لگا۔ عالمِ مایوسی میں ہم نے ایک سونامیے سے کہا ’’تحریکِ انصاف لمبی لمبی چھوڑ رہی ہے۔ کیا اُس نے عوام کو اتنا ہی بیوقوف سمجھ رکھا ہے؟‘‘۔ غصّے سے ’’نیلے پیلے‘‘ ہوتے سونامیے نے کہا ’’ہم جو کہتے ہیں وہ کر کے بھی دکھاتے ہیں‘‘۔ ہم نے کہاہماری ناقص عقل میں تو کچھ آتا نہیں، آپ ہی اپنی ارسطوانہ سوچ کے ذریعے ہمیں سمجھائیں کہ ایسا ممکن کیسے ہو گا، اِتنے کم وقت میں گھر کیسے بنیں گے ،نوکریاں کیسے ملیں گی اور بجٹ کہاں سے آئے گا؟جبکہ ہماری اطلاع کے مطابق خزانہ خالی ہے۔ سونامیے نے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہا ’’ہم نے پوری پلاننگ کر رکھی ہے۔ خیبرپختونخوا میں جو ایک ارب پودے لگائے گئے ہیں، ہم ایک کروڑ بیروزگاروں کو اِن پودوں کی ’’گوڈی‘‘ کے لیے ملازمت پر رکھیں گے۔ جب یہ پودے تَن آور درخت بن جائیں گے تو وہی ایک کروڑ بیروزگار اِن درختوں کی ٹہنیوں سے ’’مَسواکیں‘‘ بنائیں گے جنہیں’’ ایکسپورٹ‘‘ کرکے اربوں ڈالر کمائیں گے ۔ یہ زَرِمبادلہ نہ صرف نئے گھروں کی تعمیر کے کام آئے گا بلکہ ہمارا سارا قرضہ بھی اُتر جائے گا۔ سونامیے کی یہ پلاننگ سُن کر سچّی بات ہے کہ ہم تو اپنا سا مُنہ لے کر رہ گئے۔
جس طرح سے ہمیں تحریکِ انصاف کا یہ منصوبہ ہضم نہیں ہو رہا تھا، بالکل اُسی طرح پرانے پارلیمنٹیرین اور قائدِحزبِ اختلاف سیّد خورشید شاہ بھی اِس منصوبے پر چیں بچیں ہیں۔ اُنہوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر تحریکِ انصاف نے اپنے اِس منصوبے پر عمل درآمد کر دیا تو وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سیاست سے دستبردار ہو جائیں گے۔ سیّد خورشید شاہ نے کہا ’’یہ عملی پلان نہیں، محض دھوکہ ہے۔ پلان الیکشن جیت کر دیا جاتا ہے، پہلے نہیں۔ یہ الیکشن جیت کر بیٹھے ہیں اِس لیے 100 روزہ پروگرام دے دیا۔ اب اگر یہ جیت بھی گئے تو کوئی الیکشن ماننے کو تیار نہیں ہوگا۔ میں اِس کو عملی پلان نہیں، بلکہ الیکشن شوشہ کہہ سکتا ہوں لیکن دعووں کی کوئی حقیقت بھی ہونی چاہیے‘‘۔ اُنہوں نے کہاکہ عمران خاں کے پاس ایک صوبہ تھا ، وہاں پانچ سالوں میں عمل کیوں نہیں کیا؟۔ کپتان نے ایک کروڑ نوکریوں کی بات کی لیکن پانچ سالوں میں اپنے صوبے میں پانچ ہزار بھی نہیں دے سکے۔ بھولے بھالے سیّد خورشید شاہ شایداُس پلاننگ سے واقف نہیں جس کا ذکر سونامیے نے ہمارے ساتھ کیا تھا۔ اِس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ جلد یا بدیر شاہ صاحب کو سیاست چھوڑنی ہی پڑے گی۔
عوامی نیشنل پارٹی کے جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا کہ عمران خاں کا 100 روزہ پلان ’’خلائی مخلوق‘‘ کا بنایا ہوا لگتا ہے۔ کپتان کا ’’نکات شو‘‘ فلاپ ہو چکا۔ گزشتہ الیکشن میں90 روز میں جس تبدیلی کا اعلان کیا گیا، اُس کی ’’زَدمیں‘‘ صرف خیبرپختونخوا آیا، جسے پوری پوری سزا بھگتنی پڑی، باقی ملک خوش قسمتی سے محفوظ رہا۔ اُنہوں نے ایک کروڑ نوکریاں دینے کے اعلان کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اِس منصوبے کے لیے پہلے ایک کروڑ لوگوں کو بیروزگار کیا جائے گا، پھر نوکریاں دی جائیں گی۔ میاں افتخار نے کہا ’’90 روز میں تبدیلی لانا صدی کا پہلا سب سے بڑا اور 100 روزہ پلان دوسرا بڑا جھوٹ ہے‘‘۔
خادمِ اعلیٰ پنجاب اِس 100 روزہ پروگرام کے بارے میں کہتے ہیں کہ خان صاحب عوام کو سبز باغ دکھا رہے ہیں۔ وہ سَو روزہ پلان کی بجائے پہلے گزشتہ پانچ سال کی کارکردگی تو دکھائیں۔ پانچ سال میں منفی چھ میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والے لوگوں کو خاں صاحب سَو دنوں کا خواب دکھا رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا یو این ڈی پی کی رپورٹ سے سب کھُل کر سامنے آگیا ۔ اِس رپورٹ کے مطابق پنجاب سب سے زیادہ ترقی یافتہ صوبہ ہے، سندھ دوسرے نمبر پر اور خیبرپختونخوا سندھ سے بھی نیچے۔ میاں شہبازشریف نے کہا ’’وہ ہمارے پاس آئیں، ہم سکھائیں گے کام کیسے ہوتے ہیں‘‘۔ ۔۔۔۔ یہ ساری باتیں تو ایک طرف لیکن سچّی بات ہے کہ ہمیں تو اب کی بار کپتان ہی وزیرِاعظم بنتا اور اپنے منصوبے پر عمل کرتا نظر آرہا ہے۔ اِس لیے ہم ابھی سے گھر کے لیے درخواست دے رہے ہیں کیونکہ ہم سے بڑا ’’بے گھر‘‘ بھلا اور کون ہو سکتا ہے

error: Content is Protected!!