شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / نوجوانوں کا عالمی دن تحریر: سلمان احمد قریشی
نوجوانوں کا عالمی دن  تحریر: سلمان احمد قریشی

نوجوانوں کا عالمی دن تحریر: سلمان احمد قریشی

نوجوانوں کا عالمی دن
تحریر: سلمان احمد قریشی
نوجوانوں کا عالمی دن ہر سال 12 اگست کو پوری دنیا میں منایا جاتا ہے اس دن کے منانے کا مقصد نوجوانوں کے مسائل کو اجاگر کرنا ،ترقی کے مواقعوں کو تلاش کرنا، انکی حوصلہ افزائی کرنا ، بیرون ملک ملنے والے مواقع اور خطرات سے آگاہ اور ازالے کے بارے میں شعور بیدار کرنا ہے۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی نوجوانوں کے عالمی دن کو منایا جاتا ہے۔ اس دنیا کے حوالے سے دنیا بھر میں نوجوانوں کی ترقی کے حوالے سے کام کرنے والے ادارے مختلف تقریبات کا انعقاد کرتے ہیں جن میں نوجوانوں کو پیش آنیوالے مسائل اور انکے حل پر بحث و مباحثہ کیا جاتا ہے ۔ این جی اوز اور دیگر گروپس کی جانب سے سیمینار کا انعقاد ہوتا ہے جسمیں ملک اور عالمی سطح پر موجود مواقعوں کو تلاش کرنے اور نوجوانوں کی ترقی کے لئے بہتر اقدامات پر بات ہوتی ہے۔ پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد سے زائد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جن کی عمر 25 سال سے کم ہے اور نوجوان کسی بھی معاشرے کا انتہائی احساس طبقہ ہوتا ہے وہ عمر کے اس حصے میں ہوتے ہیں جب ہر واقعہ اور حادثہ انتہائی شدت سے محسوس ہوتا ہے اسطرح ان کا رد عمل بھی انتہائی شدید ہوتا ہے کسی بھی تحریک ، مطالبہ ، دکھ اور درد کا سب سے زیادہ احساس طالب علموں کے ذہن دل اور روح پر ہوتا ہے یہ امر نکھر کے سامنے آتا ہے کہ تمام اجتماعی تحریکوں کی اصل جان طلبہ اور نوجوان رہے۔ سید احمد شہید کی تحریک کا ستر فی صد نوجوانوں پر مشتمل ہو تا تھا تحریک آزادی ، ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی تحریک ، تحریک بحالی جمہوریت میں نوجوان ہی ہر اول دستہ تھے۔ تاریخ کے اوراق پلٹیں تو سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے حضرت علیؓ ، حضرت زید بن حارثؓ کا نام ہے میدان کا رزارمیں تاریخی کردار ادا کرنے والے طارق بن زیادہ اور موسیٰ بن نصیر ، سندھ کو فتح کرنے والے 17 سالہ محمد بن قاسم جیسے نوجوانوں کا کردار قابل فخر ہے ۔ نوجوانوں میں جسمانی طاقت کے ساتھ خوابوں کی تلاش کا شوق اور اجتماعی دکھوں سے چھٹکارے کا عز م موجود ہوتا ہے اسلئے نوجوان کسی بھی طرح کی مہم جوئی میں سب سے آگے نظر آتے ہیں۔ دنیا بھر کی آبادی کا چھٹا حصہ جبکہ پاکستان کا آبادی کا 60 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے ہمارے ہاں آبادی میں سب سے زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے یعنی 15 سے 30 سال کے عمر کی تعداد 60 فیصد سے زائد ہے ملک کی آبادی کا اتنا بڑاحصہ نوجوانوں پر مشتمل ہونا حکومت کیلئے چیلنج ہے نسل نو کے کاندھوں پر مستقبل کی بنیادوں کا بوجھ ہے جبکہ معاشی حالات نوجوانوں کو مجبور کر دیتے ہیں کہ وہ روز گار تلاش کریں فکر معاش ، ذہنی صلاحیتوں کو اجاگر نہیں ہونے نہیں دیتی ، نوجوان کی ترجیحی تعلیم نہیں روزگار ہے جس سے اسکے خاندان کا چولہا چلتا ہے نظام تعلیم بھی آسان اور مستقبل کے تقاضوں کے مطابق نہیں اکثریت انگلش ذریعہ تعلیم کی وجہ سے تعلیم کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتی ۔ اسطرح وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لا سکتے اور ایک کار آمد شہری کا کردار ادا نہیں کر سکتے مایوسی اور سخت جسمانی محنت تمام تر صلاحیتوں کو ختم کر دیتی ہے شعور کی کمی ، منفی سوچ پروان چڑھتی ہے۔ پاکستان کی حکومت کو نوجوانون کے مسائل کو سمجھنے اور مال کیلئے سنجیدگی سے غور کرنا ہو گا ایک دن چند سیمینار اور تقریبات سے نوجوانوں کے مسائل کا حل ممکنہ نہیں ۔ حکومت نے یوتھ کے مسائل کو سنجیدگی سے نہ لیا تو اسکے نتیجے میں معاشرے میں بگاڑ بے روز گاری ، دہشت گردی ، بے راہ داری مزید بڑھے گی۔ چند افراد کے بچوں کو یوتھ سمجھ کر کیمروں کے سامنے لانے سے مسائل حل نہیں ہو سکتے تمام تر نوجوان کو یوتھ پارلیمنٹ کے بارے میں کچھ جانتا نہیں فائیو سٹار ہوٹلوں میں ہونے والی تقریبات میڈیا کی توجہ تو حاصل کرلیتی ہیں مگر اسطرح یہ دن منانے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ غریب اور چھوٹے علاقوں کے نوجوانوں کی رائے عامہ کو مدِ نظر رکھ کر یوتھ پالیسی ترتیب دی جائے۔ پرائیویٹ سکولز ، کالجز اور یونیورسٹی میں بھاری بھر کم فیسوں کے حوالے سے حکومت راست قدم اٹھائے اور سرکاری سطح پر تعلیم کے حصول کو بہتر بنائے بے روزگاری کے مسائلہ کو سنجیدہ طور پر لیا جائے۔ چائلڈ لیبر کنٹرول غربت کے خاتمہ سے ہی ممکن ہے۔ بلدیاتی سطح پر یوتھ کونسلرز کا شامل کرنا احسن اقدام ہے اسطرح ووٹر کی عمر کی حد 18 سال کرنا بہترین ، خطے ہیں ابھی مزید اسطرح کے فیصلوں کی ضرورت ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی صورت میں نوجوان قیادت کا سیاست میں فعال ہونا پاکستانی یوتھ کیلئے خوش آئند ہے۔ یہ وطن تمہارا ہے تم ہو پاسبان اس کے
نوٹ : ادارے کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

Share Button

About M. MAZHAR RASHEED Ch.Abd-ul-Rasheed

Scroll To Top