شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / یہ میرا پاکستان ہے یہ تیرا پاکستان ہے
یہ میرا پاکستان ہے یہ تیرا پاکستان ہے

یہ میرا پاکستان ہے یہ تیرا پاکستان ہے

آج قیام پاکستان کی70ویں یوم آزادی پر پاکستان کا قریہ قریہ شہر شہر گاؤں گاؤں خوشی کی بہار سے مہک رہا ہے ملک کے کونے کونے میں سبز پرچم کی بہار ہے چھوٹے بڑے کیا ہر کو ئی خوشی سے سرشار نظر آتا ہے دکانوں ،مکانوں ،عمارات غرضیکہ ہر جگہ جگمگ جگمگ ہے آج خوشی بے حدخوشی کا مقام ہے ،یہ میرا پاکستان یہ تیرا پاکستان ہے یہ عظیم پاکستان ہے عظیم تر پاکستان ہے،پھولوں سے خوشبو بکھیرتا ہوا ،مہکتا ہوا ،پھلوں سے لدا ہوا،جھرنوں ،آبشاروں ،پہاڑوں ،جھیلوں کی جنت نظیر وادیوں سے بھرا ہوا،انتہائی خوبصورت ،سوہنا ،پیارا ،دلربا ،چمکتا اور نکھرتاہوا یہ تیرا پاکستان یہ میرا پاکستان جسے ہمارے اسلاف نے بے پناہ جدو جہد ،قربانیوں ،مسافتوں ،مصیبتوں ،دکھوں ،قربانیوں ،جدائیوں اور خون کی ندیوں کے عوض حاصل کیا،دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست اس کرہ ارض پر معرض وجود میں آئی ،ہندو اور مسلمان معاشرے بر صغیر میں ایک ہزار سال تک ایک دوسرے کے ساتھ رواں دواں رہے مگر دونوں پر ایک دوسرے کے اثرات سطحی اور منفی رہے ہندو ،ہندو رہے اور مسلمان ،مسلمان رہے دونوں کے تصورات زندگی اور طرز زندگی ایک دوسرے سے بالکل جدا تھے،مسلمانوں اور ہندوؤں کے تاریخی اور معاشرتی اختلافات اس قدر گہرے ہیں کہ دونوں کی دنیا اپنی اپنی ہے جن کے نظریات نہ اس وقت ہم سے ملتے تھے نہ آج ملتے ہیں اور نہ قیامت تک ملیں گے،1857میں جب مغلوں کی حکومت کا ٹمٹماتاہوا چراغ بجھ گیا تو اس دھرتی پر موجود مسلمان ہر طرف سے الام و مصائب میں گھر گئے کیونکہ اس جنگ آزادی میں بعض مسلمان حکمرانوں اور رؤسا نے بھی انگریزوں کی چمچہ گیری کرتے ہوئے اپنی جاگیرں بچائیں جو آج تک ان کے پاس ہیں، مسلم دشمنی کے عنصر سے بھرپور ہندو تنظیموں نے سرکنڈوں کی طرح جنم لیا ان سب کا مجموعی مؤقف یہی تھا کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کے لئے ہے،وہ انگریز کے ساتھ مل کر مسلم دشمنی کی حدیں کراس کرتے جا رہے تھے تب ہمارے مسلمان اکابرین نے ہندوؤں کے جذبات ،ان کی عادات ،ان کے متعصبانہ فلسفے،ان کی مسلم دشمنی کو بھانپ لیا انہیں اس بات کا دراک تھا کہ پہلے ہم انگریز کے ہاتھوں پستے رہے ہیں اب اگر کچھ نہ کیا تو ہماری آنے والی نسلیں بھی ہندو جیسی مکار ،منافق اور بد تر قوم کی غلامی میں گذ رجائیں گی ، آل انڈیا مسلم لیگ کے پہلے صدر وقار الملک نے مسلمانون کے مستقبل کے متعلق خدشات کا اظہار یوں کیا تھا۔جب برطانوی حکومت سے یان سے جائے گی تو اقتدار اعلیٰ اس قوم کے ہاتھوں چلا جائے گا جو تعداد میں ہم سے چار گنا زیادہ ہیں تب ہماری زندگیاں،ہماری املاک ،ہماری ناموس اور ہمارا مذہب سب خطرے میں پڑ جائیں گے ،ہم ان لوگوں کے رحم و کرم پر ہوں گے جو مسلمانوں سے اورنگ زیب اور اس سے پہلے کے مسلمان بادشاہوں کے حقیقی یا فرضی مظالم کا انتقام ہم سے لینا چاہتے ہیں۔دوسری جانب ہندوؤں کی منافقت اور مسلم دشمنی سے بھرپور خیالات وسیع تر ہوتے گئے ہندو رہنماء ہندو قوم کو اس بات پر مزید ابھارتے کہ ۔مسلمان باہر سے آئے تھے یہاں یہ ایک غیر قوم ہیں ،ہندوستان کے ساتھ ان کا کوئی واسطہ نہیں وہ جانا چہاتے ہیں تو جائیں اگر انہیں یہاں رہنا ہے تو ہندو بن کر ہندو معاشرے میں خود کو جذب کر لیں ورنہ ان کا وہی حشر ہو گا جو چند سو سال پہلے سپین میں مسلمانوں کا ہوا تھا،ہندو کی سوچ ماضی کے اسی زمانے سے خائف تھی جب اس دگرتی پر اسلام کا ثقافتی اور مذہبی اثر گہرا ہوتا چلا گیا تھاانہوں نے سلمانوں نے نظام فکر ،زبان ادب ،فنون ،تعمیرات اور زندگی کے تمام دیگر مسلم اثرات کے غلبے کو کبھی دل سے قبول نہیں کیا ان کے اندر مسلمانوں کے خلاف زہر تھا جو آج بھی اس سے بڑھ کر ہے جہاں دیگر عظیم ترین مسلمان رہنماء ہندو قوم سے نجات کے لئے سرگرداں تھی وہیں انہیں دنیا کے عظیم فلسفی اور سچے عاشق رسول ﷺ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال جو اسلام کی تاریخ اور ثقافت کے گہرے مطالعہ دو قومی یکجہتی کے مسائل پر دوررس نظر رکھتے تھے ،وہیں قائد اعظم جیسا ایک عظیم قانون دان جو عصر جدید کی عملی سیاست کے پر پیچ راستوں سے بخوبی آگاہ تھے مسلمانوں کو میسر آئے ،انہی دنوں شاعر مشرق نے قائد اعظم کو ایک خط میں لکھا کہ ۔وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے مسلمان آپ اور صرف آپ ہی کی طرف دیکھیں گے اور آپ ہی ان کی کشتی کو ساحل مراد تک لے جائیں گے، اور وہی ہوا جب قائد اعظم محمد علی کی قیادت میں مسلمانوں کا یہ عظیم ترین دنیا کے افق پر چمکا ،اس کی تقسیم میں حد بندی ہندو اور انگریز کے گٹھ جوڑ سے ہوئی اسی بنا پر پورے پنجاب میں بسنے والے مسلمانوں کے جان و مال کو مسلح سکھ دستوں اور متشدد ہندو گروہوں کے حوالے کر دیا گیابہر حال اس وطن کے قیام میں لاکھوں افراد کے مصائب ،قتل عام ،آتشزدگی،قطع و برید ،مجرمانہ حملے ،دیہاتوں اور انسانوں کو جلانے کو عمل طویل عرصہ تک جاری رہا ان غیر انسانی حرکات میں بلوائیوں کو مکمل سرکاری سرپرستی حاصل رہی،پاکستان کوقائم ہونا تھا وہ قائم ہو گیا اور تا قیامت قائم رہے گا،لوگوں نے قائد کی قیادت میں جذبہ حب الوطن ،ذاتی قربانی اور پختہ یقین نے وہ کام کر دکھایا جو دنیاوی وسائل سے ممکن نہیں تھا،پاکستان اس وقت محدود وسائل کے باجود دنیا کی واحد اور پہلی اسلامی ایٹمی قوت ہے ،اس کی فوج پیشہ ورانہ صلاحیت کی بدولت دنیا کی تمام افواج میں سے پہلے نمبر پر ہے ،ہمہ اقسام کے موسم،زرخیز اور بہترین زمین ،دریا،پہاڑ،بند ر گاہیں ،کارخانے ،سڑکیں ،معدنیات ،تیل ،گیس اوربا صلاحیت ترین افرادی قوت ہے ،آج کا پاکستان جہاں ایک طرف خد ا عظیم کا عظیم ترین تحفہ اور خاص راز اور نعمت ہے وہیں اسے اچھے حکمران نصیب نہیں ہو سکے اگر یہ بد قسمتی اس مملکت کے ساتھ نہ ہوتی تو آج نہ جانے یہ ریاست کس بلند ترین مقام پر ہوتی ،قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا۔ اس خیلای دنیا سے نکل آئیں دماغ ایسے پروگراموں کے لئے وقف کر دیں جن سے ہر شعبہ زندگی میں ہمارے لوگوں کے حالات بہتر ہو سکیں صرف اسی صورت میں ہم اتنے مضبوط ہو کر مخالف اور غرر رساں قوتوں کا مقابلہ کر سکیں گے جو ہمارے خلاف کام کر رہی ہیں ،ایک اور جگہ انہوں نے فرمایا۔الفاظ کی اتنی نہیں جتنی قیمت و قدر افعال کی ہوتی ہے ،پاکستان کی سر زمین میں زبردست خزانے چھپے ہوئے ہیں مگر اس کو ایک ایسا بنانے کے لئے جو ایک مسلمان قوم کے رہنے کے قابل ہو ہمیں اپنی قوت اور اپنی محنت کے ذریعے زبردست ذخیرے کا ایک ایک ذرہ صرف کرنا پڑے گا مجھے امید ہے کہ تمام لوگ اس کی تعمیر میں دل و جان سے حصہ لیں گے ۔کاش ایساہی ہمارے حکمران کرتے یا اب کریں قوم کو اس پاک دھرتی کی70سالگرہ (یوم آزادی )مبارک ہو ،قوم مت گھبرائے اللہ کے اس عظیم تحفہ اور عنایت کو دنیا بھر کے جس کسی فرد یا قوم نے بھی نقصان پہنچایا اس کا حشر نشر ہوا وہ تباہ و برباد ہوا ،تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں سب پتا چل جائے کہ کس نے اس ملک کو نقصان پہنچایا اور اس کے ساتھ پھر ہوا کیا؟یہ قائم رہنے کے لئے بنا ہے اور ہمیشہ قائم رہے گا۔یہ تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے ،پاکستان پائندہ باد۔

Share Button

About aqeel khan

Scroll To Top