تازہ ترینکالمنعیم خاں اتمانی

اخوان المسلمون کیا ہے؟

قاہرہ کے ایک بازار میں دکاندار اور گاہک کے درمیان تکرار ہو رہی تھی۔جب تکرار طول کھینچ گئی تو بہت سے لوگ وہاں جمع ہوگئے،وہاں موجود ہر شخص یہ جاننا چاہتا تھا کہ جھگڑا کیا ہے۔لوگوں کو جب تکرار کی وجوہ کا پتہ چلا تو انگشت بدنداں رہ گئے کہ کیسا خوبصورت جھگڑا ہے۔دکاندار اس بات پر لڑ رہا تھا کہ میں اس گاہک سے منافع نہیں لوںگا اور صرف سودا سلف کی اصلی قیمت چارج کروںگا اور گاہک بضد تھا کہ نہیں میں اس دکان سے سودا خریدوںگا اور ضرور منافع اس دکاندار کو دوںگا۔ان دونوں حضرات کو پاگل کُتے نے نہیں کاٹا تھا بلکہ یہ دونوں اخوانی تھے یٰعنی اخوان المسلمون کے کارکن تھے اس لئے ایک شخص دوسرے کو منافع دینا چاہتا تھا اور دوسرا لینے سے انکار کر رہا تھا۔اخوان کی بنیاد اسلامی جذبے سے سرشار نوجوان حسن البنائ شہید نے 1928 میں رکھی۔حسن البنائ کی زندگی اسلامی حیات اور قربانیوں سے عبارت ہے۔اپ نے ذمانہ طالب علمی میں اپنے چند دوستوں کی مدد سے ’’مجلت الفتح‘‘ نامی رسالہ شروع کیا۔یہ رسالہ اسلامی اقدار کا بے لاگ ترجمان تھا،اسلیئے بہت جلد ترقی کرکے غیرت مند اور تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بڑی تیزی سے مشہور ہونے لگی۔پھر یہی پُر خلوص دعوتی سرگرمیاں اگے چل کر ’’جمعیت الشبان المسلمین‘‘ ﴿تنظیم جوانانِ اسلام﴾ کی تشکیل کا سبب بنی۔جون 1927 میں حسن البنائ نے ڈپلومہ کیا اور 19 ستمبر 1927 کو اسماعیلیہ میں پوسٹنگ کیئے روانہ ہو گئے۔اسماعیلیہ میں پڑھاتے وقت اپ وقتاََ وقتاََ قہوہ خانوں پر وعض ونصیحت کرتے تھے جو بعد ازاں علٰحیدہ جگہ بیٹھ کر درس دینے لگے جس کی رزلٹ میں حسن البنائ سمیت سات افراد نے مل کر اخوان المسلمون کی بنیاد رکھی۔اخوان نے مصری نوجوانون میں سرایت کرکے تیزی سے ترقی کی۔1936 میں کل 150 دفاتر قائم تھے تو 1944 میں 1500 دفاتر قائم ہوگئے تھے۔اخوان کی بنیاد اس وقت رکھی گئی جب ایک طرف اسلامی خلافت بکھر گیا تھاتو دوسرے طرف کمیونزم کا جن بوتل سے باہر اکر خرمستیاں دکھا رہا تھاجس کی وجہ سے نوجوانوں میں خیالات اور عادات نے پنجے گھاڑ دیئے تھے۔اخوان نے کمیونزم اور مغربی مفادات کے خلاف اواز اُٹھائی تو قہر الود صدر ناصر نے اخوان کے مرد اور عورتوں پر ایسے مظالم ڈھائے جسکی مثال چنگیز خان کے دور میں نہیں ملتا،صرف جسمانی سزائیں نہیں بلکہ روحانی تکالیف سے بھی نوازا گیا۔جھوٹے اور ناحق مقدمات بنا کر اپنے ماتحت عدالتوں سے میڈیا کے بغیر بندکمروں میں یکطرفہ فیصلے کئے گئے۔دسمبر 1948 کو مصری حکومت کی طرف سے اخوان غیر قانونی قرار دیا گیا اور ان کے ہزاروں نوجوانوں کو حوالہ ذنداں کیا گیا۔12 فروری 1949 کی شام کو اس جماعت کی مرشد عام حسن البنائ کو قاہرہ میں سربازار شبان المسلمین کے دفتر کے سامنے شہید کیا گیا۔اس کے شہادت کے وقت مصری تاریخ کے اس سیاہ دور کے فرعونیت کے گیت گانے والوں نے ہسپتالوں سے ڈاکٹرز اور ارد گرد سے بجلی غائب کی تھی۔
26 اکتوبر 1954 کو جمال عبدالناصر پر قاتلانہ حملہ ہوا تو اس کا جھوٹا الزام اخوان کے نوجوانوں پر لگاکر 5 ہزار اخوانیوں کو جیل میں ٹھونس دیا گیا اور سات رہنمائوں کو عدالت نے موت کی سزا سنائی۔اس کے بعد 13 جولائی 1955 کو عدالت نے اخوان کے روح رواں سید قطب کو 15 سال قید بامشقت کی سزا سنائی۔یہ سزا انکی غیر حاضری میں سنائی گئی تھی کیونکہ وہ اتنے ناتواں ہوچکے تھے کہ عدالت میں حاضر نہ ہو سکے۔ابھی اس قید کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ طاغوت کی طرف سے سید قطب کو اپنے موقف سے ہٹھانے کے لیئے دوسرے حربے استعمال کئے گئے،کھبی وزیر تعلیم کی لالچ تو کھبی مرشد عام کا تحفہ لیکن اللہ نے سید قطب کو ناحق کے سامنے سینہ سپرد کیا۔سر فروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے اج ہم جس تنظیم کو دیکھتے ہیں اس کی ابیاری حسن البنائ شہید، حسن الہضیمی،عبدلقادر عودہ اور سید قطب شہید نے اپنی خون جگر سے کی تھی۔اخوان قیام پاکستان کا مکمل حامی تھا اور ہر مشکل موڑ پر پشت پناہی کی ہے لیکن غیر ضروری مواد کو بریکینگ نیوز کے طور پر پیش کرنے والا پاکستانی میڈیا نے یہاں کے عوام سے مصر کا اسلامی انقلاب اوربہار عرب اوجھل رکھا۔آج کے اخوان میں جوش اور ولولہ حسن البنائ شہید اور سید قطب شہید کی تقاریر اور مضامین سے نہیں ہے بلکہ ان کے خون معصوم کے گرم گرم قطروں نے پیدا کی ہے۔حسن البنائ نے جس پودے کو بویا تھا،اس کو خون کی ابیاری کی،صبر اورمحنت کا ورد کیا،بھائی چارے اور محبت کا پیارا نام دیا۔پچھلے 84 سالوں میں اس کو کھبی نیل کی تیز ہوائوں کا سامنا کرنا پڑا تو کھبی اپنے جڑیں زہریلے کیڑے مکوڑوں سے بچاتے رہے۔فرعون کے سحر ذدہ کلہاڑیوں نے کھبی شاخ کاٹی تو کھبی بنیادیں کھودنا شروع کی اور اس کے مالی کو سولی پر لٹکایا گیا لیکن افریں صدا افریں کہ اس نے ہار نہیں مانی اور اب وہ ایک تناور درخت بن چکا ہے جو صرف ٹنھڈی چائوں نہیں بلکہ ذائقہ دار پھل بھی فراہم کرتی ہے۔
16 اور 17 جون کو مصری تاریخ کی پہلی اذادانہ صدارتی انتخابات میں امریکہ میں 60 سالہ محمد مرسی نے حسنی مبارک کے دور کے وزیر اعظم سابق فوجی جنرل احمد شفیق کو مات دیدیں۔محمد مرسی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کا سربراہ ہے جو کہ اخوان کا سیاسی ونگ ہے۔مرسی نے کل 51.73 فیصد ووٹ لیکر جیت اپنے نام کرلی۔محمد مرسی نے انتخابات جیتنے کے
بعداعلان کیا کہ میں تمام مصریوں کا صدر ہوں،اور ساتھ ہی ایران اچھے تعلقات کا اظہار جو پچھلے 30 برسوں سے منقطع ہے جس پر مغربی طاقتیں خاص کر اینٹی ایران ممالک پریشان ہونگے۔اخوان کے جیت پر لوگوں نے التحریر سکوائر میں جمع ہو کر اللہ کا شکر ادا کیا اور خوشیان منائیں،یاد رکھ کہ ا لتحریر سکوائر میں جمع شدہ لوگ کسی کے بلاوے یا پیسے کے زور سے نہیں آئے تھے جس طرح پاکستان میں مسلم لیگ،پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے جلسوںکرائے کے حاضرین جمع کئے جا تے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker