پاکستان

اسلام آباد: بیسویں ترمیم پرحکومت اوراپوزیشن کےدرمیان اتفاق

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) بیسویں آئینی ترمیم کےبل پر حکومت اوراپوزیشن کے اتفاق ہو گیا۔ حکومت نے نگراں حکومت کے قیام پر اپوزیشن کا مطالبہ منظور کر لیا۔ اتفاق رائے کے بعد ترمیمکا مسودہ تیار کیا جا رہا ہے۔ بیسویں آئینی ترمیم بل لانے کی وجہ اٹھارہویں آئینی ترمیم ہے۔ اٹھارویں ترمیم انیس اپریل دو ہزار دس کو صدرِ مملکت کےدستخط بعد سے آئین کا حصہ ہے۔جس میں کہا گیا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کے علاوہ ہر صوبے سے ہائی کورٹ کے جج کو کمیشن کا رکن نامزد کیا جائے گا۔ لیکن اس کے بعد چیف الیکشن کمشنر نے دیگر اراکین کی غیر موجودگی میں ضمنی انتخابات کرائے۔ معاملہ عدالت میں آنے پر سپریم کورٹ نے کہا کہ انیس اپریل دو ہزار دس کے بعد منعقد کردہ ضمنی انتخابات کو قانونی تحفظ فراہم کیاجائے۔ ترمیم کی منظوری کےبعد ضمنی انتخابات جیتنے والے سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے اٹھائیس ارکان کو قانونی تحفظ مل جائے گا۔ اٹھارہ جنوری کو بیسویں آئینی ترمیم بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا اور اسپیکر نے یہ بل کمیٹی کو بھجوایا تھا۔اس وقت مسلم لیگ (ن) نے اعتراض کیا تھا کہ اس بل میں ترمیم کی جائے کہ یہ صرف ایک بار کے لیے ہوگا اور آئندہ نامکمل الیکشن کمیشن کی صورت میں ضمنی انتخابات نہیں کرائے جا سکیں گے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker