تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

برسی کے موقع پربلاول بھٹوکاخطاب ،تنقید اور ردِعمل

zafar ali shah logoیہ کوئی مذاق نہیں کہ ایک منتخب وزیراعظم کوہتکھڑیاں لگادی جائیں۔جب سے پاکستان وجود میں آیاہے تب سے سیاسی قوتوں کو لڑایاجارہا ہے۔پاکستان میں طالبانائزیشن ہورہی ہے یہ غربت کی ایک وجہ ہے۔مائنڈسٹ کے خلاف جنگ میں حکومت کاساتھ دیناہے۔تمام سیاسی قوتوں کو مائنڈسٹ کے خلاف ساتھ کھڑاہوناہوگا جبکہ پاکستاں کے لئے میاں صاحب ہرکام اکیلے نہیں کرسکتے ہم نے ان کا ساتھ دیناہوگا۔میں دعا کرتاہوں کہ اللہ اس حکومت کوکامیاب کریں۔ہم پر کوئی پہلی دفعہ امتحان نہیں آیاقوموں پرامتحان آتے رہتے ہیں۔دنیا میں قومیں آپس میں لڑی ہیں سری لنکا کو چالیس سال تک آپس میں لڑایاگیا۔دنیاکے کئی ممالک نے جنگیں لڑیں اور کئی دہائیوں تک لڑیں۔ یہ کہنا تھا 27دسمبر کو گڑھی خدابخش میں بے نظیر بھٹوشہید کے برسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے سابق صدرمملکت اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا۔۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ بدترین جمہوریت بہترین آمریت سے بہتر ہوتی ہے آج ایکِ بلا یہاں آکر پھنس گیاہے اور کہہ رہاہے کہ اگر مجھ سے کوئی قصور ہواہے تو معاف کردیں بِلے کو ہم نے نہیں کہاتھا پاکستان آنے کا۔ اب اگر آگیا ہے توواپس جانے نہیں دینا بِلے کے ساتھ کس طرح نمٹا جائے یہ اب اس حکومت کاامتحان ہے ۔ظاہر ہے زرداری کا اشارہ آرٹیکل چھ کے تحت غداری کے مقدمے کاسامناکرنے والے سابق صدر جنرل(ر)پرویزمشرف کی جانب تھا۔ان کے مطابق بے نظیر کے تمام بچے اگلے الیکشن سے قبل عملی سیاست میں حصہ لیں گے۔نجکاری سمیت دیگرکمزوریوں کی حکومت کو یاددلاتے رہیں گے پارلیمنٹ کے اندر بھی اور پارلیمنٹ سے باہربھی۔۔یہ بھی کہناتھاسابق صدرکا۔اگرچہ سابق صدر کے خطاب میں جذبات کی بجائے ہوش اور دھیمے لہجے کا عنصر زیادہ نمایاں تھا تاہم ان کے مقابلے میں ان کے نوجوان فرزند، سیاسی وارث اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کو ایک جذباتی تقریر کہاجارہاہے جب کہ ان کے سیاسی مخالفین اور سیاسی امور کے بعض ماہرین کا خیال ہے کہ بلاول بھٹو کی تقریر تضادات کا مجموعہ تھی جس میں انہوں نے ایک جانب جن سیاسی جماعتوں کو تنقید کانشانہ بنایا وہیں ان کی تعریف بھی کرتے سنائی دیئے۔بلاول بھٹونے مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف پر خوب ہاتھ صاف کئے نون لیگ کے حوالے سے ان کاکہناتھاکہ شیربھی وہی دودھ پی کرپلاہے جو دہشت گردوں نے پیاہے جبکہ تحریک انصاف کے بارے میں لب کشائی کرتے ہوئے بلاول بھٹوسنائی دئیے کہ چارلوٹوں میں پانی ڈالنے سے سونامی نہیں بن جاتا مزید یہ کہ بزدل خان نے حکیم اللہ محسود کے غم میں نیٹوسپلائی روک دی ہے۔تحریک انصاف نے نیٹوسپلائی روک کر ثابت کردیاہے کہ وہ یہ جنگ ختم نہیں کرناچاہتی۔دہشت گردی ڈرون حملوں سے پہلے بھی ہورہی تھی اور بعد میں بھی جاری رہے گی اور پاکستان سمیت دنیاکو دہشت گردی کا سامناہے۔ان کے مطابق ہم آپس میں الجھے ہوئے ہیں۔اپنے والدآصف زرداری سے متعلق ان کا کہنایہ تھاکہ ملک ٹوٹنے کے قریب تھاتاہم زرداری نے ملک اور جمہوریت بچانے کے لئے ناممکن کو ممکن بنایااور آج ہم جمہوریت کے سائے میں زندگی گزاررہے ہیں۔عام انتخابات سے متعلق بلاول بھٹونے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجابی اسٹیبلیشمنٹ ان کے خلاف متحد ہوچکی تھی اور نہیں چاہتے تھے کہ پیپلزپارٹی کو ووٹ ملے ۔اسفندیارولی خان اور الطاف حسین نے مجبورکیاکہ ویڈیولنک کے ذریعے مہم چلائیں۔جانتا ہوں کہ پیپلزپارٹی کے جیالے ناراض ہیں لیکن وہ مایوس نہیں ہیں۔ بلاول بھٹوزرداری کے خطاب پر فوری ردعمل دیتے ہوئے مسلم لیگ نون کے وزیرقانون پنجاب راناثناء اللہ نے کہاکہ بلاول کی تقریر تضادات کا مجموعہ تھی انہیں بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر ایسی تقریر نہیں کرنی چاہئے تھی سیاسی جماعتوں پر تنقید مناسب نہیں تھی اور چاہیئے تھا کہ اس موقع مفاہمت کا کوئی پیغام دے دیتے ۔ایک جانب بلاول نے کہا کہ شیر نے بھی وہی دودھ پیا ہے جو دہشت گردوں نے پیا ہے لیکن اگلے ہی لمحے کہتے سنائی دیئے کہ شیر اور تیر مل کر دہشت گردوں کا شکار کریں گے۔راناثناء اللہ نے کہا کہ نون لیگ کی حکومت امتحان میں سرخروہوچکی ہے آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ درج کرکے تمام ثبوتوں کوملاکر معاملہ عدالت کے سپرد کردیا ہے اور اب سابق صدر کے مستقبل کا فیصلہ عدالت کے ہاتھ میں ہے انہوں نے آصف علی زرداری پر زوردیاکہ وہ بلاول بھٹوزرداری کے لئے تقریر لکھنے والوں کو فوری طورپرفارغ کریں۔ تحریک انصاف کی ترجمان ڈاکٹر شیریں مزاری نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو ابھی بچہ ہے انہیں سیاست کی کوئی سمجھ ہے نہ ہی سیاسی لیڈرز کی عزت کی تمیز۔شیریں مزاری نے مشورہ دیاکہ اگر بلاول بھٹو نے سیاست کی دہلیزپرقدم رکھاہے توان کی سیاسی تربیت ہونی چاہیے سیاسی جماعتوں پر تنقید اورسیاسی لیڈرزکی عزت کس طرح کی جاتی ہے یہ بھی انہیں سکھایاجائے۔ بلاول نے سیاسی جماعتوں کے بارے میں کیاکہا اور انہیں آڑے ہاتھوں کیوں لیااگرچہ بچہ سہی،کم عمرسہی لیکن یہ تو ماننا پڑے گا کہ بلاول بھٹواس وقت ذوالفقارعلی بھٹواور بے نظیربھٹو کی پارٹی کے سربراہ ہیں اور سیاسی جماعت کے سربراہ کے خطاب میں سیاسی مخالف قوتوں کو ہدف تنقید بنانامعمول کی بات ہوتی ہے البتہ اس بات سے کوئی اختلاف نہیں کہ سیاسی تنقید پارٹی پالیسیوں ساور اقداماست تک محدود ہو نہ کہ سیاسی لیڈرز کی ذات پرکیچڑاچھالن

یہ بھی پڑھیں  شکاگو:نیٹوسربراہ کانفرنس میں حکمران اپناموقف پیش کرنے میں ناکام رہے،راؤناصرعلی میئو

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker