تازہ ترینعلاقائی

بھائی پھیرو:گرلزڈگری کالج ،بوائز ہائی سکول ،اورسٹی پولیس سٹیشن کے مین گیٹوں کے سامنے گندگی کے ڈھیر

بھائی پھیرو(نامہ نگار) گرلز ڈگری کالج ،بوائز ہائی سکول ،اور سٹی پولیس سٹیشن کے مین گیٹوں کے سامنے گندگی کے ڈھیر، سپیکر پنجاب اسمبلی کی خصوصی کاوش سے ڈگری کالج برائے خواتین کی دیوار کے ساتھ بننے والے تین واش روم ،شیڈ اور بینچ ویران،ملتان روڈ سمیت مین بازاروں میں ناجائز تجاوزات کی بھر مار، نااہل بلدیہ ملازمین کی بدولت شہر کے گلیاں محلے گندے پانی اور گندگی کے ڈھیروں میں تبدیل ۔ہزاروں طلبا اور طالبات کی زندگیاں داؤ پر لگ گئیں۔بلدیہ بھائی پھیرو میں ڈیڑھ سو سے ذائد ملازمین مگر ڈیوٹی پر پچاس سے بھی کم، مہربان چیف آفیسر کی مہربانی سے ہیڈ کلرک ودیگر بلدیہ ملازمین گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کرنے لگے،ٹی ایم اے پتوکی و ڈی سی اوقصور بے بس شہری سراپا احتجاج ،چیف سیکرٹری پنجاب سمیت وزیر اعلی پنجاب سے فوری طور پر کارروائی کرنے کا مطالبہ۔
تفصیلات کے مطابق۔ڈگری کالج برائے خواتین اور رورل ہیلتھ سینٹر بھائی پھیرودونوں ادارے ملتا ن روڈ پر واقع مگر دونوں اداروں کے سامنے گندگی کے ڈھیر نہ صرف بلدیہ بھائی پھیرو کی بے حسی کارونا رورہے ہیں بلکہ ملتان روڈ سے گزرنے والا ہر مسافر و ٹرانسپورٹر بھی دونوں اداروں کے آگے لگے گندگی کے ڈھیروں کا نظارا کرتے ہوئے گزررہاہے اور یہاں سے گزرنے والا یہ تاثر بھی لیکر جارہاہے کہ کس طرح کالج جانے والی طالبات اور ہسپتال جانے والے مریض گندگی کے ڈھیروں سے گزر کر جاتے ہونگے اس سلسلہ میں جب سروے کیا گیا تو شہری جاوید احمد نے بتایا کہ شہر بھر کے گلی محلوں میں اکثر گندا پانی کھڑا رہتا ہے اور بلدیہ کے عملہ کو اطلاع کے باوجود کئی کئی دن گزر جاتے ہیں شہری اعجازاحمد نے بتایا کہ ڈگری کالج برائے خواتین کی دیوار کے ساتھ سپیکر پنجاب اسمبلی کی خصوصی کاوش سے کچھ ماہ قبل تین واش روم ،شیڈ اور بیٹھنے کے لیے بینچ بنائے گئے مگر بے فائدہ کیونکہ انہیں استعمال کوئی نہیں کرسکتا البتہ بینچ اوربینچوں کے اوپر چھاؤں کے لیے لگے شیڈ کالج ٹائم کے وقت آوارا مشٹنڈے استعمال کرتے ہیں اور ان بینچوں پر بیٹھ کر کالج آنے جانے والی طالبات پر نہ صرف آوازیں کستے بلکہ چھینا جھپٹی بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں شہری فاروق احمد نے بتایا کہ بلدیہ بھائی پھیرو میں ڈیڑھ سو سے ذائد ملازمین ہیں مگر ڈیوٹی صرف پچاس کے قریب ہی کررہے ہیں باقی سب گھروں میں بیٹھ کر یا اپنا کاروبار کرکے سرکاری تنخواہوں کے مزے لے رہے ہیں شہری ندیم احمد نے بتایا کہ مین بازار اور ملتان روڈ پر ناجائز تجاوزات کی اس قدر بھر مار ہے کہ ٹرانسپورٹروں کا گزرنا تو ایک طرف پیدل چلنے مسافروں و شہریوں کا گزرنا بھی کسی معرکہ سے کم نہیں ہے جبکہ روزانہ اس شہر سے سیاستدانوں اور بڑے بڑے افسروں کا بھی گزر ہوتا ہے مگر انہیں بھی شائد یہ سب کچھ نظر نہیں آرہا؟شہرام خان فاؤنڈیشن کے چیئرمین رانا احمد حسن خاں نے کہا کہ ڈگری کالج اور رورل ہیلتھ سینٹر دونوں ادارے ہی ملتان روڈ پر واقع اور حساس ہیں مگر اداروں کے سامنے گندگی کے ڈھیر لگے رہنا بلدیہ کی بے حسی تو ہے ہی مگر ان جگہوں کو فلتھ ڈپو میں ڈکلیر کردینانہ صرف قابل افسوس ہے بلکہ قابل مذمت بھی ہے آخر میں چیئرمین فاؤنڈیشن رانا احمد حسن خاں نے چیف سیکرٹری پنجاب اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود ذاتی طور پر دلچسپی لیتے ہوئے علاقہ بھائی پھیرو کا اچانک دورہ کریں اور اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ کیا یہاں پر انسان نہیں بستے ؟شہری جمیل احمد نے بتایا کہ بلدیہ کے ہیڈکلرک سمیت دیگر ملازمین گھروں میں بیٹھے تنخواہیں وصول کررہے ہیں اور انہیں کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے جبکہ ہیڈ کلرک تو ڈیوٹی کرنے کی بجائے صرافہ بازار میں اپنی ذاتی سنار کی دوکان چلارہا ہے اور اسی طرح چیف آفیسر بھی کبھی کبھار ہی بلدیہ بھائی پھیرو میں دکھائی دیتا ہے اس سلسلہ میں موقف جاننے کے لیے جب چیف آفیسر بلدیہ بھائی پھیرو محمد شفیع سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اپنے موقف میں کچھ یو ں بیان کیاکہ بھائی پھیرو سے ناجائز تجاوزات ،گندگی کے ڈھیر ختم کروانا میرے بس کی بات نہیں ہے اور میں تو صرف ٹائم پاس کررہا ہوں کیونکہ عنقریب میں نے ریٹائرڈ ہوجانا ہے اور جو میرے بعد چیف آفیسر آئے گا وہی اس شہر سے گند صاف کروائے گا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈگری کالج برائے خواتین اور رورل ہیلتھ سینٹر کے سامنے فلتھ ڈپو ڈکلیر کرنا میری مجبوری تھی اس لیے میں نے ان دونوں پوائنٹوں کو فلتھ ڈپو ڈکلیر کیا ہوا ہے مزید انہوں نے کہا کہ شہر میں صفائی و ناجائز تجاوزات ختم کروانا ٹی ایم اوپتوکی اور ڈی سی او قصور کے بھی بس کی بات نہیں کیونکہ اگر ہم ناجائز تجاوزات ختم کروانے کے لیے کوئی ایکشن لیتے ہیں تو دوکاندار وخوانچہ فروش ارکان اسمبلی کے پاس چلے جاتے ہیں اس لیے ہم بھی ہاتھ پہ ہاتھ دھرے رہ جاتے ہیں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!