شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / بھائی پھیرو اور گردونواح میں جمعتہ المبارک کے خطبات میں متنازعہ ختم نبوت بل پاس کرانے پر حکومت کی شدیدمذمت۔متنازعہ بل واپس لینے کا خیر مقدم

بھائی پھیرو اور گردونواح میں جمعتہ المبارک کے خطبات میں متنازعہ ختم نبوت بل پاس کرانے پر حکومت کی شدیدمذمت۔متنازعہ بل واپس لینے کا خیر مقدم

بھائی پھیرو(نامہ نگار)بھائی پھیرو اور گردونواح میں جمعتہ المبارک کے خطبات میں متنازعہ ختم نبوت بل پاس کرانے پر حکومت کی شدیدمذمت۔متنازعہ بل واپس لینے کیاقدام کا خیر مقدم۔ ختم نبوت کے حلف کو آئین سے نکالنے کی منظم سازش کرنے والوں کو بے نقاب کیا جائے اور توہین رسالت کے جرم میں مقدمہ درج کیاجائے۔علما اور سیاسی رہنماؤں کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق بھائی پھیرو اور گردونواح میں سینکڑوں مساجد میں جمعتہ المبارک کے خطبات میں علمائے اکرام نے متنازعہ ختم نبوت بل پاس کرانے پر حکومت کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکمران غیروں کو خوش کرنے کیلیے ہمارے متفقہ قانون سے اسلامی قوانین کو ختم کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔معروف عالم دین اور دینی سکالر اور جماعت اسلامی ضلع قصور کے امیر راو اختر علی نے کہا محض کلیریکل غلطی قرار دے کر اتنے بڑے معاملے کو دبایا نہیں جاسکتا۔ کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ عقیدہ ختم نبوت ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے جس پر کوئی مصلحت برداشت نہیں کی جاسکتی۔انہوں نے کہا کہ یہ بل پاس کرانے والے توہین رسالت کے مرتکب ہوئے ہیں ان پر توہین رسالت کے جرم میں مقدمہ درج کر کے سخت ترین سزا دی جائے۔معروف سیاست دان سردار نور احمد ڈوگر نے لمبے جاگیر میں جمعہ کے اجتماع میں ایک قراداد پیش کرتے کہا کہ اداروں کی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور ایک دوسرے پر الزامات لگانے کی کوششیں ملک اور جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہیں اس لیے تمام اداروں کو اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ملک و قوم کی خدمت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ ممبران پارلیمنٹ کے امیدواروں کے حلف کو بدلنے اور 148 حلفاً 147 کا لفظ نکالے جانے کی تحقیقات کی جائیں اور مجرموں کو بے نقاب کر کے قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی کو عقیدہ ختم نبوت میں نقب لگانے کی جرا ت نہ ہو۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ایسی انتہائی گھناؤنی سازش کو محض املاء یاکمپوزنگ کی غلطی قرار دے کر بری الذمہ نہیں ہوسکتی یہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے جس سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔تحریک ختم نبوت کے رہنما اور یوسی بھگیانہ کے سابق امیدوار چئیر مین رانا شمشاد خاں نے کہاکہ ملک پر جمہوریت کے نام پر70 سال سے بدترین آمریت مسلط ہے۔ ملکی سیاست اور جمہوریت افراد اور خاندانوں کے گرد گھوم رہی ہے۔ چند وڈیرے، جاگیردار اور سرمایہ دار ملکی سیاست کے سیاہ و سفید کے مالک بنے ہوئے ہیں اور وہ اقتدار کے ایوانوں پر قابض رہنے کے لیے آئین کو اپنی بادشاہت کے رستے کی سب سے بڑی دیوار سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں افراد اور خاندانوں کی بجائے آئین و قانون کی بالادستی ہونی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ تحریک ختم نبوت کیلیے مسلمانان پاک و ہند نے ہزاروں جانوں کے نزرانے پیش کیے ہیں اور یہ قانون ہمارے ایمان کا حصہ ہے اس قانون کو ختم کرنے والے عبرت کا نشان بن جائیں گے۔اسلامی جمعیت طلبا کے ضلع قصور کے ناظم نے کہا کہ حکومت نے متنازعہ بل واپس لیکر عقلمندی کا ثبوت دیا ہے اور ملک کے کروڑوں مسلمانوں کے جزبات کی ترجمانی کی ہے

یہ بھی پڑھیں  دریائے چناب پرپل بنانے کی حکمت عملی انتہائی ناقص تھی، میاں شہبازشریف