تازہ ترینطاہر نامہکالم

بیوروکریٹس اور جاگیرداروں کی چالبازیاں

پنجاب جاگیردارانہ سیاست کا مرکز رہا ہے اکثر جاگیرداروں کی کوشش رہی ہے کہ وہ برسراقتدار طبقے کی آنکھوں کا تارہ بنے رہیں ان کے نزدیک سیاست تاش کے کھیل سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔اقتدار میں رہنے کے لیے یہ نت نئی چالیں چلتے رہتے ہیں اور بر سر اقتدار طبقے کو بلیک میل کر کے ان کی حکومتوں کے عروج و زوال کا باعث بھی بنتے رہے ہیں۔ان جاگیرداروں نے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے بیوروکریسی سے بھی گٹھ جوڈ کر رکھا ہے لیاقت علی خان سے لے کر موجودہ حکمرانوں تک سیاست کا کھیل اور اس میں حصہ لینے والے کھلاڑی وہی ہیں ۔یہی وہ جاگیردار ہیں جنہوں نے لیاقت علی خان کو قائد ملت ۔محترمہ فاطمہ جناح کو خاتون پاکستان ۔ایوب خان کو فخر ایشیا ۔زوالفقار علی بھٹو کو تیسری دنیا کا عظیم رہنما۔جنرل ضیاالحق کو امیرالمومنین۔محمد خان جونیجو کو جمہوریت کا چمپیئن۔بے نظیر بھٹو کو دختر مشرق اور میاں نواز شریف کو پاکستان کا شیر بنا دیا۔اصل خرابی کی بنیاد یہ ہے کہ ہم خود غلط لوگوں کے ہاتھ میں چلے گئے اور ایسے لوگوں کے آلہ کار بن گئے جو اپنے موجودہ منصب کے اہل نہ تھے۔ملکی سیاسیاست کے تاریک ہونے کا دور اسی دن شروع ہو گیا تھا جب جاگیردارانہ قیادت نے سرکاری ملازموں کو اپنا شریک اقتدار کیا اور اسی بیوروکریسی نے سیاستدانوں کو ایسا رسوا کیا کہ ان کا وجود ان کے سامنے بھیگی بلی کی طرح ہو گیا۔اور اس نے لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے سیاستدانوں کو وزارتوں کی مسند پر لڑا دیا۔وزارتی کشمکش کی بساط پر جو کچھ ہوتا رہا وہ ہماری سیاست کا ایک افسوس ناک باب بن گیاہے۔ملک میں سیاسی رہنماؤں۔وزیروں اور سرکاری افسروں کی ایسی کھیپ موجود ہے جن کی دولت ۱۹۴۷ سے اب تک ناجائز وسائل اور اختیاری ہتھکنڈوں سے جمع ہوئی ہے ا ور جب بھی کوئی حکومت اقتدار سے الگ ہوتی ہے یا کی جاتی ہے اس کے بعد آنے والے سابقہ دور کو بد عنوانیوں اور کرپشن کا دور قرار دیتے ھیں۔پھر ان کے مشیروں اور وزیروں کی جائدادوں اور لوت مار کی تحقیقات شروع ہو جاتی ہیں پھر سابقہ حکومت کا وائٹ پیپر چھپتا ہے عدالتوں میں ریفرنس بھیجنے کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں اس طرح ایک نئے جوڑ توڑکی بنیاد پڑتی ہے۔جو لوگ سابقہ حکومت کے وفا دار رہتے ہیں وہ آنے والوں کی نظر وں میں کرپٹ یا بعض صورتوں میں پاکستان دشمن تک قرار دے دیے جاتے ہیں اور جو حالات سے سمجھوتہ کر کے اندرون خانہ نئے حکمرانوں سے مل جاتے ہیں وہ جمہوریت کے چمپیئن ۔وطن دوست بن جاتے ہیں جو ان کے ساتھ نہ چلیں ان کو سیاست سے کنارہ کشی کرنی پڑتی ہے کیونکہ فائلوں کا ریکارڈ انھیں خاموش کرانے کے لئے کافی ہوتا ہے۔یہ کسی ایک حکمران کا طرز عمل نہیں ماضی۔حال مستقبل کی ایک ہی کہانی ہے اور رہے گی۔سیاسی سٹیج کے اداکاروہی ہیں البتہ وقفے وقفے سے ان کا گٹ اپ تبدیل کرنے کے لئے تھوڑا سا میک اپ بدلنا پڑتا ہے اور اس کھیل میں احتساب صرف انہی لوگوں کا ہوتا ہے جو حکمرانوں کی آنکھوں کا کانٹا بن کر کھٹکتے رہتے ہیں۔حکمراں بس قرض پہ قرض لئے جاتے ہیں اور حالت یہ ہے کہ بقول شاعر۔ قرض کی پیتے تھے مئے اور سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہء مستی اک دن
لیکن اب پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا کی بدولت عوام بیدار ہو چکی ہے اور وہ ان سٹیج کے اداکاروں کی اداکاری کو سمجھ چکی ہے اب وقت ہے ان سب کے احتساب کا۔ اور بقول شاعر
ضمیر کے تاجروں سے کہہ دو پناہ ڈھونڈیں نہ منہ چھپایءں
عوام کے سامنے وطن کے تمام مجرم حساب دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں  تحریک قصاص حکومتی خاتمے تک جاری رہیگی،طاہرالقادری

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker