پاکستانتازہ ترینرپورٹس

تھرپارکر میں قحط سالی کے باعث سینکڑوں بچوں کی ہلاکت حکمرانوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

اوکاڑہ (پاک نیوز لائیو سروے)تھرپارکر میں قحط سالی کے باعث سینکڑوں بچوں کی ہلاکت حکمرانوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان، عوام کے جان و مال کے تحفظ کے وعدے کرنے والوں کو معصوم بچوں کی ہلاکتیں نظر نہ آئیں سینکڑوں ماؤں کی گود اجڑنے کے بعد خیال کس کام کا کیا یہ حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت نہیں،تھرپارکر میں معصوم بچوں کی ہلاکت پر مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے’’نمائندہ پاک نیوز لائیو‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔شہزاد انجم انصاری نے کہا کہ تھر میں بھوک اور پیاس سے 125سے زائد معصوم بچوں کی ہلاکت پاکستان کی تاریخ کا عظیم سانحہ ہے جو سراسر حکومتی غفلت سے پیش آیا سندھ حکومت ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فی الفور مستعفیٰ ہوجائے سندھ فیسٹول پر کروڑوں روپے خرچ کرنے والوں سے تھرپارکر کی ہلاکتیں کیسے اوجھل رہیں۔سندھ کی عوام سندھ کے حکمرانوں سے سوال کرتی رہیں گے۔محمد شفیق مدنی نے کہا کہ تھر پارکر میں سینکڑوں بچوں کی ہلاکت پر پاکستان بھر کی عوام نہایت افسردہ ہیں جو تھر کے عوام کے دُکھ درد میں برابر کے شریک ہیں تھر میں معصوم بچوں کی ہلاکتوں پر یہ بات عیاں ہوگئی ہے کہ حکمرانوں کو عوام کی زندگیوں سے کوئی سروکار نہیں ان کے معیار زندگی کی کوئی فکر نہیں تھرپارکر کا واقعہ بے حسی اور سنگدلی کی مثال بن گیا ہے غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کاروائی کرنا ہوگی تاکہ آئندہ اس جیسا کوئی واقعہ رونما نہ ہوسکے کوئی بچہ بھوک اور پیاس کی وجہ سے دم نہ توڑے۔ پیر جنید قریشی نے کہا تھرپارکر میں سینکڑوں بچوں کی ہلاکت لمحہ فکریہ ہے ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے سدباب کرنا چاہیے تھر کی صورتحال زندہ رہنے کے بنیادی حق کی سنگین خلاف ورزی ہے میڈیا نے تھر کی صورتحال کو اجاگر کرکے حکمرانوں کو خواب غفلت سے جگایا مگر سوال یہ ہے کہ آکر میڈیا کہاں تک پہنچے اگر میڈیا تھرپار کر میں ہونے والی ہلاکتوں کی نشاندہی نہ کرتی تو شاید مزید ہلاکتیں ہوجاتیں ایسا واقعہ کسی دوسرے ملک میں رونما ہوجاتا تو پورا سسٹم ہل جاتا مگر ہمارے ہاں صرف ذمہ داری قبول کرنے کو ہی اس کا کفارہ سمجھا گیا۔حکیم حاجی محمد یٰسین نے کہا کہ تھرپار کر کا سانحہ حکمران طبقہ کا ضمیر جھنجھوڑنے کیلئے کافی ہے عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاستی حکمرانوں کی ذمہ داری ہے تھرکی صورتحال پر حکمرانوں کو خدا کے آگے جواب دینا ہوگا واقعہ سے عالمی سطح پر پاکستان کے امیج کو دھچکا لگا ہے تمام پاکستانیوں کو اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی امداد کیلئے آگے بڑھنا چاہیے تاکہ تھر کے عوام اپنی معمول کی زندگی گزار سکیں عوام کو چاہیے کہ ریلیف کیمپ اور فنڈنگ کے ذریعے تھر کے عوام میں احسان محرومی کا خاتمہ کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔محمد عرفان صابری نے کہا کہ تھر کا واقعہ انسانیت کی تذلیل کے مترادف ہے اور عوامی مینڈیٹ کی توہین تھر کے ممبران اسمبلی تھر کی صورتحال کے برابر کے شریک ہیں عوام کو ایسے مفاد پرستوں پر گہری نظر رکھنا ہوگی جنہیں اپنے حلقہ کی عوام کے معیار زندگی سے سروکار نہیں ایسے ارکان پارلیمنٹ کا احتساب ہونا چاہیے تھر کے واقعہ پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے حکمرانوں کو تھر کے علاقے میں ایسا نظام واضح کرنا چاہیے تاکہ وہاں کے مکینوں کا انتظامیہ سے رابطہ بحال رہ سکے ایسے مقامی پلیٹ فارم بنائے جائیں جہاں سے مسائل کی صورتحال پر گہری نظر رکھی جاسکے تاکہ آئندہ کوئی ایسا سانحہ رونما نہ ہوسکے اکثریت نے تھر کے سانحہ کو حکمرانوں کی غفلت سے تشبیہہ دی اور حکمرانوں سے آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے سدباب کیلئے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا

یہ بھی پڑھیں  عوامی عدالت کا عوامی فیصلہ

یہ بھی پڑھیے :

2 Comments

  1. اکیسویں صدی میں تھر کے علاقہ میں قحط و خشک سالی سے سینکڑوں معصوم
    جانوں کی ہلاکتیں ایک بہت بڑا انسانی المیہ ہے، یہ معاملہ یہیں ختم نہ ہوا
    ہے بلکہ موت کا رقص اب بھی جاری ہے۔

    ………………………………………..

    تھر میں قحط و خشک سالی

    http://awazepakistan.wordpress.com/

  2. اکیسویں صدی میں تھر کے علاقہ میں قحط و خشک سالی سے سینکڑوں معصوم
    جانوں کی ہلاکتیں ایک بہت بڑا انسانی المیہ ہے، یہ معاملہ یہیں ختم نہ ہوا
    ہے بلکہ موت کا رقص اب بھی جاری ہے۔

    ………………………………………..

    تھر میں قحط و خشک سالی

    http://awazepakistan.wordpress.com/

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker