تازہ ترینکالم

’’حجاب‘‘عورت کا حسن ہے

حیا عورت کا زیور ، حجاب اس کا حسن ہے، اس بات کا اندازہ مسلم خواتین بخوبی کر سکتی ہیں، جنہیں اسلام نے فطرت کے عین مطابق حقوق فراہم کیے ہیں۔حجاب کا ذکر مسلمانوں کے دستور حیات قرآن مجید میں کچھ یوں ہے’’اے پیغمبر ! اپنی بیویوں بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہ دو کہ باہر نکلا کریں تو اپنے منہ پر چادر لٹکا کر گھونگھٹ نکال لیا کریں، یہ کام ان کے لیے شناخت و امتیاز ہو گا۔تو﴿ایسا کرنے سے ﴾ کوئی ان کو ایذانہ دے گا۔ اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔﴿سورۃ الاحزاب آیت نمبر۹۵﴾ اس کے علاوہ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کے فرامین میںبھی عورتوں کو باپردہ رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ دین الہٰی صراط مستقیم پر قائم رہنے کی فکر دیتا ہے یہ اس وجہ سے ہے کہ معاشرے میں بیگاڑ پیدا نہ ہو اور معاشرے میں اعتدال قائم رہے۔ مسلم خواتین کے لیے آج اسی دعوت فکر کو اپنانے کا دن ہے۔ آج عالمی یوم حجاب بین الاقوامی طور پر مسلم خواتین کے لیے حجاب کے حق کے حصول اور اس کی تجدید کا دن ہے۔عالمی یوم حجاب 4ستمبر کو کیوں منایا جاتا ہے اور اس کا کیا مقصد ہے۔ ستمبر دو ہزار تین کو فرانس میں اسکارف کے استعمال پر پابندی کا قانون پاس کیا گیاجس پر مغربی ممالک سمیت پوری دنیا کے مسلمانوں میں تشویش پائی گئی، اور تین سو سے زائد مسلم مندوبین نے لندن میں علامہ یوسف قرضاوی کی زیر صدرات ایک کانفرنس بلائی ، جس کے اعلامیہ میں متفقہ طور پر چار ستمبر کو عالمی طور پر یوم حجاب منانے کا اعلان کیا گیا، یوں 4ستمبر عالمی یوم حجاب قرار پایا اور ستمبر 2004ہی سے اسے پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔
آج جہاں آزادی نسواں کے نام پر وہ خاتون جو کبھی چراغ خانہ ہوتی تھی اسے شمع محفل بنا دیا گیا، فحش ڈراموں اور فلموں کے بعد عریاں اشہتاروں کے ذریعہ عورت کی اس رسوائی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ مغربی اور ہندوانہ تہذیبوں کی چکاچوند سے متاثر ہو کر اسلام نے عورت کو جو نسوانی وقار اور مرتبہ دیا تھا اس سے اسے محروم کر دیا گیا۔ پاکستان میں مغربی اور ہندوئوانہ کلچر کا فروغ مسلم معاشرے کو تباہ کرنے کی سازش ہے۔ ویلٹائن ڈے، بسنت اور شادی و بیاہ کے غیر اسلامی رسم و رواج کو پروان چڑھانے والوں نے اخلاقیات کا گلہ گھونٹ دیا۔ اور اسلامی اقدار کو پس پشت ڈال کے مغرب کے تائید کی۔
فرانس، جرمنی اور دیگر کئی مغربی ممالک میں مسلم خواتین حجاب پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ مغرب جو انسانی حقوق کا سب سے بڑا علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔اس نے ہمشیہ یہ واویلہ کیا ہے کہ مغربی ممالک میں خواتین کو مکمل آزادی اور تمام حقوق میسر ہیں جبکہ مسلم ممالک میں خواتین کے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں، جبکہ حقائق اس مغربی دعوے کے برعکس ہیں۔ دنیا کے کسی مذہب میں خواتین کو اتنے حقوق حاصل نہیں جتنے اسلام نے خواتین کو دیئے ہیں۔ان حقوق میں سے حجاب بھی خواتین کا ایک حق ہے جو اس میں شرافت و حیا کا مادہ پیدا کرتا ہے اور اسے ہر بری نظر اور گناہ سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہ حق انہیں مغرب نے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کے ذریعے دیئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  ڈسکہ:نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پولٹری فارم میں سوئے 2افرادقتل

کبھی وہ زمانہ تھا کہ عورت اپنا چہرہ دکھانا مناسب نہ سمجھتی تھی۔ وہ اس پر ’’غیرت‘‘ کھاتی تھی۔ آج وہ دور ہے کہ اسے ’’جدت‘‘ کا نام دیا جارہا ہے۔ کل جس چیز پر فخر کیا جاتا تھا، آج ’’روشن خیالوں‘‘ نے اسے باعثِ عار بنادیا ہے۔ ستم یہ ہے کہ روشن خیالوں نے جو ظلم کیا، کچھ بہن بیٹیاں اس سے لاعلم ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ یہ بہن بیٹیاں ظاہری چمک دمک سے متاثر ہوگئیں۔ انہیں معلوم نہ ہوسکا کہ صرف چند ٹکوں کی خاطر انہیں جنسِ بازار بنایا جارہا ہے۔ اس لیے عورت کو سوچنا چاہیے کہ اسلام نے اسے حقیقی آزادی دی۔ اسے گھر کی ملکہ بنایا۔ اسے جائیداد میں وارث بنایا۔ اس کے مال میں تصرف کو ناجائز قرار دیا۔اس دور میں جہاں مغربی ممالک نے اسلام اور حجاب کے خلاف ایک محاذ کھول رکھا ہے ہمارے ہاں ان مسلم خواتین کو حقوق کا دفاع کرنے کے بجائے اور ان کے عزم و جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہوئے ان کی آوزا میں آواز ملانے کے بجائے۔ اسلام کے نام پر بننے والے ملک پاکستان میں کئی ماہ سے ایسی شرمناک مہمات جاری ہیں،جو بے پردگی اور بے حیائی کو فروغ دے رہی ہیں ۔ فحاشی و عریانی اور بے پردگی کو فروغ دینے میں اس وقت ہمارا الیکڑونک میڈیا اور تشہری کمپنیاں بڑھ چڑھ کر اپنا کردار پیش کر رہی ہیں۔ اور افسوس اس بات پر ہے کہ ایک عام فرد سے لے کر حکام اعلیٰ تک سب کے علم میں ہونے کے باوجود کوئی ہمت نہیں کررہا کہ قانون کے دائرے میں رہ کر اس بے حیائی اور عریانی کے خلاف آواز اُٹھائے۔
ایسے موقع پر ہمیں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ہمارے پڑھے لکھے اور مؤثر طبقے کو چاہیے کہ وہ آگے آئے،جو برائی کے بجائے بھلائی پھیلائیں۔ جو گندگی اورغلاظت کے بجائے پاکیزگی اور پاکدامنی کی ترغیب دیں۔پردہ عورت کا حق ہے اور ایسے پروگرامات اور اشہتارات جن میں عورت نامناسب لباس و انداز میں پیش کیا جائے یہ عورت کی ذات اور تقدس پر حملہ ہے اور اس کا مقابلہ عورت ہی بہتر انداز میں کرسکتی ہے۔ اسے چاہیے، اپنا کردار ادا کرے۔ اس کے لیے سڑکوں پر نکلنے کی ضرورت نہیں۔ ٹائر جلانا اور گاڑیوں کے شیشے توڑنے کی بھی حاجت نہیں۔ کوئی بھی عورت گھر بیٹھے اپنا کردار ادا کرسکتی ہے۔ آج ہر ایک کے پاس موبائل ہے۔ ایک چھوٹا سا پیغام بنائیں۔ اس میں اپنا مدعا تحریر کریں اوران کو بتائیں کہ ننگے جسموں کے ساتھ گھومنے کے کیا نقصانات ہیں اور پردے کے کیا فوائد ہیں یہ پیغام قریبی دوستوں، سہیلیوں کو بھیجیں۔ جو خواتین مزید حصہ ملانا چاہیں، وہ اخبارات و جرائد میں اس حوالے سے اصلاحی مضامین لکھ سکتی ہیں۔ اپنے ان مضامین میں پردہ نہ کرنے کی وجہ سے معاشرے میں جو بیگاڑ پیدا ہوتا ہے اس کے متعلق بتایا جائے اور پردہ کرنے کے ثمرات بھی بیان کیے جائیں۔ پھر ایسی خواتین جو بنا پردے کے اپنے گھروں سے نکلتی ہیں اور اپنے ساتھ دوسروں کو بھی گناہ گار کرتی ہیں ان کو بتایا جائے کہ ایسے لوگ جو یہ چاہتے ہیں کہ اہل ایمان میں فحاشی کو پھیلایا جائے، وہ دنیا وآخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں۔‘‘ انہیں شائستہ انداز میں سمجھایا جاسکتا ہے کہ انسانوں کو زمانہ جاہلیت کی طرف نہ لے جائیں۔ دشمنانان اسلام یہ سن لیں کے حجاب عورت کا فطرتی حق ہے جسے مغربی پروپیگنڈے کے ذریعے نہیں چھینا جا سکتا۔
‘‘ لہٰذا اے خواتینِ اسلام! آئیے! اپنا کردار ادا کریں۔ اپنی نسلوں کو بچائیں۔ فحاشی وعریانی کے بڑھتے ہوئے سیلاب کے سامنے بند باندھیں!

یہ بھی پڑھیں  شوال میں میزائل حملے میں 6 افراد ہلاک

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker