تازہ ترینعلاقائی

رورل ہیلتھ سینٹربھائی پھیرومیں ادویات کی عدم دستیابی کی وجہ سے ڈاکٹر ڈیوٹی سے غائب رہنے لگے

hosiptalبھائی پھیرو (نامہ نگار) رورل ہیلتھ سینٹر بھائی پھیرو میں اکثر ادوایات کی عدم دستیابی کی وجہ سے ڈاکٹر ڈیوٹی سے غائب رہنے لگے،شہر بھر میں ڈرگ انسپکٹر کی ملی بھگت سے نیم حکیم و عطائی ڈاکٹروں کی اجارہ داری قائم،جگہ جگہ غیر قانونی ہسپتال غیر رجسٹرڈ لیبارٹریاں و حکمت کی دکانیں سادہ لوح لوگوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے لگیں ،نیم حکیم و عطائی ڈاکٹر انسانی جانوں پر نت نئے تجربات کرنے لگے،دوران تجربات متعدد انسان جہان فانی کوچ کرگئے،شہریوں کا وزیراعلیٰ پنجاب سے روز بروز علاقہ بھر میں بڑھتی ہوئی عطائیت و نیم حکیموں کے خلاف نوٹس لینے کا مطالبہ۔ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق جہاں پر رورل ہیلتھ سینٹر بھائی پھیرو میں ادوایات کی عدم دستیابی ہے وہیں پر ڈاکٹر بھی ڈیوٹی سے غائب رہتے ہیں جس کی وجہ سے بھائی پھیرو کے ایریا محلہ صفاں والا،میاں کے موڑ ،خانکے موڑ،جوئیانوالا کوٹ،محلہ اسلام پورہ،لمبے جاگیر،گگہ،سرائے چھینبہ گھمن کے،بھگیانہ کلاں،عیدگاہ روڈ سمیت ملتان روڈ و دیگر جگہوں پر پرائمری پاس نیم حکیموں و عطائی ڈاکٹروں نے پرائیویٹ ہسپتال ،کلینک و دکانیں کھول کر سادہ لوح لوگوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر رکھا ہے ا ور یہی اناڑی حکیم و عطائی ڈاکٹر سادہ لوح لوگوں کو مکمل طور پر صحت یاب ہونے کی یقین دہانی کرا کر نت نئے تجربات کررہے ہیں جن میں سے اکثر مریض تو دوران تجربہ اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ایک شہری فاروق احمد نے بتایا کہ شہر بھر میں عطائیت کی بڑھتی ہوئی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ رورل ہیلتھ سینٹر بھائی پھیرو ملتان روڈ پر واقع ہونے کے باوجود نہ تو وہاں سے ادوایات ملتی ہیں اور نہ ہی کبھی کوئی ڈاکٹر وہاں پر دستیاب ہوتا ہے شہری محمد جاوید نے بتایا کہ غیر رجسٹرڈ ہسپتال،غیر رجسٹرڈ،لیبارٹریوں اور نیم حکیموں نے اپنی دکانداری چمکانے کی خاطر بڑے بڑے بورڈ آویزاں کررکھے ہی جنہیں دیکھ کر سادہ لوح لوگ انسانوں کا لبادہ اوڑھے ہوئے بھیڑیوں کے چنگل میں پھنس کر نہ صرف پیسہ ہی لٹاتے ہیں بلکہ کئی مریض تو اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں شہری محمداختر نے بتایا کہ نیم حکیموں اور عطائی ڈاکٹروں کی سرپرستی نہ صرف ڈرگ انسپکٹر بلکہ تحصیل انتظامیہ اور ضلعی انتظامیہ کا بھی دست شفقت ہے کیونکہ اگر تحصیل و ضلعی انتظامیہ یہ ٹھان لے کہ نیم حکیموں و عطائی ڈاکٹروں قلع قمع کرنا ہے تو ایسا ممکن ہی نہیں کہ انسانوں کے بھیس میں چھپے ہوئے بھیڑیوں کا قلع قمع نہ ہوسکے مگرسوچنے والی بات یہ ہے کہ اگر تحصیل و ضلعی انتظامیہ ایسا کرے تو ان کے پیٹ کون بھرے گا؟

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!