تازہ ترینکالم

عدم اعتماد رکوانے کا ’’گناہ بے لذت‘‘

atharآزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی حکومت کے خلاف فاروڈ بلاک کی طرف سے عدم اعتماد اور مسلم لیگ(ن) کی پارلیمانی پارٹی کی طرف سے تحریک عدم اعتماد کی مکمل حمایت کے فیصلے کے بعد پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے رابطوں پر وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے رہنماؤں کو تحریک عدم اعتماد سے الگ رہنے کا سخت حکم زبانی پیغام کی صورت اس وارننگ کے ساتھ صادر کیا کہ اس حکم کی خلاف ورزی کرنے پہ سخت تادیبی کاروائی ہو گی۔وزیر اعظم نواز شریف کے اس فیصلے سے کشمیر سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ(ن) کے افراد اور مسلم لیگ(ن) سے کشمیر کے حوالے سے بہتری کی توقعات رکھنے والے ’’ہکا بکا‘‘ رہ گئے۔ نواز شریف کے حکم سے آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت عدم اعتماد سے تو بچ گئی ہے لیکن اس سے تمام متناز عہ ریاست کشمیر میں مسلم لیگ(ن) کی ساکھ کو سخت دھچکہ پہنچا ہے۔بات صرف یہ نہیں کہ وزیر اعظم نواز شریف نے یکطرفہ طور پر ایسا ناقابل ترمیم حکم صادر فرمایا بلکہ صورتحال اس وقت مزید سنگین معلوم ہوتی ہے کہ جب مسلم لیگ(ن) آزاد کشمیر کو وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے،ان کو بغیر دماغ صرف تعمیل کرنے والا سمجھا و برتا جارہا ہے۔پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی حکومت کو زرداری ہاؤس کی تابعداری کے طعنے دیئے جاتے ہیں ،ااب وہی صورتحال مسلم لیگ(ن) آزاد کشمیر کو درپیش ہے کہ وہ اس روئیے کو ڈسپلن قرار دیکر اس سلوک کو اپنی ’’ خوش قسمتی ‘‘ قرار دیں یا اس حق و انصاف کی بات کریں جس کا کشمیری مسلم لیگ(ن) آزاد کشمیر سے تقاضہ رکھتے ہیں۔
آزاد کشمیر کی کرپشن،اقرباء پروری،کمیشن،بدانتظامی کے حوالے سے رسوا پیپلزپارٹی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی حمایت کااعلان صرف مسلم لیگ(ن) آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا فیصلہ نہیں تھا بلکہ اسے مسلم لیگ(ن)آزاد کشمیر کے عہدیداران و کارکنان کی حمایت بھی حاصل ہے۔پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر،وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی طرف سے آزاد کشمیر کی پیپلز پارٹی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو ناقابل تنسیخ حکم کے ساتھ ناکام بنانے کے اس فیصلے اور اقدام پر سوشل میڈیا پر بھی سخت تنقید دیکھنے میں آرہی ہے۔کوئی اسے ’’ سپاٹ فکسنگ‘‘ قرار دیتے ہوئے ناقابل قبول قرار دیتا ہے اور کوئی اپنے جذبات کا اظہار شاعری میں ’’ کج شہر دے لوگ وی ظالم سن‘‘،کوئی’’ حمیت نام تھا جس کا،گئی تیمور کے گھر سے‘‘ کے طور پرکررہا ہے۔
عمومی تاثر یہی ہے کہ پاکستان کے صدارتی لیکشن میں پیپلز پارٹی کو’’رام‘‘ کرنے کے لئے آزاد کشمیر کی قربانی دی گئی جو پیپلز پارٹی کے بائیکاٹ کے اعلان سے ’’ گناہ بے لذت ‘‘ ثابت ہوئی ہے۔ مجھے یاد آ یا کہ بزرگ رہنما سردار سکندر حیات خان نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کا مرکزی سینئر نائب صدربننے کے بعد اسلام آباد میں مسلم لیگ(ن) کے مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقدہ ایک تقریب میں مسلم لیگ(ن) کے مرکزی الیکشن کے طریقہ کار کو آڑے ہاتھوں لیا تھا اور اس بات پر بھی سخت تنقید کی تھی کہ پاکستان مسلم لیگ(ن)کے رہنما ،میاں محمد نواز شریف کو چھوڑ کر ،باقی سب مسلم لیگ(ن) آزاد کشمیر کے افراد کو دوسرے درجے کی مخلوق سمجھتے ہیں۔اس وقت اس معاملے پر میاں صاحب سے بات کرنے کی بات ہوئی لیکن اب کی صورتحال دیکھ کر لگتا ہے کہ یقیناًوہ بات بھی اس بات کی طرح نہ کی جاسکی۔یہ شخصیاتی عشق کی دوستی ہے یا باہمی ادب و احترام ،نظریاتی اصولوں کا اشتراک؟کشمیری تو یہ کہنے اور کرنے میں مشہور ہیں کہ’’ ظلم کے ضابطے ہم نہیں مانتے‘‘،اب دیکھنا یہ ہے کہ کشمیریوں کی اس روایت کا اظہار آزاد کشمیر سے کیسے ہوتا ہے؟بلاشبہ وزیر اعظم کے اس حکم کی خلاف ورزی نہیں کی گئی لیکن ’’کمانڈ اینڈ کنٹرول‘‘کی موجودہ صورتحال دیکھتے ہوئے اس طرح کی صورتحال کا وزیر اعظم نواز شریف کو احساس دلانا اور اس کاتدارک کرنا ناگزیر ہے ۔
ممتاز انگریزی وزنامہ ’’ڈان‘‘ سے منسلک معروف سینئر کشمیری صحافی طارق نقاش نے عدم اعتماد کی اس تحریک کی ناکامی کے اسباب سے متعلق اپنے بلاگ میں اہم انکشافات کئے ہیں۔طارق نقاش لکھتے ہیں کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف کے فیصلے سے مسلم لیگ(ن) آزاد کشمیر کو تحریک عدم اعتماد سے روک کر وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری عبدالمجید کی حکومت کو نئی زندگی ملی ہے تاہم اس سے مسلم لیگ(ن) آزاد کشمیر کو نقصان بھی پہنچا ہے۔وزیر اعظم نواز شریف کا فیصلہ مسلم لیگ(ن)آزاد کشمیر کے لئے غیر متوقع تھا جو پہلے ہی آزاد کشمیر کی مجید حکومت کی کرپشن،نااہلی ،میگا پرجیکٹس میں کمیشن اور ایسے ہی دوسرے الزامات کو دیکھتے ہوئے فاروڈ بلاک کی تحریک عدم اعتماد کی حمایت کا فیصلہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کر چکے تھے۔اس اجلاس میں مجید حکومت کے خلاف چارج شیٹ پیش کرتے ہوئے تحریک عدم اعتماد کی حمایت کا اعلان کیا گیا۔وہ لکھتے ہیں کہ اسلام آباد میں مقیم ایک کشمیری نژاد ٹی وی اینکر کو وزیر اعظم نواز شریف نے مدعو کیا تا کہ وہ انہیں اس تحریک عدم اعتماد کی فوائد و نقصانات کے بارے میں بریف کر سکے(ایک اطلاع کے مطابق یہ ملاقات ٹی وی اینکر کی کوشش سے ہوئی)۔اس اینکر کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف کو مسلم لیگ(ن) آزاد کشمیر کی طرف سے تحریک عدم اعتماد کے بارے میں بتایا نہیں گیا تھااور وزیر اعظم نواز شریف کو یہ اطلاع میڈیا سے ملی تھی۔وزیر اعظم نواز شریف نے اس معاملے میں مسلم لیگ(ن) آزاد کشمیر کے صدر راجہ فاروق حیدر کا موقف اور تحریک عدم اعتماد کی حمایت کے جواز کے بارے میں جاننے کی بالکل بھی کوشش نہیں کی۔مزید یہ کہ ٹی وی اینکر سے ملاقات کے دوران وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے ٹیلی فون پر وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری عبدالمجیدسے دس منٹ اس معاملے میں گفتگو کی لیکن وزیر اعظم محمد نواز شریف نے اپنی پارٹی کے آزاد کشمیر میں نمائندے راجہ فاروق حیدر خان سے رابطہ کرنا گوارہ نہیں کیا۔ طارق نقاش مسلم لیگ(ن) کے ذرائع کے حوالے سے مزید لکھتے ہیں کہ وزیر اعظم نواز شریف تحریک عدم اعتماد کے بارے میں مکمل طور اندھیرے میں نہیں تھے،وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید اور وزیرامور کشمیر برجیس طاہر نا صرف اس بارے میں آ گاہ تھے بلکہ انہوں نے اپنی حمایت کا اظہار بھی کیا تھا۔وزیر اعظم نواز شریف کے فیصلے کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے مسلم لیگ (ن)آزاد کشمیر کے رہنما سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے ایک مشہور فارسی کہاوت کا حوالہ دیا’’ ہمہ یاران دوزخ،ہمہ یاران بہشت‘‘(دوست جہنم اور جنت میں بھی اکٹھے ہی جاتے ہیں )۔وزیر امور کشمیر برجیس طاہر نے عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونے سے دو دن پہلے کہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) مجید حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی صورت حمایت کر سکتی ہے۔ طارق نقاش لکھتے ہیں کہ راجہ فاروق حیدر خان گزشتہ چھ ہفتوں سے وزیر اعظم محمد نواز شریف سے ملاقات کی کوشش کر رہے ہیں تا کہ ان سے آزاد کشمیر میں بدلتی صورتحال کے پیش نظر ہدایات لی جا سکیں۔حال ہی میں وزیر اعظم نواز شریف نے بجلی پیدا کرنے کے دو منصوبوں کا افتتاح کرنے کے لئے آزاد کشمیر کے دو دورے کئے لیکن اس موقع پر بھی انہوں نے مسلم لیگ(ن) آزاد کشمیر کے رہنماؤں سے ملاقات نہیں کی۔ ٹی وی چینلز سے یہ خبر ’’ بریکنگ نیوز‘‘ کے طور پر نشر ہونے کے بعد بھی وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے ملاقات یا رابطہ نہیں ہوا۔اس پر اسلام آباد میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات مسلم لیگ (ن) آزادکشمیرکی پارلیمانی پارٹی کا طویل اجلاس ہوا جس میں اس نئی صورتحال پر غور کیا گیا کہ ان کے ساتھ یہ ہو کیا گیا ہے۔ اس کے بعد وفاقی کابینہ کے اجلاس میں آزاد کشمیر کی تحریک عدم اعتماد میں مسلم لیگ(ن) کے غیر جانبدار رہنے کا اعلان دہرایا گیا۔ وزیر اطلاعات پرویز رشید کی طرف سے ٹیلی فون پر راجہ فاروق حیدر سے کہا گیا کہ وزیر اعظم نواز شریف نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر کسی نے تحریک عدم اعتماد میں ان کے فیصلے کی خلاف ورزی کی تو اس کی خلاف کاروائی کی جائے گی۔
طارق نقاش مزید لکھتے ہیں کہ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ(ن) قائم کرتے ہوئے دعوی کیا گیا تھا کہ ہم پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی مانند ’’کٹھ پتلی‘‘ کی طرح کام نہیں کریں گے اور اپنے اندرونی فیصلوں میں مکمل آزاد ہوں گے۔مسلم لیگ (ن) کے ایک رہنما کا یہ بھی کہنا ہے کہ لوگ بجا طور پر ہم سے پوچھیں گے کہ اگر کل اسی طرح مسئلہ کشمیر سے متعلق ہم پر کوئی فیصلہ تھونپا جاتا ہے تو اس حکم کا بھی ہم پر اسی طرح اطلاق ہو گا۔ اس صورتحال میں مسلم لیگ(ن) آزاد کشمیر اور کارکنوں کے لئے کام کرنا بہت وشوار ہو گیا ہے۔مسلم لیگ(ن) آزاد کشمیر کے کارکنوں نے سوشل میڈیا پہ سخت تنقید کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔کئی پارٹی رہنماؤں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کواب دوسری بار پاکستان میں موجود مفاد کی وجہ سے قربان کیا گیا ہے۔ایسا پہلی بار اس وقت ہوا تھا جب آزاد کشمیر اسمبلی کی خصوصی سیٹوں کے انتخاب میں ڈاکٹر فوزیہ اشرف کو ممبر اسمبلی بنایا تھاجو اسمبلی ممبر بننے کے لئے پہلی مرتبہ آزاد کشمیر آئیں۔ڈاکٹرفوزیہ اشرف کے شوہر ڈاکٹر طاہر جاوید جنہوں نے پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ق کا نام نہاد ’’ یونیفیکیشن بلاک‘‘ بنایا تھااور اس کی حمایت شہباز شریف حکومت کو درکار تھی ،اور یقیناًیہ کسی طور بھی’ ’لوٹا کریسی ‘‘ نہیں تھی۔ایسا ہی وقت دوبارہ اب آیا کہ مسلم لیگ(ن) کو صدارتی الیکشن میں پیپلز پارٹی کوشامل رکھنے کی ضرورت پیش آئی۔تاہم آزاد کشمیر کی یہ سیاسی قربانی رائیگاں گئی کہ پیپلز پارٹی نے صدارتی الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔طارق نقاش اہم انکشافات پر مبنی اپنی اس رپورٹ کے آخر میں مسلم لیگ(ن) آزاد کشمیر کے رہنماؤں کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ اب آزاد کشمیر میں کونسی سیاسی قوت ان پر اعتبار کرے گی،وزیر اعظم نواز شریف سے بات کرنے کے لئے ہمارے بجائے وہ کسی ٹی وی اینکر سے رابطہ کرنا مناسب سمجھیں گے۔
طارق نقاش کی اس رپورٹ اور دوسری تمام باتوں سے قطع نظر تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے اس اہم فیصلے اور اقدام میں وزیر اعظم محمد نواز شریف کے فیصلے کرنے کے معیار نے مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کو پریشان اور کشمیریوں کو عمومی طور پر حیران کیاہے۔کیا وزیر اعظم پاکستان کا آزاد کشمیر کے سیاسی امور کے علاوہ مسئلہ کشمیر سے متعلق بھارت کے ساتھ معاملات طے کرتے وقت بھی کشمیریوں کے مفادات کو یہ کہتے ہوئے ’’کمپرومائیز ‘‘کریں گے کہ کشمیریوں کو تو عادت ہے ہر طرح کی قربانیاں دینے کی ،باقیوں کو اس کی عادت نہیں ۔وزیر اعظم محمد نواز شریف نے آزاد کشمیر کی سیاست سے متعلق جو فیصلہ اور اقدام کیا ہے اس کا معیار اور طریقہ کار کسی طور بھی قابل دفاع نہیں ہے۔ہاں اگر بادشاہوں کے انداز کی بات کی جائے تو بادشاہ کی طرف سے رعایا سے متعلق اس طرح کااانداز ’’ بڑے نصیب‘‘ کی بات ہوتی ہے کہ بادشاہ حضور نے کسی قابل تو سمجھا۔ عدم اعتماد رکوانے کے’’ گناہ بے لذت‘‘ کو’’ بڑے دل کا ثبوت ‘‘ نہیں بلکہ اپنے مبہم مفاد کے لئے دوسرے کی قربانی دینے سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  انسداد منشیات مہم کی کامیابی کے لئے سید ذوالفقارحسین کی تجویز

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker