شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / بشیر احمد میر / غیر وابستہ ممالک کانفرنس اور جنوبی ایشیائ

غیر وابستہ ممالک کانفرنس اور جنوبی ایشیائ

16ویں غیر وابستہ ممالک کی کانفرنس﴿نام﴾ تہران میں اختتام پذیر ہوگئی۔کانفرنس سے صدر آصف علی زرداری نے خطاب کر تے ہوئے اتحاد پر زور دیا،دنیا کی مجموعی صورت حال سمیت مستقبل کے خطرات اور ضروریات سے آگاہی کی۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار پر کہا کہ 40ہزار قیمتی جانوں اور 80ارب ڈالر کا معاشی نقصان اٹھایا اور مسلسل قیام ِ امن کے لئے جد وجہد جاری رکھی ہوئی ہے۔ انہوں نے طاقت کے بجائے مذاکرات کو مسائل کا حل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر مذاکرات ہی آخر میں کرنے ہیں تو شروع میں مذاکراتی عمل کو ترجیح دی جائے۔صدر نے افغانستان ،بھارت سمیت تمام ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے باہمی مسائل کے حل پر توجہ دی جانے پر زور دیا۔انہوں نے بالخصوص کشمیر سمیت بھارت کے ساتھ جملہ مسائل کے حل پر بھی متوجہ کیا۔صدر نے بلاشبہ وطنِ عزیز سمیت غیر وابستہ ممالک کے درپیش مسائل پر امریکہ اور عالمی برادری کو متوجہ کیا۔
موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں صدر مملکت کا خطاب ذمینی حالات کی حقیقی نمائندگی کرتا ہے۔امریکہ نے روسی استعمار کے خلاف عرب مجاہدین کو پاکستان کے راستے افغانستان میں داخل کیا۔اس وقت اُس جنگ کو ’’جہاد‘‘ کا نام دیا گیا،امریکہ نے جب اپنا ہدف پورا کر لیا تو آج وہی مجاہدین ’’دہشت گرد‘‘کے نام سے منسوب کئے جا رہے ہیں۔روس کے خلاف جو کچھ کیا گیا اس دوران اسلحہ کی جس قدر منڈی تھی وہی آج درد سر بنی ہوئی ہے۔صدر پاکستان نے کانفرنس میں بر ملا کہا ہے کہ امریکہ نے افغان روس جنگ کے بدلے ’’ہیرئوین‘‘ کا راستہ کھولا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ انسانی زندگی کو تباہ کرنے کے لئے ڈرگ مافیا نے پورے سماج کو گھیرا ہوا ہے۔آج کا نوجوان اس بُری لت کا شدت سے شکار ہو رہا ہے جس سے آنے والی نسل ذہنیی اور جسمانی طور پر بیمار اور بے جان ہوتی جا رہی ہے اور اس کے نتیجہ میں کسی بھی صحت مند تبدیلی کا مستقبل قریب میں امکان نہیں۔
بھارت نے ایک بار پھر ممبئی حملوں کا راگ الاپا ہے۔حیران کن بات یہ ہے کہ جس تناسب سے دہشت گردی نے پاکستان کو متاثر کیا ہے اس شرح سے بھارت کو ایک فی صد بھی نقصان نہیں ہوا لیکن بھارت کا واویلا نا قابلِ سمجھ ہے۔بھارت کا ایسا رویہ قیام امن کے لئے بنیادی رکاوٹ اور دہشت گردوں کی حوصلہ آفزائی کے مترادف ہے۔بھارت جنوبی ایشیائ میں اپنی چوہدراہٹ قائم کرنے کا جو خواب دیکھ رہا ہے یہ کسی طور پورا نہیں ہو سکتا۔بھارت کو سمجھ آنی چاہئے کہ سطحی اور بے بنیاد الزامات سے دنیا کو گمراہ نہیں کیا جا سکتا۔پاکستان اس وقت چاروں اطراف سے سازشوں اور مداخلت کاروں کی ذد میں ہے ۔بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسی پاکستان دشمنی کا شاخسانہ ہے۔ڈرون حملوں کے ردعمل سے پرامن لوگوں کو بلا وجہ مشتعل کر کے داخلی صورت حال پیچیدہ بنتی جا رہی ہے۔معاشی سطح روز بروز گرنے سے عام شہری کی زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
ان تمام عوامل اور مسائل پر غیر وابستہ ممالک کی کانفرنس میں عالمی رائے عامہ کو باخبر کر نا انتہائی ضروری تھا ۔یقینی طور پر پاکستان نے نیک نیتی کی بنیاد پر درست اور واضح موقف کا اظہار کیا ہے۔کانفرنس میں شامل دیگر ممالک نے کشمیریوں پر ہونے والے بھارتی افواج کے مسلسل مظالم پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیاجس سے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کمزوری نظر آرہی ہے۔7ستمبر کو پاک بھارت وزارت خارجہ کا ملن اسلام آباد میں ہونا ہے جس میں حسب ِ روایت بھارت نے ممبئی حملوں کے بہانے کسی بہتر پیش رفت کی جانب قدم بڑھانے سے پہلو تہی کرنی ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وزارت ِخارجہ نشست و برخاست کے بھارتی عمل کو بے معنی قرار دیکر بھارت پر واضح کرے کہ بقائ امن کے لئے متنازعہ مسائل بالخصوص مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب پیش رفت کو عملی جامہ پہنائے۔اگر بھارت یوں ہی وقت کا ضیاع کرنا چاہتا ہے تو پھر بھارت کی امن مخالف ذہنیت کو عالمی برادری میں بے نقاب کیا جائے یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ بھارت نے ہمیشہ ضد اور بے جا ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا ہے جس سے نا صرف پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیائ کا امن خطرے میں پڑا ہوا ہے۔بعض ذرائع سے یہ بھی عندیہ مل رہا ہے کہ بھارت آبی جارحیت کے خطرناک منصوبے پر عمل پیرا ہے اگر اس بارے صداقت ہے تو پاکستان کو چاہئے کہ وہ بھارت کی اس دوغلی پالیسی سے امریکہ سمیت عالمی برادری کو آگاہ کرئے کیونکہ اس گھنائونی سازش سے پاکستان کے عوام شدید قحط سالی اور معاشی بحران کا شکار ہو سکتے ہیں۔غیر وابستہ ممالک کی کانفرنس موجودہ حالات کے تناظر میں اہمیت کی حامل ہے۔اس نوعیت کا اتحاد از بس ضروری ہے ۔مسلم امہ کے اتحاد کو بیدار کرنے کے لئے اسلامی سربراہ کانفرنس کے انعقاد کے لئے پاکستان کی قیادت کو جرات مندانہ کردار ادا کرنا چاہئے کیونکہ پوری دنیا میں یہ غلط تاثر پیدا کیا گیا ہے کہ دہشت گردی میں مسلم ممالک ملوث ہیں۔حالانکہ جہاں کہیں دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں ان میں ذیادہ تر مسلم ممالک متاثر ہیںتو پھر ایسا بے بنیاد الزام لگانے والے کیوں نہیں سوچتے کہ وہ غیر حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔دراصل بھارتی حکمران صرف پاکستان کے ہی دشمن نہیں بلکہ وہ بھارت کے ایک ارب سے زائد شہریوں کے بھی بڑے دشمن ہیںکیونکہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں جن کی ذرا سی لاپروائی جنوبی ایشیائ کو نا گا ساکی اور ہیروشیما کی طرح بھسم کر سکتی ہے۔ایسی صورت حال میں بھارت کو زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے لیکن بھارتی سورمائوں نے امن دشمن رویہ پرقرار رکھ کر خطے کی عوام کو غیر یقینی حالات کا شکار کیا ہوا ہے ۔
ان تمام خطرات و خدشات کے پیش نظر آمدہ وزارت خارجہ مذاکرات میں پاکستان کو بھارت پر واضح کرنا چاہئے کہ وہ باہمی تعلقات میں سنجیدہ رویہ اپناتے ہوئے کشمیر سمیت دونوں ممالک کے ما بین موجود تنازعات کے حل میں عملی اقدامات کرئے تاکہ امن کی کوششیں رنگ لا سکیں اور دونوں ممالک کے عوام سکھ و چین کی زندگی بسر کر سکیں۔غیر وابستہ ممالک کا امن ،ترقی و خوشحالی کے لئے متحد ہونا نیک شگون ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ صدرِ پاکستان کی تجاویز کو سامنے رکھتے ہوئے رکن ممالک بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں  سعودی عرب میں رمضان کا چاند نظر نہیں آیا