ایم اے تبسمتازہ ترینکالم

’’قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے‘‘

tabassum’’قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد‘‘

ہر سال اسلامی کیلنڈر کے پہلے مہینے محرم کا چاند نمودار ہوتے ہی تمام دنیائے اسلام شہدائے کربلا کو یاد کرتی ہے۔ کروڑوں مسلمان عظیم ہستیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے عزم واستقلال اور ایثار و قربانی کی اعلیٰ ترین روایات قائم کیں۔ یہ وہ عظیم واقعہ ہے جس نے تاریخ انسانیت پر نہایت گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ کسی المناک حادثہ پر نسل انسانی کے اس قدر آنسو نہ بہے ہوں گے جس قدر اس عظیم حادثے پر بہہ چکے ہیں کم و بیش 1400 سو سال کے اندر 1400 سو مرتبہ محرم گزر چکا ہے اورہر محرم ا س حادثے کی یاد تازہ کرتا رہا۔ محرم الحرام کی دسویں تاریخ کو جو جانیں اللہ کی راہ میں کرب وبلا کے پتتے ہوئے صحرا میں قربان کی گئیں تاریخ عالم ان کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔امام اعلیٰ مقام کی پیدائش کے ساتھ ہی ان کی شہادت کی خبر مشہور ہو چکی تھی۔ ام المومینن حضرت ام سلمہؓ سے مروی ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبرئیل علیہ السلام نے مجھے اطلاع دی ہے کہ میرا نواسہ سر زمین فرات میں شہید کیا جائے گا۔ میں نے جبرئیل علیہ السلام سے کہا ان کی قتل کی مٹی لا کر دکھاؤ۔ پس یہ مٹی وہاں سے لائے پھر وہ مٹی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہؓ کو دے دی اور فرمایا جب یہ مٹی خون بن جائے گی تو وہ میرے نواسے کے قتل کادن ہوگا۔ام المومین ام سلمہؓ نے اس مٹی کو شیشی میں ڈال کر رکھ دیا۔ جب امام علی مقام ارض کربلا میں شہید ہوئے وہ مٹی مدینہ پاک میں خون بن گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باخبر ہوتے ہوئے ایک بار بھی یہ دعا نہیں کرتے کہ یا اللہ میرے نواسے حسین علیہ السلام کو امتحان سے دور فرما۔ بلکہ آپ دعا کرتے ہیں یا اللہ حسین علیہ السلام کو اس امتحان میں ثابت قدم رکھ۔ یہی دعا حضرت فاطمہ الزہرا اور مولاعلی کرم اللہ وجہ فرماتے ہیں۔ وقت گزرتا گیا اور کربلا کی مہیب وادیاں قریب آتی گئیں۔حضرت امام حسین علیہ السلام نے میدان کربلا میں اپنے ساتھیوں کو یوں مخاطب کیا۔ اے لوگو! اگر تم تقویٰ پر ہو تو حق کو پہچانو۔ یہ خدا کی خوشنودی کا باعث ہوگا۔ معاملے کی جو صورت ہو گئی ہے تم دیکھ رہے ہو۔ دنیا نے اپنا رنگ بد ل لیا حق سے منہ پھیر لیا ہے۔ زمین نیکی سے خالی ہوگئی ہے۔ حقیر سی زندگی باقی رہ گئی ہے۔ ہو لناکیوں نے احاطہ کر لیا ہے۔ افسوس تم دیکھتے ہو کہ حق پس پشت ڈالا جا رہا ہے۔ باطل پر اعلانیہ عمل کیا جا رہا ہے۔ کوئی نہیں جو اس کا ہاتھ پکڑے وقت آگیا کہ حسین حق کی راہ میں یہ خواہش کرے میں شہادت کی موت چاہتا ہوں۔ ظالموں کے ساتھ رہنا بجائے خود ایک جرم ہے۔شہادت حسین کا واقعہ تخت خلافت کے دو دعویداروں کی باہمی جنگ کی پکار نہیں بلکہ حق و باطل کی پکار ہے۔ یزید ظلم واستبداد کا پیکر بن چکا تھا۔ خلافت کی گاڑی کو ملوکیت کی پٹری پر چڑھا دیا گیا ہے۔ خلافت کا چاند ملوکیت کے سائے میں آکر گہنا گیا تھا۔ بیت المال بادشاہ کا خزانہ بن چکا تھا۔ عدل و انصاف کی جگہ ظلم و ستم تھا۔ خدائی قانون کی بجائے شاہی قانون چلنے لگے تھے۔ آزادی و حریت کی جگہ حاکمیت و آمریت نے لے لی تھی۔ عسکری قوتیں جہاد کے بجائے ظلم وستم اور قتل وغارت گری کے لئے استعمال ہونے لگی تھیں۔حاکم وقت کو ظلم سے روکنے کے لئے اور خدائی حدود کی حفاظت کے لئے آپ نے میدان کربلا میں یہ عظیم الشان قربانی پیش کی۔حق و انصاف کا پرچم سر بلند رکھنے کے لئے لہو سے ایسے چراغ جلائے جن سے ملت اسلامیہ تا قیامت روشن رہے گی۔ بے سرو سامانی کے عالم میں قافلہ حسین کے جانثاروں نے بیداری ضمیر کے وہ ستون ایستادہ کئے جو صرف مسلمانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے ہدایت و رہنمائی کا مینار بنے رہیں گے۔ حق و باطل کی پکار۔ ظلم و مظلوم کی کشاکشی حق و انصاف کے حصول کے لئے ظالم سے جنگ روز اول سے جاری ہے۔ ظالم طاقتیں اپنے مکمل ساز وسامان اور جاہ و حشم سے لیس بے سرو سامان مظلوموں کے قافلوں پر حملہ آور ہوتی رہی ہیں۔ ظالم و مظلوموں کے یہ معر کے تاریخ انسانیت کانہ ختم ہونے والا باب ہیں۔ یہی وہ معر کے ہیں جن میں انسانی عظمت و سر بلندی نکھر کر پوری تابندگی سے ظاہر ہوئی۔ یہ وہ سنگ میل ہے جو انسانیت کو عظمت و رفعت کی راہ دکھاتے رہیں گے۔ لیکن کربلا کا سانحہ ان سب سے منفرد اہمیت کی حامل اور اس کی انفرادیت اور عظمت یہ ہے کہ شہید کربلا نے خود ہی اپنی جان کا نذرانہ پیش نہیں کیا بلکہ اپنے تمام خاندان اور رفقاء کو قربان کر دیا اور وہ بھی اپنی آنکھوں کے سامنے۔حضرت امام حسین علیہ السلام کو ہرطرح سے لالچ دئیے گئے اور ہر طرح کے حربے استعمال کئے گئے کہ وہ حق اور اسلام کو پس پشت ڈال کر یزید و ملوکیت کے ظالمانہ مکروہ نظام پر مہر تصدیق ثبت کر دیں اور وہ ایک ایسی حکومت کو تسلیم کر لیں جو اسلام کی حقیقی جمہوریت کے قطعاً خلاف تھی اور جس کی بنیاد جبرو استبدار پر رکھی گئی تھی۔ اگر حضرت اما م حسین علیہ السلام اپنے موقف سے دستبردار ہو جاتے اور دنیا وی عیش اور جاہ جلال کو راہ حق کی سختیوں پرفوقیت دے دیتے تو تاریخ اسلام کا دھارا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تاریکی کے عمیق گڑھوں میں جا گرتا۔مقصدیت کی یہ سچائی اور حق پریہ یقین محکم جب دشت کربلا میں ظلم و استبداد کے مقابلے میں آیا تو زمین و آسمان لرز اٹھے۔ فرشتے حیران ہیں کہ یہ انسان کتنا عظیم ہے کہ اسلام کے دفاع کیلئے اپنا سب کچھ قربان کر رہا ہے۔ ایک دفعہ وہ پہلے بھی حیران ہوئے تھے جب اللہ کے حکم کی تعمیل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی گردن پر چھری چلا رہے تھے۔ لیکن آج حسین علیہ السلام اس دین محمد ﷺ کی حفاظت کے لئے اپنے
سارے خاندان کی گردنیں پیش کر رہے ہیں۔ غرض حق و باطل خیر و شر، انصاف وظلم اور حسین اور یزید کا مقابلہ میدان کربلا میں کیا ہوا کہ انسانیت کی رہنمائی کی تفسیر بن گیا۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button