تازہ ترینعلاقائی

مانسہرہ:بےحیائی،فحاشی وعریانی کےاڈوں کی روک تھام نہ ہونےکےباعث دہشت گردی کاخطرہ

مانسہرہ﴿قاضی بلال سے﴾ مانسہرہ شہر میں بے حیائی ، فحاشی وعریانی کے اڈوں کی روک تھام کیلئے انتظامیہ کو دیئے گئے الٹی میٹم پرکاروائیاں نہ ہونے کے باعث ایک سال بعد دوبارہ دہشت گردی کی کاروائیوں کا آغاز کر دیا گیا۔شاہراہ ریشم پر موجود شہر کی مصروف ترین جگہ لاری اڈہ میں سی ڈیز کی دکان پر بم حملے کے نتیجے میں دو افراد شدید زخمی ہو گئے ۔ مقامی پولیس نے علاقہ کو گھیرے میں لیتے ہوئے بم ڈسپوزل سکواڈ کو طلب کر لیا۔ سکواڈ کی کاروائی کے دوران مختلف جگہوں سے دیسی ساخت کے دو مزید بم ناکارہ بنا دیئے گئے۔ پولیس نے دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ رجسٹر کرتے ہوئے کاروائی شروع کر دی۔ دھماکہ کی ذمہ داری کسی بھی ذمہ دار ذرائع نے قبول نہیں کی تاہم پولیس نے کاغذی خانہ پری کے لئے تحریک امن تناول اور لشکر ابابیل گروپ کے سربراہ مجاہد محی الدین کے کھاتہ میں ڈالنے کے لئے سابقہ ریکارڈ طلب کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق مانسہرہ شہر میں بڑھتی ہوئی فحاشی اور بے حیائی کی روک تھام کے لئے نامعلوم افراد کی جانب سے وقتاً فوقتاً انتظامی حکام اور فحاشی اور عریانی کے کاروبار میں ملوث افراد کو تحریری طور پر دھمکی امیز خطوط ملتے رہے اور ان کی بندش کے لئے اس سے قبل مانسہرہ کے نیٹ کیفوں، ویڈیو سنٹروں اور مختلف مصروف شاہراہوں پر بم دھماکوں سے حملے کئے گئے۔ گذشتہ روز اپنی انہی دھمکیوں کو جاری رکھتے ہوئے نامعلوم افراد نے شاہراہ قراقرم پر لاری اڈہ پانور وڈ پر واقع عامر اینڈ ساحل سی ڈیز سنٹر پر دستی بم سے حملہ کیا۔زور دار دھماکے کے باعث ہر جانب خوف و ہراس پھیل گیا اور اس زور دار دھماکہ کی زد میں آ کر دکان میں موجود عدنان اور شہزاد زخمی ہو گئے۔ جنہیں طبی امداد کی فراہمی کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ دھماکہ کی اطلاع ملتے ہی ضلعی پولیس افسر شیراکبر خان، ڈی ایس پی کیڈٹ اعجاز اور ایس ایچ او سٹی خورشید تنولی بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے۔ جنہوں نے علاقہ بھر کو گھیرے میں لیتے ہوئے بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کر لیا۔ علاقہ کی تلاشی کے دوران سکواڈ نے دو دیسی ساخت کے ٹائم بموں کا ناکارہ بنا ڈالا۔ پولیس اور سکواڈ کی کاروائیوں کے باعث لاری اڈہ مانسہرہ کے داخلی و خارجی راستے سیل کر دیئے گئے تھے۔اہلیان علاقہ کی بڑی تعداد واقعہ کو بچشم خود دیکھنے کے لئے موقع پر پہنچ گئی۔ جبکہ کسی بھی حادثہ کی صورت میں فائر بریگیڈ، ایمبولنس اور امدادی ٹیموں طلب کیا گیا تھا۔ پولیس نے جملہ شواہد،زخمیوں اور چشم دید گواہان کے بیانات کی قلمبندی کے بعد دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ رجسٹر کرتے ہوئے تفتیش شروع کر دی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی مانسہرہ سے فحاشی اور عریانی کے خاتمہ کے لئے دھمکیاں دی گئیں اور کئی بار حملے کئے گئے اور گذشتہ روز ہونے والا حملہ بھی انہی دھمکیوں کی ایک کڑی ہے جو ایک سال کے طویل عرصہ کے بعد دو بارہ شروع ہو گئے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز ہونے والے بم حملہ کی شدت کم تھی۔ جس سے ظاہرہے کہ حملہ آور صرف خوف و ہراس پھیلا کر ان ویڈیو اور سی ڈیز سنٹروں کو بند کرنا چاہتا ہے۔ پولیس نے تفتیش کا رخ مختلف زاویوں کی طرف موڑتے ہوئے لشکر ابابیل اور تحریک امن تناول کی سابقہ کاروائیوں کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے مذکورہ دھماکہ بھی اس کے گلے ڈال کر فائلوں کا پیٹ بھرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  وزیراعلیٰ شہبازشریف نے پنجاب میں نئے بلدیاتی نظام کے مسودہ کی تجاویز کی منظوری دے دی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker