تازہ ترینعلاقائی

مانسہرہ:جنسی تشدد کانشانہ ببنے والی لڑکی کا کیس ایک نیارخ اختیارکرگیا

مانسہرہ﴿قاضی بلال سے﴾ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں پولیس کے 9 نوجوانوں کی جانب سے مبینہ طور پر جنسی تشدد کا نشانہ بنائی جانے والی نوعمر لڑکی مسماۃ’’س‘‘کے مبینہ والدین منظر عام پر آنے کے بعد کیس ایک نیا رخ اختیار کر گیا۔ڈسٹرکٹ بار مانسہرہ نے لڑکی کی ملاقات اور پولیس تحقیقات پر عدالت سے حکم امتناعی حاصل کر لیا جبکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواامیر حیدر خان ہوتی نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر رپورٹ طلب کر دی۔ متاثرہ لڑکی کے والدین نے بھی انصاف کا مطالبہ کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق مسماۃ’’س‘‘کی جانب سے پولیس حراست کے دوران 9پولیس اہلکاروں کی جانب سے جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات منظر عام پر آنے کے بعد گذشتہ روز متاثرہ لڑکی مسماۃ’’س‘‘کی والدہ مسماۃ تاج بی بی تھانہ سٹی میں پیش ہوئی ۔ انہوں نے بتایا کہ کہ ان کا تعلق مداخیل خاکی سے ہے اور ان کی بیٹی مسماۃ’’س‘‘کی چند روز قبل ظفر نامی لڑکے کے ہمراہ شادی ہوئی اور مسماۃ’’س‘‘ وہاں سے فرار ہو گئی۔اس موقع پر لڑکی کی مبینہ بہن مسماۃ رخسانہ کے علاوہ دو اشخاص چن ویزاور بردار خان بھی موجود تھے۔ جنہوں نے پولیس کی جانب سے سخت دبائو کی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ روز اخبارات میں انہوں نے مسماۃ’’س‘‘ کی تصاویر دیکھنے کے بعد پولیس سے رابطہ کیا۔ اس سے قبل مبینہ جنسی تشدد کا نشانہ بننے والی مسماۃ’’س‘‘نے اپنا تعلق ہری پور سے ظاہر کیا تھا اور اپنی رہائش مہاجر کیمپ نمبر5کراچی بتاکر عادل نامی لڑکے کے ساتھ نکاح و شادی کی غرض سے مانسہرہ آنے کا بیان دیا تھا۔ دوسری جانب رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں پولیس کے 9جوانوں کی جانب سے پولیس حراست کے دوران مسماۃ’’س‘‘کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات پر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن مانسہرہ کا اجلاس ڈسٹرکٹ بار مانسہرہ کے صدر شاہجہان خان سواتی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ جس میں مسماۃ’’س‘‘کے مقدمہ میں انکوائری پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے جوڈیشل انکوائری اور از خود نوٹس کا مطالبہ کیا گیا اور پولیس تحقیقات کے ساتھ ساتھ مسماۃ ’’س‘‘ کی ملاقات پر پابندی عائد کرنے کی درخواست عدالت میں دائر کی گئی۔ جس پر عدالت نے 13اگست تک تحقیقات پر عملدرآمد روکنے کا حکم دے دیا۔اس سلسلہ میں ڈسٹرکٹ بار مانسہرہ میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک میںعوام کے محافظوں کی جانب سے معصوم لڑکی کے ساتھ گینگ ریپ کا واقعہ ایک شرمناک واقعہ ہے۔ جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی پی او مانسہرہ شیر اکبر ، ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر ملک اعجاز اور ایس پی انوسٹی گیشن کیڈٹ الیاس کو معطل کر کے عدالت عالیہ کی سربراہی میں جوڈیشل انکوائری قائم کی جائے اور اس میں سینئر وکلائ کو شامل کیا جائے تا کہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کے خلاف پولیس کی انکوائری ایک ڈراما ہے۔ جس سے انصاف کا حصول ناممکن ہے۔ انہوں نے مقدمہ کے گواہان پر دبائو ڈالنے اور بیانات کے وقت جوڈیشل آفیسر پر دبائو ڈالنے کے واقعہ کی بھی پرزور مذمت کرتے ہوئے چیف جسٹس سپریم کورٹ اور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ سے معاملہ کی نسبت از خود نوٹس لینے کی اپیل کی۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن مانسہرہ نے دیگر تنظیموں سے انصاف کی فراہمی کے لئے کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہیں میدان عمل میں آنے کی اپیل کی۔ ادھر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواامیر حیدر خان ہوتی نے واقعہ کی نسبت نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر رپورٹ طلب کر لی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  ایڈز کاعالمی دن

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker