حکیم کرامت علیکالم

محسنِ انسانیت اور انسانی معاشرہ

سرور کا ئنات ö جس روزدین حق کا پیغام لے کر دنیا میں تشریف لائے ہیں ۔وہ روز اس دنیا میں نئی روشنی کے ظہور کا روزتھا ۔ اسی نئی روشنی کی بر کت تھی کہ اس نے انسان کو وہ عقیدہ اور تصور دیا سرا سر مکارم اخلاق اور فضائل و محاسن کا مجموعہ تھا ۔اور تسامح ، رواداری اورر ذائل سے اجتنات کی دعوت تھی۔ اس عطیہ نے انسانیت کے و جود کو افراط و تفریط کے گرداب سے نکال کر اعتدال پر فا ئز کیا۔ عو رت کو جو انسانی معا شرہ میں انتہائی پستی کے مقام پر گر چکی تھی ۔ عزت و تکریم کے اعلیٰ مرا تب سے ہمکنا ر کیا۔ جمہوریت کو رواج دے کر حقو ق انسانی کی حد بندی کر دی ۔ جو اس سنہر ی اصول پرقا ئم تھی کہ کسی عر بی کو عجمی پر اور کسی سفید فام کو سیا ہ فام پر کو ئی امتیازی حیثیت حا صل نہیں ہے۔ اولادِ آدم با ہم و ندانہ ہاے شا نہ کی طرح ہیں۔
اسلام کے ظہور نے دنیا کے تختہ پر ایک نئے تمدن اور ایک نئی تہذیب کو جنم دیا ۔ دنیا کا فر سودہ نظام بدل کر رکھ دیا ۔ دنیا کے اندریہ اندازِ نو نظم و نسق قا ئم کیا۔ دستورِ زندگی کی طر ح ڈالی ۔ انسانوں کے اندر ایک ایسی روح پھو نک دی جس نے فرداور جما عت کے درمیان الفت و محبت ، اخو ت و تعا ون کے جذبِ مقنا طیسی کو نشو و نما بخشی ۔ شو ری فی الا مر پر مملکت کی بنیا دیں استوار کیں اور دین میں اکراہ و اجبا کی کو ئی گنجا یش نہ دکھی ۔ تمہا رے لیے تمہا را دین اور میرے لیے میرا دین کہہ کر گو یا اس با ت کا اعلان کر دیا کہ اسلام کی اطات کا قلا وہ گلے میں ڈالنے کے لیے ہر انسان کو اختیار اور آزادی حا صل ہے۔ کسی شخصکو اس لیے نفرت کی نگا سے نہیں دیکھا کہ وہ کا فر ہے۔ بلکہ اہل کتا ب کے سا تھ ازدواجی تعلقات استوار کر نے کی بھی اجا زت سے دی ۔ الغرض اس طرح کے دو سرے اصول اس امر کا ثبو ت بہم پہنچا تے ہیں کہ اسلام روادارانہ نظریات کا حا مل ہے اور ایسے جہان نو کی ایجاد اس کے پیش نظر ہے ، جو بعض و عداوت کی آلودگیوں سے مبرا اور تعصب وتنگ نظری کے جذبا ت سے پا ک ہو اور نو ع انسان کے لیے امن و سلا متی کا گہوارہ ثابت ہو سکے۔
اس مبا رک گھڑی میں جس چیز کا با ر با ر جا ئزہ لینے کی ضرورت ہے وہ آقا ئے نا مدارöکی سیرت طیبہ اور آ پ کے محا مدو فضا ئل ہیں ۔ یہ معلو م کیا جا ئے کہ دعو ت دین کو پھیلا نے میں آپ نے کس طرح انتھک
کو شش کیں۔ گھر با ر کو خیر با د کہہ کر کس طرح سفر و غر بت کی صعو بتوں سے دو چا ر ہے ۔ دشمن جنگ و جدا ل پر ا تر آئے ، تو ان کے سا منے سینہ سپر ہو گئے اور بہت سے معر کے سے کیے ، قوام کی طر ف سے ایذائیں دی گئیں تو صبر و شکیب کے سا تھ انہیں سہا۔ یہ تما م واقعا ت آپ کے فضا ئل حسنہ اور اعلیٰ کردار کی شہا دت دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  بادشاہ کون ؟

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker