تازہ ترینکالمندیم چوہدری

ملک کے و سیع ترمفاد میں پاکستانی عوام کوآزادی دے دو

ملک کے اور عوام کے وسیع تر مفاد میں ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے ،یہ وہ مصرع سے جس کو پاکستان کے اندر ہر حکمران نے استعمال کیا ہے ،وہ عوامی نمائندہ ہو یا فوجی ڈکٹیٹر اس نے اپنے ٹی وی خطا ب میں یہ ہی کہا کہ ہم نے یہ سب کچھ ملک کے اور پاکستانی عوام کے مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے ،لیکن آج تک کسی بھی فیصلے کا مفاد پاکستانی عوام کو بد قسمتی سے نہیں مل سکا ،ہر اس فیصلے کا فائدہ اسی شخص کو ملا ہے جو یہ فیصلہ کرتاہے ،65  سال گزر گئے لیکن پاکستانی عوام اور پاکستان کو کچھ نہ مل سکا ،اس ملک کی بیورو کریسی ،سیاستد ان ،سرمایہ دار ،اور زمیندار نے اپنی من مرضی سے اس کو لوٹا ،ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم آج تک اس ملک کو قومی زبان نہیں دے سکے ،قائد اعظم محمد علی جناح نے 21 مارچ 1948 کو ڈھاکہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ،میں آپ کو واضع طور پر بتا دینا چاہتا ہوں کے پاکستا ن کی سرکاری زبا ن اردو ہو گی ،اور صرف اردو اور اردو کے سوا کوئی اور زبان نہیں ہو گی دیگر اقوام کی تارئیخ اس امر پر گواہ ہے کہ ایک مشترکہ سرکاری زبان کے بغیر کوئی قوم باہم متعد نہیں ہو سکتی اور نہ کوئی اور کام کر سکتی ہے پس جہا ن تک پاکستان کی سرکاری زبان کا تعلق ہے وہ صرف اور صرف اردو ہی ہو گی ،جس ملک کو ہم 65 سال میں اپنی زبان نہیں دے سکے اس کو ہم اور کیا دے سکتے ہیں ،04 اکتوبر 1979 کو ایک ادارہ قائم کیا گیا جس کا نام ہے مقتدرہ قومی زبان جس کا کام یہ تھا کہ سفارشات تیار کی جائیں کے اس ملک میں قومی زبان اردو کو کس طرح رائج کیا جائے لیکن بد قسمتی سے آج تک یہ ادارہ سفارشات ہی نہیں کر سکا اگر کی بھی ہیں تو اس کو اہمیت ہی نہیں دی گئی آج ہم ملک کے کسی بھی کونے میں چلیں جائیں وہاں ان کی اپنی ہی زبان ہو گی ،پاکستانی بیورو کریسی میں بلخصوص اردو بولنا اور اردو لکھنا توہین سمجھی جاتی ہے اگر اس اردو کو رائج کیا گیا ہوتا تو کوئی سندھی بلوچی پٹھا ن اور پنجابی نہ ہو تا سب پاکستانی ہوتے آج آپ کو کوئی بھی پاکستانی نظر نہیں آئے گا ،جس بھی سیاستدان سے پو چھو وہ یہ ہی کہے گا کہ ہم پاکستان کو جناح کا پاکستان بنانا چاہتے ہیں،لیکن کوئی بھی اردو زبان بولنے کو اپنی توہین سمجھے گا ،گزشتہ دنوں ایک ٹی وی چینل پر پروگرام دکھایا گیا جس میں رپورٹر نے سندھ اسمبلی کے کئی ارکان سے پوچھا کے آپ قائد اعظم کو کیسا لیڈر سمجھتے ہیں ہر ایک نے کہا کہ وہ عظیم لیڈر تھے انھوں نے پاکستان دیا ،جب ان سے قائد اعظم کی تاریخ پیدائش اور وفات کے بارے میں پوچھا گیا تو کوئی بھی جواب نہ دے سکا ،یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان کو قائد اعظم کا پاکستا ن بنانا چاہتے ہیں ،یہ وہ لوگ ہیں جن کو یہ نہیں پتہ کے پاکستان کا قومی ترانہ کس نے لکھا تھا ،کسی کو بھی قومی ترانہ کے دو مصرعے بھی یا د نہ تھے ،اس ملک کے اندر تقریبا ہر شخص کی زبان پر یہ ہے کہ اس ملک میں رہنے کا کیا فائدہ اس ملک نے ہمیں کیا دیا ہے کوئی بھی شخص یہ سو چنے کے لیے تیا ر نہیں کہ   ؛؛؛؛اس ملک کو ہم نے کیا دیا ہے ؛؛؛؛یہ سیاستدان جس کو یہ ہی نہیں پتہ کہ اس ملک کو بنانے والے قائد کی تارئیخ پیدائش اور تارئیخ وفات کیا تھی ،ایک ڈکٹیٹر آتا ہے اور وہ الیکشن کمیشن کو کہتا ہے کہ جو شخص بھی الیکشن لڑے گا اس سے کلمے سنے جائیں ،ہر اس شخص نے کلمے یا د یئے جس نے الیکشن میں حصہ لینا تھا ،لیکن کمال ہے ان سیاستدانوں کا کہ جن کو اس ملک کی تاریخ کے بارے میں نہیں پتہ اور وہ آ ج اقتدارمیں بیٹھ کر اس ملک کی تقدیر کے فیصلے کرے گا ،آج اسلام آباد کے اندر ہولڈنگ بورڈز لگائے گئے جن پر ہمارے صدر پاکستان کی اور وزیر اعظم پاکستان کی تصاویر لگی ہیں اور ان پر فقرے درج ہیں کے ….اس ملک پر ہم اپنا تن من دھن واریں گے ……کیا زبر دست مذاق اس قوم کے ساتھ کیا جارہا ہے ،پاکستان کی اعلی عدلیہ کہتی ہے کہ اس ملک سے جو پیسہ بیرون ملک منتقل کیا گیا ہے وہ اس ملک میں واپس لایا جائے وہ پیسہ لانے کے لیے تو یہ تیار نہیں اور بڑے بڑے بورڈز آویزاں کئے جارہے ہیں کہ ہم اس ملک پر تن من دھن واریں گے ،تقریبا ہر سیاستدان کا کاروبا ر اس ملک سے باہر ہے اور کہا جاتا ہے کہ ہم اس ملک کے وفادار ہیں اگر وفادار ہو تو وہ جو فیکٹریا ں ملک سے باہر لگائی ہیں ان کو اپنے ملک میں کیو ں نہیں لگاتے ہو ،اپنا تمام پیسہ جو بیرون ملک بنکوں میں رکھا ہے وہ اپنے ملک کے بنکو ں میں کیوں نہیں رکھتے ہو ،کیا اقتدار میں صرف اس ملک کے بنکو ں کو لوٹنے کے لیے آتے ہو اور ان بنکوں سے پیسہ لوٹ کر دوسرے ملکوں کے بنکوں میں ٹرانسفر کرنے کے لیے آتے ہو ،جس کی سب سے بڑی مثال شوکت عزیز جیسے وزیر اعظم ہیں ،سٹاک ایکسچینج کے پیسہ اکٹھا کیا اور فرار ہو گئے ،اس سب کا ذمہ دار ہر وہ شخص ہے جو کہتا ہے کہ اس ملک نے مجھے کیا دیا ہے ،کوئی بھی یہ سوچنے کے لیے تیا ر نہیں کہ اس نے اس ملک کو کیا دیا ہے ،

یہ بھی پڑھیں  محکمہ موسمیات کے مطابق آیندہ 24گھنٹےمیں بارش کاامکان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker