شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / پھولنگر:مرغی خانہ سے نکلنے والی بدبودار ہوا نے سارے گاؤں کے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنا دیں

پھولنگر:مرغی خانہ سے نکلنے والی بدبودار ہوا نے سارے گاؤں کے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنا دیں

بھائی پھیرو(نامہ نگار) مرغی خانہ سے نکلنے والی بدبودار ہوا نے سارے گاؤں کے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنا دیں۔طرح طرح کی بیماریوں سے لوگ زندہ درگور بن گئے ۔بڑے بڑے ایگزاسٹ پنکھوں کے شور سے لوگوں کو کانوں کی بیماریاں لاحق۔بدبودار ہوا اورمردہ مرغیوں کی بدبو سے گاؤں کی ساری فضاخراب ،لوگوں کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ۔شہری سراپا احتجاج مگرمحکمہ ماحولیات نوٹوں کی چمک سے خاموش،عوامی و سماجی تنظیموں کا ذمہ داران کے خلاف فوری طور پر کارروائی کرنے کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق ۔بھائی پھیرو کے نواحی گاؤں بنگہ مالا کے درجنوں شہریوں نے چوہدری شبیر اور چوہدری عبدالرؤف کی قیادت میں گاؤں کے قریب قائم مرغی خانہ چوہدری پروٹین فارم کے پاس مرغی خانہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور نعرے بازی کی۔مظاہرین میں خادم حسین،افضال،عابد علی،شہزاد،اختر علی،قاسم وغیرہ شامل تھے ۔ مظاہرہ کے قائد شبیر احمد نے صحافیوں کو بتایا بھائی پھیرو کے نواحی واقع گاؤں بنگہ مالا میں قائم ایک مرغی خانہ نے ہزاروں دیہاتیوں کی زندگیاں اجیرن بنا دیں ہیں۔مرغی خانہ سے نکلنے والی بدبودار ہوا نے سارے گاؤں کے لوگوں کی زندگیاں داؤ پر لگا دی ہیں۔بڑے بڑے ایگزاسٹ پنکھوں سے نکلنے والی گندی اور بد بودار ہوا سے ارد گرد کی آبادیوں کے ہزاروں مکینوں کیلیے صاف ہوا کا حصول نا ممکن ہو چکا ہے اور لوگ طرح طرح کی سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہوکر زندہ درگور بن چکے ہیں۔نزلہ، زکام،کھانسی اور پھیپھڑوں کی بیماریاں عام ہو چکی ہیں۔گاؤں کے بڑے بوڑھے جوان اور بچے آئے روز بیمار ہوکر عطائی ڈاکٹروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور کئی غریب آدمیوں کے پاس علاج معالجہ کیلیے رقم نہ ہونے سے اپنے گھروں کی جمع پونجی لٹوا بیٹھے ہیں۔گاؤں کے لوگوں کی سونگھنے کی حس مر چکی ہے مگر باہر سے آنے والے مہمانوں کیلیے یہاں ٹھہرنا ناممکن ہو چکا ہے اس لیے مہمان چند گھنٹے ٹھہرنے کے بعد بدبو سے تنگ آکر مرغی خانہ کے مالک کو بد دعائیں دیتے اپنے گھروں کو واپس چلے جاتے ہیں۔ طرح طرح کی بیماریوں سے لوگ زندہ درگور بن چکے ہیں ۔بڑے بڑے ایگزاسٹ پنکھوں کے شور سے لوگوں کوایک دوسرے کی آواز سننا اور بات کرنا مشکل بن چکا ہے۔مشینوں کے تیز شور سے لوگوں کوکانوں کی بیماریاں لاحق ہو چکی ہیں اور بہرہ پن کی بیماری عام ہے۔مرغی خانہ کے ملازم مردہ مرغیوں کو کھلی فضا میں پھینک دیتے ہیں جس کی بدبو سے گاؤں کی ساری فضاخراب ہو چکی ہے اور مردہ مرغیوں سے پھیلنے والے جراثیم گاؤں کے تندرست انسانوں اور حیوانوں کیلیے خطرہ بن چکے ہیں ۔مظاہرین سے خطاب کرتے شمشیر چوہدری نے مزیدنے کہا کہ ہم عرصہ دراز سے عذاب کی زندگی گزار رہے ہیں اور کوئی بھی ہمارا پرسان حال نہیں ہے کیونکہ ہم غریب لوگ ہیں اور ہماری کوئی سنتا ہی نہیں ہے اور ہم نے بڑوں بڑوں کے بھی دروازے کھٹکھٹائے مگر کوئی بھی محکمہ ہماری بات سننے کو تیار ہی نہیں ہے ۔ہزاروں انسان او رحیوان گندا پانی پینے طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہوکر زندہ لاشیں بن چکے ہیں ۔ہم نے محکمہ ماحولیات اور متعلقہ حکام کو اس مسئلہ کے بارے تحریری طور پر آغاہ کیا مگر محکمہ ماحولیات و دیگر محکمے صرف پیسے بنانے کے چکر میں عوام کی زندگیوں سے کھیلنے والے مرغی خانہ سے صرف اور صرف نذرانے وصول کرتے ہیں اور اس با اثر مالک کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرتے ۔مظاہریں نے دھمکی دی کہ اگر اس مرغی خانہ کو بند نہ کیا گیا تو وہ لاہور جا کر وزیر اعلی کے دفتر کے باہر زبردست احتجاج کریں گے۔محکمہ ماحولیات سے موقف جاننے کیلیے بار بار فون پر رابطہ کیا گیامگر انہوں نے فون نہ اٹھایا۔

x

Check Also

ختم نبوت سے متعلق تحفظات پر سمجھوتا نہیں ہوسکتا: پیر نظام الدین جامی

اسلام آباد(بیورو رپورٹ) سجادہ نشین گولڑہ شریف پیر نظام الدین جامی نے ...

Connect!