تازہ ترینعلاقائی

چنیوٹ:چھیڑ خانی سے منع کرنے پر ہمسائے کبوتر باز کا ’’حوا کی بیٹی ‘‘ پر مبینہ وحشیانہ تشدد

چنیوٹ (بیورورپورٹ)چھیڑ خانی سے منع کرنے پر ہمسائے کبوتر باز کاچادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے ’’حوا کی بیٹی ‘‘ پر مبینہ وحشیانہ تشددجسم کے درجنوں حصے گہرے زخموں سے بھر دیے جبکہ خاتون کے حمل ضائع ہونے کا خدشہ ڈی ایچ کیو ہسپتال چنیوٹ میں طبی امداد کیلئے جب متاثرہ لڑکی کو لایا گیا تو آٹھ گھنٹے کی طویل جدوجہد کے بعد جب لیڈی ڈاکٹرآئی تو موصوفہ نے متاثرہ لڑکی کو طبی امداد دینے کی بجائے الائیڈ ہسپتال فیصل آباد جانے کی ریفر چٹ تھما کر جان چھڑ الی جب متاثرہ لڑکی کا خاندان نقشہ مضروبی حاصل کرنے کے بعد میڈیکل ٹیسٹوں کیلئے الائیڈ ہسپتال گیا تو وہاں براجمان سی ایم او نے متاثرہ لڑکی اور اس کے خاندان کو بتایا کہ ڈی ایچ کیو چنیوٹ کی لیڈی ڈاکٹر نے جان چھڑوانے کیلئے ایسا کیا لٰہذا آپ دوبارا ڈی ایچ کیو ہسپتال چنیوٹ ہی جائیں جس پر متاثرہ لڑکی اور اس کا خاندان در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور حصول انصاف کیلئے میڈیا نمائندگان کے سامنے شدید احتجاج تاحال مقدمہ درج نہ ہوسکا بتایا گیا ہے کہ رجوعہ سادات کی رہائشی 22سالہ قمر بی بی گھر میں کام کاج میں مصروف تھی کہ اس کے ہمسائے نوید اور اس کے دوستوں نے چھت پر کھڑے غیر اخلاقی جملے اور چھیڑ خانی شروع کردی منع کرنے پر اوباش نوجوانوں نے چادراور چاردیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے قمر بی بی کے گھرداخل ہوگئے اور داخل ہونے کے بعد اس کو مبینہ تشدد کا نشانہ بناڈالااور حاملہ عورت کو بالوں سے پکڑکر زمین پر گھسیٹتے رہے جس سے قمر بی بی بری طرح زخمی ہوگئی متاثرہ لڑکی کو جب ڈی ایچ کیو چنیوٹ لایا گیا تو پولیس کی جانب سے ملنے والے نقشہ مضروبی کے باوجود قمر بی بی کاحمل اور دیگر تشدد کے حوالے سے کوئی بھی میڈیکل ٹیسٹ نہ ہوسکا ہے جس کی بنیادی وجہ ڈی ایچ کیو چنیوٹ میں ڈیوٹی پر معمور گائناکالوجسٹ ڈاکٹر فوزیہ یعقوب کی عدم دستیابی بتایا گیا ہے متاثرہ خاندان نے یہ بھی بتایا کہ لیڈی ڈاکٹر ہسپتال میں ڈیوٹی پر موجود نہ تھی جس کا ہمیں آٹھ گھنٹے انتظار کرنا پڑااور جب وہ آئیں تو انہوں نے آؤٹ ڈور کی پرچی پر چند الفاظ انگریزی میں لکھتے ہوئے ہمیں فیصل آباد الائیڈ ہسپتال جانے کا کہا کہ آپ وہاں سے ٹیسٹ اور الٹراساؤنڈ کروا کر لائیں مگر جب ہم وہاں گئے تو وہاں کے سی ایم او نے بتایا کہ آپ کی پرچی پر ایسی کوئی بات تحریر نہیں ہے جس پر عمل درآمد کیا جاسکے لٰہذ آپ واپس دوبارہ ڈی ایچ کیو چنیوٹ ہی جائیں جبکہ ڈی ایچ کیو چنیوٹ کے میڈیکل سپریڈنٹ کے بارے میں یہ معلوم ہوا ہے کہ موصوف مبینہ طور پر اپنے اختیارات کا مکمل استعمال کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے اور نہ ہی ہسپتال میں ڈیوٹیاں سرانجام دینے والے کسی بھی ڈاکٹر کی غفلت یا لاپرواہی پر ان کی سرزنش کرنے کی بھی جرات نہیں رکھتے جس وجہ سے لاکھوں آبادی والے اس ضلع کی عوام طبی سہولیات کے فقدان کے ساتھ ساتھ درجنوں دیگرقانونی مسائل سے بھی دوچار ہیں متاثرہ لڑکی نے اعلیٰ حکام سے انصاف کا مطالبہ کیا ہے جبکہ دوسری جانب تھانہ رجوعہ پولیس نے تاحال مقدمہ درج نہیں کیااور نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے

یہ بھی پڑھیں  ٹیکسلا:ظالمانہ ٹیکس کے خلاف رئیل اسٹیٹ اور پراپرٹی مالکان کا بھرپور احتجاج

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker