شہ سرخیاں

کرب اورقرب

شہنشاہ سردموسم میں طویل مسافت کے بعد رات گئے اپنے محل پہنچا ہے۔قصر میں داخل ہو تے وقت مرکزی گیٹ پرکھڑے فرض شناس دربان کوسردی سے ٹھٹھرتا دیکھاتوشہنشاہ کواس پررحم آگیا،شہنشاہ نے اپنے گھوڑے پربیٹھے بیٹھے اپنے وفاداردربان کو اندر سے گرم چادر بجھوانے کاکہامگرقصر کے اندر اپنے استقبال کیلئے آنیوالی اشرافیہ سے ملتے ملتے اسے بے رحم سردموسم کامقابلہ کرتا اپنا دربان یادنہ رہا۔وہ دربان جو اپنی وردی کے ساتھ کئی سردموسم بھگتا چکا تھا مگرآج گرم چادر کی امید اوراس کے انتظار میں شدیدسردی اورزندگی سے ہارگیا۔اگرانتظار ختم نہ ہوتومنتظر انسان خود ختم ہوجا تا ہے۔ ہمارے بہت اپنے کشمیری بھی اس پاکستان کاانتظارکررہے ہیں جس کاسبزہلالی پرچم لہراتے اوروہ اسے اپنے وجود پر اوڑھ کر قبورمیں اترجاتے ہیں۔ہرایک کشمیری شہید کا جنازہ ہمارے اقتدارپرست سیاستدانوں کے ملین مارچ سے بڑاہوتاہے۔ہم اپنے باوفااورباصفاکشمیریوں کو منتقم مزاج،متعصب اورانتہاپسندمودی کے رحم وکرم پرہرگزنہیں چھوڑسکتے۔بھارتی” ایکشن ”کے جواب میں پاکستان کا ”ری ایکشن ”میرے نزدیک تسلی بخش نہیں تھا۔کشمیر کی خصوصی حیثیت پربھارتی شب خون کے بعدکپتان کاامتحان شروع ہوگیا تھا،کپتان کے پاس ایک آپشن وزیراعظم بنے رہناجبکہ دوسرآپشن ا لیڈربننا تھامگر کپتان نے لیڈرکی بجائے وزیراعظم بنے رہنا پسندکیا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کاقول ہے،”اقتداراورسرمایہ ملنے سے لوگ تبدیل نہیں بے نقاب ہوتے ہیں ”،کپتان کابہت زیادہ بولنااورتول کرنہ بولنا انہیں بے نقاب کررہا ہے۔اگرموصوف نوازشریف کے دوراقتدارمیں انتخابی دھاندلی کیخلاف ڈی چوک میں دھرنا دے سکتے ہیں توآج معتوب کشمیریوں کی آزادی کیلئے دھرناکیوں نہیں دے سکتے۔ عمران خان نے جمعہ کے روزاورنماز کے اوقات میں عوام کوکشمیریوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کیلئے شاہراہوں پرآنے کی کال دی مگرخودوزیراعظم ہاؤس سے باہرنکلناگوارہ نہ کیا۔ ہفتہ میں سات دن ہوتے ہیں توپھر کپتان نے تیس منٹ احتجاج کیلئے جمعہ کادن ہی کیوں چنا۔عجیب اتفاق ہے کہ یہودی بھی جمعہ کے روزاپنے مُردوں کی یادمیں دوپہربارہ بجے سائرن بجاتے اورشاہراہوں پرنکل آتے ہیں، ان کے قدم اوران کی گاڑیوں کے ٹائر رک جاتے ہیں۔ احتجاج کیلئے بعدازنمازجمعہ کاوقت مقرر یادوسرے چھ دنوں کاانتخاب کیاجاتاتو زیادہ مناسب تھا۔اکائیوں میں احتجاج کرنے کی بجائے روزانہ کی بنیادپرکسی ایک شہر میں بڑا اجتماع کیا جاتاتواس طرح بھارت پرزیادہ دباؤبڑھتا۔پاکستان میں اقتدار کیلئے اتحادبلکہ گرینڈاپوزیشن بنانے والے آج کشمیر کاز کیلئے متحداورمتحرک کیوں نہیں ہوئے۔اگرعمران خان2018ء کے عام انتخابات کے دوران مینارپاکستان لاہور میں بڑا اجتماع کرسکتے ہیں توکشمیرکازکیلئے ایساکیوں نہیں ہوسکتا۔ اپوزیشن قیادت کی طرف سے کپتان کونادان اورنااہل کہنا بیجا نہیں کیونکہ اگرموصوف میں سیاسی فہم وفراست ہوتی تو کشمیرکازکیلئے درست اوردوررس اندازسے کی جانیوالی سیاسی وسفارتی جدوجہدسے وہ عالمی لیڈربن جاتے۔راقم کے نزدیک کسی سیاستدان کا مقبول ہونانہیں بلکہ اس کا ریاست کیلئے معقول ہونازیادہ اہم ہے،نوازشریف کی طرح عمران خان کوبھی” مقبول” ہونے کازعم ہے مگر پاکستان کے عوام کئی دہائیوں سے کسی معقول حکمران یعنی مسیحا کے منتظر ہیں۔عمران خان کاخواب وزیراعظم بننا تھا، کوئی خودپسنداورآرام پسندانسان نجات دہندہ نہیں بن سکتا۔عمران خان کی اناعنقریب ان کے سیاسی مستقبل کوفناکردے گی۔اقتدار میں آنے سے عمران خان کی شخصیت اورسیاست کے تضادات منظرعام پرآرہے ہیں۔انہیں بھی اپنے پیشرووزرائے اعظم کی طرح خوشامداوربونوں کے درمیان میں بیٹھنا بہت پسند ہے،بونوں میں بیٹھ کرخودکوقدآورسمجھنا دانائی نہیں۔ میرے نزدیک عمران خان کی سیاسی سوجھ بوجھ ایک بڑاسوالیہ نشان ہے۔جس نے سردار عثمان بزدار کوتخت لاہورپربٹھا دیا اس کی سیاسی بصیرت کیاہوگی۔دیکھیں کپتان اپنے چہیتے سردارعثمان بزدارکابوجھ کہاں تک اٹھاتے ہیں۔پی ٹی آئی میں نیک نام،زیرک،مخلص اورانتھک میاں اسلم اقبال کے ہوتے ہوئے کپتان کا پنجاب کی پگ کسی دوسرے کے سرپررکھنا ناقابل فہم ہے۔جس نے میاں اسلم اقبال سے گوہرکونہیں پہچاناوہ مردم شناس اورجوہرشناس نہیں ہوسکتا۔جو اقتدار پراپنی گرفت ڈھیلی پڑنے کے ڈر سے کسی نحیف پرانحصار کرتے ہیں وہ خودبھی ایک دن کمزورپڑجاتے ہیں جبکہ طاقتورپرانحصار انسان کو مضبوط بناتا ہے۔عمران خان نے اپنے حالیہ دورہ لاہورمیں صوبائی وزراء کی کارکردگی طلب کی مگران کی اپنی اوران کے معتمد سردارعثمان بزدار کی کارکردگی کیا ہے۔میں پھر کہتاہوں پنجاب کو”بزدار”نہیں ”بردبار” کی ضرورت ہے۔
وہ نام نہاداوربزدل دانشورجوخودبھی جنگ سے ڈرتے اورقوم کوڈراتے ہیں ان کی خدمت میں عرض ہے کیا زمینی وآسمانی آفات وبلیات،حادثات، مختلف وباؤں،بیماریوں،بھوک اورپیاس سے اموات نہیں ہوتیں۔جس ملک میں جنگ نہیں ہوتی کیا حضرت عزرائیل ؑ وہاں نہیں جاتے۔کوئی انسان کتنا جی لے گا،موت اٹل ہے۔معبود برحق کے قرب اور” ابدی ”زندگی کیلئے ہر”عبد”کو موت کاذائقہ چکھنا پڑتا ہے یعنی کرب کے بغیر قرب نہیں ملتا۔کیاامن کے گیت گانے سے یا”ہم پہل نہیں کریں گے” کی بزدلی والے پیغام سے بھارت بربریت اورجارحیت سے بازآجائے گا۔اگرآج ہم اپنی شہ رگ کیلئے جنگ نہیں کریں گے توبھارت کی آبی جارحیت سے ہمارے بچے بھوک اورپیاس سے بلک بلک کرجان دے دیں گے۔اگرہمارے باپ داداقیام پاکستان کیلئے قربانیاں پیش نہ کرتے توآج ہم بھی بھارت میں انتہاپسندہندوؤں کے غلام ہوتے لہٰذاء اپنے بچوں کوبھوک پیاس سے بچانے اورکشمیری مسلمانوں کوبھارتی شکنجے سے چھڑانے کیلئے ہمیں جانوں کے نذرانے پیش کرناہوں گے۔ چشم تصور سے اُن یرغمال،محصور،مجبور،معتوب،مغلوب اورستم زدہ کشمیریوں کودیکھیں جواپنے شہداء کواپنے اپنے آنگن میں دفنانے پرمجبور ہیں۔جہاں بازار بند ہوں،پانی بندہووہاں شہداء کیلئے غسل،کفن اورنمازجنازہ کاانتظام کس قدردشوارہوتا ہوگا۔بھارتی سورما نہتے کشمیریوں کو گولیاں ماررہے ہیں مگر زخمیوں کوجان بچانے والی ”گولیاں ” میسرنہیں۔کشمیر کے نڈرنوجوان ہنستے ہنستے جام شہادت نوش کررہے ہیں،انہیں اپنی زندگی عزیزنہیں مگروہ اپنے گھروں میں بیٹھی اپنی ماؤں،بیویوں،بہنوں اوربیٹیوں کواللہ تعالیٰ کے بعد کس کے سپردکریں،ان کی ناموس کاپہرہ کون دے گا۔کشمیر سمیت پورے بھارت میں ہماری ماؤں،بہنوں اوربیٹیوں کی عزت محفوظ نہیں،جس قوم کی اجتماعی عزت تارتارہوجائے اس کیلئے زندگی موت سے بدتر ہے لہٰذا ء روزروز شرم سے ڈوب مرنے کی بجائے دشمن کوللکارتے ہوئے،دشمن کومارتے اورپچھاڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنابیش قیمت سعادت ہے۔محسن انسانیت،سراپارحمت،سرورکونین حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ کائنات میں کوئی نرم دل اوررحم دل نہیں ہوسکتا مگرآپ ؐ اپنی ظاہری حیات میں اپنے پیاروں کے ساتھ سترغزوات میں شریک ہوئے۔آج دنیا میں اسلام کاوجودجہاد کاثمر ہے۔اگرجنگ سے صرف مسائل کاجنم ہوتا تواسلام کے بینظیر سپہ سالار فاروق اعظم حضرت عمر رضی اللہ عنہ آج کفار کے بھی ہیرو اورآئیڈیل نہ ہوتے،برطانیہ سمیت دنیا کی ہرایک فلاحی ریاست میں ان کانظام رائج نہ ہوتا۔جس کسی نے شہزادہ کونین حضرت امام حسین ؑ کی شہادت کافلسفہ سمجھ لیا اس کے دل میں کسی دشمن اورموت کاڈر نہیں رہے گا۔جنگ بری ہوتی توحضرت امام حسین ؑ اپنے پیاروں سمیت پلید یذیدکے مدمقابل نہ آتے۔حق اورباطل کے درمیان توازن یا ”امن معاہدہ”نہیں ہوسکتا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی بار مذاکرات ہوئے مگر ہربار بھارت راہ فراراختیار کرتارہا۔ہم کیوں بھول جاتے ہیں آج جوکشمیر ہمارے پاس ہے وہ ہمیں باتوں نہیں بندوقوں سے حاصل ہوا تھا۔
ڈونلڈٹرمپ اورنریندرمودی ایک دوسرے کی ”کاربن کاپی” ہیں،ان میں ” رنگ” کے سوا کوئی فرق نہیں۔نریندرمودی پہلی باروزیراعظم منتخب ہوا تومیں نے لکھا تھا مودی کے اقتدار میں آنے سے بھارت میں انتہاپسندی کادوردورہ ہوگا اوریہ آگ بھارت کاشیرزاہ بکھیردے گی۔مودی کے دوسری بار منتخب ہونے سے قبل میں نے اپنے کالم میں اس کی جیت کالکھاتھاکیونکہ اس خطہ میں امریکہ کو پاکستان کیلئے نریندرمودی کی صورت میں ایک بیوقوف اور انتہاپسنددشمن کی ضرورت ہے۔امریکہ ایک سفیدہاتھی ہے جس کے دانت کھانے کے اوردکھانے کے اور ہیں۔امریکہ کسی شاطر کی طرح بیک وقت شکاراورشکاری کے ساتھ ہوتا ہے اوردونوں میں سے جوکامیاب ہواسے باورکرواتاہے کہ اس کی مدد کے بغیر اسے ہرگز کامیابی نہ ملتی۔امریکہ نظریات نہیں بلکہ نظریہ ضرورت کے تحت دوستی اوردشمنی نبھاتا ہے۔پچھلے دنوں ٹرمپ اورمودی کا ایک دوسرے کے ہاتھ پرہاتھ مارنااورقہقہہ لگانا پوری دنیا نے دیکھا لیکن میں نے دیکھا وہ دونوں کپتان اورپاکستان پرہنس رہے تھے،امریکہ نے ماضی میں جس مودی کوویزہ نہیں دیاتھاآج وہ اس کی آنکھوں کاتاراہے۔وزیراعظم عمران خان نے اپنے حالیہ دورہ امریکہ کوکامیاب قراردیا اورموصوف نے کہا وطن واپسی پرانہیں اپنے استقبال سے لگاوہ ورلڈ کپ جیت کرآئے ہیں،میں سمجھتاہوں وزیراعظم کادورہ بری طرح ناکام رہا کیونکہ ڈونلڈٹرمپ کا ثالثی کابیان درحقیقت عمران خان کیلئے ایک ٹریپ تھا۔نریندرمودی کاجموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت پرشب خون مارنا ڈونلڈٹرمپ کے آشیر باد کاشاخسانہ بلکہ شیطانی تکون کامس ایڈونچر ہے۔یہودوہنودمحض اسلام دشمنی کی بنیادپرپوری طرح متحد ہیں جبکہ ایک ”ارب”سے زیادہ مسلمانوں کے اتحاد میں ”عرب”حکمران رکاوٹ ہیں۔تحریک آزادی کشمیر کے زبردست حامی پروفیسر حافظ سعید کی اچانک گرفتاری جبکہ اس پرڈونلڈٹرمپ اورنریندرمودی کاجشن،وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ میں ڈونلڈٹرمپ کی طرف سے ثالثی کاشوشہ،بھارت کااچانک اپنے آئین سے آرٹیکل370 حذف کر تے ہوئے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنا، امریکہ کی طرف سے ثالثی کی آفر کے باوجود جموں وکشمیرکے اندر کرفیو کی آڑمیں نوملین کشمیریوں کویرغمال بنانا،انٹرنیٹ کی بندش،آزادی صحافت پرپہرے،سکیورٹی کونسل کامحض اظہار تشویش،عرب حکمرانوں کا ٹرمپ کی ڈکٹیشن پراسلام دشمن اورآدم خورنریندرمودی کواعزازات سے نوازنا یہ سب کچھ واشنگٹن کی ڈکٹیشن کے مطابق ہورہا ہے۔اگردہشت گردی ختم کرنیوالے پاکستان کوخوامخواہ گرے فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے، امریکہ امن اورانسانیت کی آڑ میں ایران پرپابندیاں لگاسکتا ہے توگجرات کے بعدکشمیرمیں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے بھارت پرابھی تک کوئی قدغن کیوں نہیں لگائی گئی۔
عمران خان کوبیسیوں نادان اورنوجوان مشیروں نہیں بلکہ مختلف شعبہ جات کے سینئر ماہرین کے مفید مشوروں کی ضرورت ہے،وزیراعظم کے ان مشیروں کاکیافائدہ جو انہیں مشورہ دیناتودرکنار ان سے کسی بات پراختلاف تک نہیں کر سکتے۔عمران خان قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان کی حیثیت سے کسی کی سنتے تھے نہ آج بحیثیت وزیراعظم دوسروں کی سننے کیلئے تیار ہیں۔عمران خان کوتکبر نہیں تدبر کی ضرورت ہے،وہ مہمانوں سے ملاقات کرتے وقت ٹانگ پرٹانگ رکھ کربیٹھنا چھوڑدیں۔کامیاب حکمران ”اداؤں ” سے دوربھاگتے اور” داناؤں ” کی صحبت میں بیٹھتے ہیں۔اگرکپتان نے گڈ گورننس کے گر سیکھنے اوراپنے انتخابی وعدے وفاکرنے ہیں تو خوشامدیوں کی بجائے نقادوں کے ساتھ بیٹھک کااہتمام کیاکریں۔کشمیر کاز کیلئے جمعہ کے دن تیس منٹ کاعلامتی احتجاج ایک بھونڈا مذاق تھا۔ جموں وکشمیر میں 7/24کی بنیادوں پربھارتی بربریت جاری ہے،وہاں ہمارے پیاروں کے جنازے اٹھ رہے ہیں اوراسلام آباد کاحکمران طبقہ ابھی تک صورتحال کاجائزہ لے رہا ہے۔اہل کشمیرسے اظہار یکجہتی کیلئے بیانات نہیں دوررس اقدامات کی ضرورت ہے۔ مودی کوجموں وکشمیر سے فوج کی واپسی اوربھارتی زندانوں میں قیدکشمیریوں کی فوری رہا ئی کاٹائم فریم دیاجائے اوراگروہ ایسانہیں کرتا تونتائج کی پرواہ کئے بغیرطبل جنگ بجادیاجائے۔راقم کاایمان ہے جس دن ایٹمی پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کھڑاہوگیا اس دن بھارت جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں  نیب کیلئے نئے مسودہ قانون پر اپوزیشن اور حکومت میں اتفاق رائے کیلئے رابطے شروع

What is your opinion on this news?