تازہ ترینکالمملک ساجد اعوان

گستاخانہ رسول کے پیروکار

میں نے اپنے موبائل سے اپنے ایک دوست کا نمبر ملایا کہ اُس سے پشاور کا حالات کاجائزہ لے سکوں۔وہ پشاور کا ہی رہائشی ہے اور پوش علاقہ میں اس کا گھر ہے خیریت دریافت کرنے کے بعد میں نے کہا پشاورمیں جس دن عشق رسول منایاگیا کیسا تھا تو کہنے لگا یار اعوان صاحب کچھ نہ پوچھو کہ ہمارے معاشرے میں کچھ کالی بھیڑیں ہیں جو ہر جگہ پہنچ جاتی ہیں کہنے لگا اس دن جمعتہ المبارک کا دن تھا میں نماز پڑھنے مسجد گیا جب نماز پڑھ کر نکلا تو دیکھا کہ اچانک ریلی آگئی جو یارسول اللہ کے نعرے لگا رہے تھے خیر میں بھی ریلی میں شامل ہوگیا اتنے میں افراتفری مچ گئی پتہ نہیں اچانک کیا ہوگیا میں نے نکلنا چاہا مگر چاہنے کے باوجود نہ نکل سکا میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کچھ لوگوں نے ریلی میں شمولیت ہی اس لئے کی کہ لوٹ مار کرسکیں اور جو ہاتھ میں آئے اٹھا کر لے جاؤ میں نے کچھ لوگ دیکھے جو شکل سے کباڑئیے لگ رہے تھے انہوں نے بنک کی اے ٹی ایم مشین کو باقاعدہ توڑا اور گدھا گاڑی پر اٹھا کرلے گئے اور بعد میں بنک کو آگ لگادی اور ہر طرف ایسا ماحول تھا کہ جانے کیا ہوجائے گا سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ کیسا احتجاج ہے باقاعدہ امریکہ کو خوش کیاجارہاتھا کہ وہ کمینہ جو چاہتاتھا ہوگیا مسلمان ایک دوسرے کو ماررہے تھے اور لوٹ مار الگ سے کررہے تھے میں بڑی مشکل سے 3گھنٹے گزرنے کے بعد ایک سکول کی بلڈنگ میں گھس کر جان بچائی اور اس کے علاوہ پشاوہ میں آئے روز فائرنگ اور دھماکے تو روز کے معمول بن گئے ہیں کوئی کنٹرول نہیں ہے ہم کیسے مسلمان ہیں کہ جب بھی کہیں بھی اس طرح کی ریلی نکلتی ہے اور احتجاج ہوتاہے تو لوٹ مار کا سلسلہ شروع ہوجاتاہے میرے دوست نے کہا کہ میں تو نماز پڑھنے گیا اور بغیر کسی وجہ سے شیلنگ سے میرے پاؤں ابھی تک زخمی ہیں اور لوٹ مار تو یہاں کا فیشن بن چکا ہے اس نے مزید کہا کہ اگر میں گھر سے باہر کسی کام سے جاؤں تو گھروالوں کو بتا کرجاتاہوں کہ واپسی پتہ نہیں ہوگی کہ نہیں آخر کافی باتیں ہونے پر ہم نے ایک دوسرے کو خدا حافظ کہا۔فون بند ہونے کے بعد میں سوچ رہاہوں کہ اس میں پاکستان کاتوکوئی قصورنہیں ہے اس کو چلانے والوں کا قصور ہے جب بھی ریلی نکالی جائے تو ریلی کے سربراہ کو چاہیئے کہ وہ اپنے شرکاء کو آگاہ کریں کہ ریلی کا مقصد کیا ہے اور اردگرد کے کباڑیہ نسل کے لوگوں پر نظر رکھناہوگی ۔ احتجاج کے لیے بہت اچھا طریقہ یہ ہے کہ ’مسلمانوں آج سے عہد کرو کہ ہم نبی کی سنتوں کو زندہ کریں گے، جن کی داڑھی نہیں ہے وہ داڑھی رکھیں، جو شلواریں لمبی پہنتے ہیں اپنے ٹخنوں سے اوپر شلواروں رکھیں، اپنے گھر کے ماحول کو اسلامی بنا دیں۔ فلموں اور گانوں کو گھر سے نکال دیں، نبی کی سنت کے مطابق اپنے عمل کریں‘۔ورنہ ایک دن ایسا آئے گا کہ سب کچھ فنا ہوجائے گا اللہ پاک ہم سب کا حامی وناصر ہو۔

یہ بھی پڑھیں  خیبرپختونخوا کابینہ نے نئے مالی سال کے بجٹ کی منظوری دیدی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker