بین الاقوامیتازہ ترین

یا رکشا ئر ادبی فو رم کے زیر اہتمام ایک ادبی تقریب کا اہتمام

بر یڈ فورڈ ( ایس ایم عرفان طا ہر سے ) یا رکشا ئر ادبی فو رم کے زیر اہتمام ایک خو بصو رت شا عرانہ اور ادبی تقریب کا اہتمام مقا می ریسٹو رنٹ میں کیا گیا جس کا مقصد قومی ادب کا فروغ اور معروف شا عرہ مہ جبیں غزل انصار ی کے تیسرے شعری مجموعہ ’’زندگی‘‘ کی تقریب رونمائی تھا ۔ بر طا نیہ بھر سے ادبی کا رواں سے ملحقہ اداروں ، تنظیما ت ، شعرو سخن اور ادبی ذوق کی حامل شخصیا ت نے بھرپو ر شرکت کی اس پر وقا ر تقریب میں یا رکشا ئر ادبی فو رم ، کا روان ادب ، بزم شعر و سخن ، علم و ادب اور حلقہ اربا ب ذوق سمیت مختلف ادبی تنظیموں کے عہدیداران اور ممبران شامل تھے ۔خصوصی شرکت کرنے والوں میں شامل تھے ڈا کٹر گیتا ،ٹی وی اینکر پرسن سمعیہ ناز ، ملک محمد اخلا ص خان، نا ئب صدر آل جمو ں و کشمیر مسلم کانفرنس سردار سہراب خاں ، غضنفر اخلاص خان،صا بر رضا ، شیراز علی ، کو ثر جان ، با سط کا ظمی،نوجوان صحا فی و معروف کالم نگا ر ایس ایم عرفان طا ہر تقریب کا آغاز تلا وت کلام پاک سے طلال انصا ری نے کیا صدارت کے فرائض ممتازشا عر ڈا کٹر مختا ر الد ین احمد نے سرانجام دیے جبکہ مہمان خصوصی ڈا کٹر مقصود الہیٰ شیخ تھے ۔ڈا کٹر مقصود الہیٰ شیخ نے کہا کہ زندگی کا ساز بھی ایک ساز ہے بج رہا ہے لیکن بے آواز ہے اس زندگی پر مبنی غزل انصا ری کی یہ خوبصورت تحریر قابل داد ہے لیکن کتابیں شا ئع تو بہت ہو تی ہیں لیکن درحقیقت انہیں اس طرح سے پذیرائی نہیں ملتی جو ان کا اصل حق بنتا ہے اس اہمیت کو اجا گر کر نے کی سعی کرنی چا ہیے ۔ ہندوستان میں جو دیہا تی علا قے ہیں وہا ں پر کتا بیں شائع بھی ہو تی ہیں اور فروخت بھی لیکن شہری علا قو ں میں انہیں اہمیت نہیں دی جا تی جو کہ ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے کتابیں محض شا ئع کرنے کے لیے نہیں ہو تیں بلکہ اس سے تعلق بھی بحال ہونا چا ہیے جب تک کتاب دوستی کی رسم نہیں ڈالی جا ئے گی تو علم و ادب اور سخن کو تر و تا زگی اور حیثیت حاصل نہ ہو گی ۔ کتاب کی اہمیت ہما رے اس زما نے میں کم کر دی گئی ہے اس کی تقریب رونمائی تو بھرپور انداز میں ہو تی ہیں لیکن اس کی مقبو لیت میں بڑھ چڑھ کر حصہ نہیں لیا جاتا ہے کسی لکھنے والے کے لیے یہ داد کا فی ہے کہ اس کی شا ئع کردہ کتاب کو خریدہ بھی جا ئے اور آگے پڑھنے والو ں تک بھی پہنچا یا جائے ۔ ڈا کٹر مختا ر الدین نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہاکہ غزل انصا ری حسن صورت کے ساتھ ساتھ حسن سیرت کا بھی حسین امتزاج ہیں ان کا کردار اور افکا ر خود ایک بھرپو ر غزل ہے جسے پڑھنے اور پرکھنے کی ضرورت ہے ۔ اس دوران غزل انصا ری نے میزبان کی حیثیت سے اپنے شعری مجموعہ سے چند منتخب اشعار پیش کیے جس پر حاضرین و نا ظرین نے بھرپور دادو تحسین پیش کی ۔ اس موقع پر سیکرٹری جنرل سا ؤتھ لیڈز کمیونٹی الا ئنس و ممتاز برطانوی سکا لر گو ہر الما س خان نے کہا کہ غزل انصا ری یا رکشا ئر میں ایک اردو زبان اور ادب کے حوالہ سے سفیر کا درجہ رکھتی ہیں اور ان کی علم و ادب اور شعر و سخن کے لیے خد ما ت کو سنہری حروف سے لکھی جا ئیں گی۔ انہو ں نے مزید حوالہ پیش کرتے ہو ئے کہا کہ معروف تاریخی چائنیز سکا لر کنفیوشس سے کسی نے پوچھا کہ مجھے ہمیشہ زندہ رہنے کا کوئی ایک ہنر اور نسخہ کیمیا بتا دو تو اس نے کہا کہ اپنی حیا ت میں محض ایک کتاب لکھ دو تو ہمیشہ کے لیے امر ہوجا ؤ گے ۔اس موقع پریا ر کشا ئر ادبی فو رم کی نما ئندگی کرتے ہو ئے شا عرہ تسلیم حسن نے کہا کہ تین برس سے وائے اے ایف کے ارتقا ئی عمل کے دوران پیشتر ادبی ذوق و شوق رکھنے والو ں کو بھرپو ر سیر حاصل نصا ب اور مواقع میسر کیے گئے ہیں جن سے ادبی ذوق رکھنے وا لے بھرپور استفادہ حاصل کرتے ہو ئے اپنی ادبی پیا س بجھا نے میں مصروف ہیں غزل انصا ری ایک ما ئیہ نا ز اور درد دل رکھنے والی نا یا ب شاعرہ ہیں جنہو ں نے ادھورے خوابوں کے ساتھ ساتھ زندگی کی تکمیل بھی اپنے چا ہنے والو ں کی نظر کر دی ہے ۔ اہل فکر و دانش کی ہر کا وش ہی عزیز ہے لیکن غزل انصا ری کی ادب و شعر کے حوالہ سے خدما ت قابل تحسین ہیں ۔ غزل انصا ری کی سوچ کی رعنا ئی ہی ان کی زندگی کا سب سے قیمتی اثا ثہ ہے ۔ ان کے ظا ہر اور باطن کی خصوصیا ت انہیں دوسروں سے نمایا ں اور پر وقا ر بنا دیتی ہیں ۔ ان کی شا عری کا یہ تیسرا مجموعہ بھی ادب و علم سے بھرپور اور موجودہ حالا ت کی زبردست عکاسی کرتا ہو ا دکھائی دیتا ہے ۔ غزل انصا ری کی یہ خو بی ہے یہ اپنی شا عری کے زریعہ سے نا صرف خوابوں کو تعبیر بلکہ الفاظ کو تو قیر دینا بھی جانتی ہیں ۔ انہو ں نے اپنی شا عری اور جذبا ت و احساسات کے زریعہ سے اپنی ذا ت کی غما زی بھرپور انداز میں کی ہے ۔ مد یحہ انصا ری نے کہا کہ مجھے اپنی اولا د کو آج دیکھ کر اپنی ما ں جیسی خوبصورتی اور قدر و قیمت کا عکس دکھائی دیتا ہے ۔حلقہ ارباب ذوق سے انور چو ہدری نے کہا کہ ادب سے وابستہ ایسی نشستوں سے عوام النا س کو استفادہ حاصل ہو تا ہے ان مصا ئب والم اور مشکلا ت کے لمحا ت میں فرحت کی دو گھڑی بھی تسکین جان ہیں ۔ علم و ادب سے زاہد ظفر نے کہا کہ غزل انصا ری کی تیسری کتاب کی رونمائی پر انہیں مبا رکباد پیش کرتے ہیں ۔ بزم شعرو نغمہ سے راحت زاہد نے کہا کہ غزل انصا ری نے قلیل عرصہ میں جو کثیر مقا م حاصل کیا ہے وہ قا بل ستا ئش ہے اور یہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتا ہے ۔ صا بر رضا نے کہا کہ غزل انصا ری نے زندگی کے سفر کو ادھورے خوابوں سے شروع کیا پھر انہیں تعبیر بخشی اور انہیں پا ئیہ تکمیل تک پہنچا نے کے لیے نبرد آزما دکھائی دیتی ہیں ۔ ان کے شعری مجمو عہ میں زندگی کا ہر پہلو ہر رنگ اور ہر جہد دکھائی دیتی ہے ۔ اس مجموعہ میں مشرق و مغرب کے تمام رنگ اور وطن کی محبت کا عکس بھی دکھائی دیتا ہے ۔ ڈا کٹر اعظم نے کہا کہ بڑے محدود وقت میں تین کتا بیں تحریر کرنا بہت بڑی کا میابی ہے ۔ باسط کا ظمی نے کہا کہ ادب سے وابستگی ہی درحقیقت انسانیت اور زندگی کی پہچان ہے ۔ آدم چغتائی نے کہا کہ زندگی در حقیقت موت کا ہی نام ہے کیو ں کے اس مختصر زندگی اورپھر مو ت کے بعد ہی دائمی زندگی کا آغاز ہوتا ہے ۔ یہ شا عرہ کی زندگی کے لیے مشکلا ت ، معمولا ت اور مسائل کی عمدہ اور شگفتہ تکمیل ہے ۔

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ:ڈکیتی اورچوری کی مختلف وارداتوں میں شہری لاکھوں روپے اور دیگراشیا سے محروم

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker