تازہ ترینکالم

روز عاشور جب خون تلوار پرغالب نظرآیا

روز عاشور جب خون تلوار پر غالب نظر آیا، جب کربلا کی تپتی سرزمین پر خانوادہ رسول ﷺ نے اسلام کی حیات کے لیے اپنی زندگیوں کے چراغ ایسے گل کیے کہ انکی روشنی ہر اندھیرے میں حق کی تلاش کرنے والوں کو آج بھی رستہ دکھاتی ہے۔ہجری کیلنڈر کے حوالے سے اسلامی سال کا آغاز بھی قربانی کی یاد سے ہوتا ہے اور اختتام بھی قربانی سے۔ ایک وہ قربانی جو حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے بیٹے کی پیش کی لیکن پروردگار نے اس قربانی کو یوں قبول کیا کہ جب باپ نے بیٹے کے گلے پر چھری چلائی تو یہ بیٹا نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے بھیجا گیا دنبہ تھا اور دوسری قربانی نواسہ رسول ؑ اور انکے خانوادے اور اصحاب کی کہ کربلا کی تپتی ہوئی زمین پر جب باپ نے اٹھارہ سال کے جون بیٹے کا لاشہ خود اٹھایا اور چھے ماہ کے معصوم شیر خوار کی قبر خود کھودی۔
،،غریب و سادہ و رنگین ہے داستان حرم۔۔ نہایت اسکی حسین ؑ ابتداہے اسماعیل۔،،

یوں تو ،،کل یوم عاشورا۔ کل ارض کربلا،، ہر روز عاشور اور ہر زمین کربلا ہے لیکن محرم ایک ایسا مہینہ ہے کہ جسکے شروع ہوتے ہی مظلوم کی حمایت اور ظلم سے نفرت کرنے والے ہر باشعور انسان کے دل و ماغ پر محسن انسانیت سید الشہداحضرت امام حسین ؑ کی کربلا میں عظیم قربانی اورتاقیامت فتح و کامرانی نقش ہو جاتی ہے۔ امام ؑ نے اپنے بے مثال مجاہدانہ کردار کے ذریعے دنیائے جبر میں ہر خطہ زمین کو کربلا اور ہر دن کو یوم عاشور بنا دیا۔اب تا قیامت دو کردار ایک دوسرے کے سامنے رہیں گے۔ ایک کردار یزیدی جو جبر و ظلم کی نمائیندگی کرتا ہے اور دوسرا کردار حسینی ہے جو صبر و رضا اور ایثارکی مثال بنا رہے گا۔ جبر کے مقابلے میں صبر، جفا کے مقابلے میں وفا، استکبار کے مقابلے میں ایثار، طاقت کے مقابلے میں استقامت اور مطلق العنانی کے مقابلہ میں جرات ایمانی کا مظاہرہ ہی دراصل اسوہ حسین ؑ اور درس ء کربلا ہے۔ امام حسین ؑ اور سول پاک ﷺ کے خانوادے کا صرف اسلام پرہی نہیں پوری کائنات پر حشر تک کے لیئے احسان ہے ورنہ غریب زندہ نہ رہتا اور ملوکیت ہر عہد میں اپنا خراج وصول کرتی رہتی۔

یہ بھی پڑھیں  ڈسکہ میں یوم عاشور انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منایاگیا ذوالجناح کا جلوس برآمد عزاداروں کی زنجیر زنی اور ماتم

آج تک دنیا کے باطل نظاموں کے ترجمان اس دستور کو رائج کرنے اور اسکے فلسفے کو منوانے پر تلے ہوئے ہیں کہ طاقت ہی حق ہے مگر امام ؑ نے اس روش کے خلاف چلتے ہوئے نعرہ انقلاب بلند کیا اورثابت کر دکھایا کہ طاقت حق نہیں دراصل حق طاقت ہے اور دنیا نے دیکھ لیا کہ تلواروں کی جنگ جیتنے والے مقدر کی بازی ہار گئے اور بنجر زمین پر گھر کا گھر لٹا دینے والے انسانیت کی آبرو بن گئے۔ محرم اکسٹھ ہجری کو کربلا ختم نہیں بلکہ شروع ہوئی تھی اور آج بھی ہر وقت کے یزید کو شکست دینے کا حوصلہ ہمیں کربلا سے ہی ملتا ہے۔ کربلا جس نے حق و باطل کا معیار طے کردیااور جس نے بے زبان کو زبان دی، اور جابر و ظالم کے سامنے کلمہ حق کہنے کا حوصلہ دیا۔ امام حسینؑ نے یذید کو بیعت کے سوال پر یہ جواب نہیں دیا تھا کہ میں حسین ؑ تجھ یذید کی بیعت نہیں کرتا بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ امام ؑ کے الفاظ یہ تھے کہ مجھ جیسا تجھ جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔
اگر امام ؑ یہ کہتے کہ حسین ؑ یذید کی بیعت نہیں کرتا تو پھر یہ دو ذاتوں تک محدود رہتا لیکن انہوں نے جو الفاظ استعمال کیئے وہ رہتی دنیا تک ایک مینارہ نور و رشد و ہدایت بن گئے اور تاریخ، سمت،وقت، سوچ، ذہن اور جذبات کو پوری طرح قبضے میں لیکر خود کو مقام امر پر فائز کر لیااور چودہ صدیاں بیت گئیں مگر آپ کا نام اور کردار نکھرتا چلا جاتا ہے اور وقت کی رفتار بتا تی ہے کہ مستقبل میں مذید نکھرے گا۔

انسان کو بیدار تو ہو لینے دو۔ہرقوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؑ ۔۔

یذید کسی فردکانام نہیں ایک رویے کانام ہے اور حسینؑ ایک مشن،مقصد اور ایک نظریے کا نام ہے۔ امام ؑ نے یہ فقرہ کہہ کر رہتی دنیا تک کے لیے راہ متعیں کردی کہ فکر حسینؑ کبھی بھی فکر یذید کے سامنے سرنگوں نہیں ہوگی۔آج ہم اپنے چاروں اطراف جو آگ اور خون کے سمندر دیکھ رہے ہیں اور مسلم امہ مجموعی طور پر جسطرح تضحیک کا نشانہ بنی ہوئی ہے تو اسکی ایک وجہ تو قرآنی تعلیمات اور اسلام سے دوری اور دوسری بڑی وجہ کربلا اور فکر حسین ؑ کو فراموش کرنا ہے۔ ہم روایات میں گم ہوچکے ہیں اور فکر ہماری معاشرت سے جیسے رخصت ہو چکی اور علم سے جیسے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔ آج پوری مسلم دنیا جس طرح کے یذیدی دور سے گذر رہی ہے وہ کربلا کا منظر پیش کر رہی ہے۔ ظلمت سے نجات حاصل کرنے کی واحد راہ فکر حسین ؑ و کربلااور انکے جذبہ حریت کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنااور امام حسین علیہ السلام کے پاک و اعلیٰ مشن کی پیروی میں ہے۔ ( بقیہ دوسرے صفحے پر ملاحظہ ہو)

یہ بھی پڑھیں  حجرہ شاہ مقیم:حجرہ شاہ مقیم میں ڈاکوؤں نے مکئی سے لوڈ ٹریکٹر ٹرالہ گن پوائنٹ پرچھین لیا

یہ دشت کربلا کی آواز ہے جو کسی قوم اور مذہب سے مخصوص نہیں بلکہ ہرایک کے دل کی آواز ہے اور ہر انسان کے پہلو میں دھڑکتے دل کی صدا ہے۔ یہ کیوں نہ ہو ،کربلا ایک ایسا مکتب فکر ہے جسکا آغاز بھی شکست باطل ہے اور انجام بھی باطل کی ہار۔ کربلا کرہء ارض پر کھنچے کسی ایک نقشے کا نام نہیں بلکہ پوری کائنات پر محیط ایک ایسی درسگاہ کا نام ہے جسکی پیمائش نہ جغرافیائی حدود کر سکتے ہیں نہ ملکی و لسانی ضوابط و قیود۔ ہر مومن کا دل نینوا کیساتھ دھڑک رہا ہے، ہر درد کے مارے انسان کا ترانہ کربلا ہے،ہر درد کے مارے انسان کی آواز کربلا ہے، ہر ستائے ہوئے انسان کا ورد زبان کربلا ہے۔
امام حسین ؑ نے ظلم کو اپنے لہو کے ذریعے بے نقاب کرنے اور انسانی اقدار کے تحفظ کی خاطر شعور ذات دینے کے لیئے جو قربانی کربلا میں دی اسکا تسلسل آج بھی قائم ہے۔ جہاں بھی ظالم اور غاصب قوتیں انسانیت کو اپنے پنجے میں جکڑ کر اسے نابود کرنا چاہیں گی وہاں کربلا کی بازگشت ضرور سنائی دیگی۔ اسلئے کہ کربلاایک ایسی فکر کا نام ہے جو ہر خطے، جغرافیہ، قوم و قبیلہ اور رنگ و نسل سے ماوراء ہو کر مظلوموں اور بے سہاروں کا سہارا بن کر انکے پہلو میں دھڑک رہی ہے۔ آج ہم خاموش رہیں یا بولیں لیکن کربلا کے تپتے ہوئے ریگزاروں سے ہر مظلوم کی حمایت کی آواز آج بھی آرہی ہے۔ صدیاں گزر جانے کے بعد آج بھی کربلا کے خون آشام ذرات کو ہاتھوں میں لیکر نچوڑا جائے تو شہدا کے مقدس خون کے قطرے یہی آواز دینگے کہ ظلم جہاں بھی ،جس انداز سے بھی، جس شکل میں بھی ہو ، ہم ظلم کے لیئے دھکتے ہوئے انگارے ہیں جنکی حرارت ہر ظلم اور ظالم و جابر کے لئے پیغام اجل ہے۔ ظلم کے خلاف اور انسانیت کی قدروں کو بچانے کے لیئے جو آواز صحرائے کربلا میں بلند ہوئی وہ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی اسی زور و شور سے سنائی دے رہی ہے جسطرح اکسٹھ ہجری میں سنائی دی تھی۔ اور جب تک دنیا میں غلامی کے دیوتاوٗں کے چرنوں پر پھول چڑھائے جاتے رہیں گے یہ آواز سنائی دیتی رہے گی۔ جب تک خواہشات کے طوق و سلاسل میں جکڑے قیدی حریت و آزادی کے پرچم دار بنے محکوم قوموں کا استحصال کرتے رہیں گے، جب تک غریبوں اور ناداروں کو ستایا جاتا رہے گا، جب تک حقداروں کو ان کے حق سے محروم کیا جاتا رہے گا تب تک یہ آواز دیتی رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں  آپریشن رد الفساد سے امن ہوا ممکن

حسین ؑ آوٗ کہ وقت انسان کو اپنے ہاتھوں مسل رہا ہے
حسین ؑ آوٗ کہ اب تو آنکھوں کی بینائی پانی میں ڈھل گئی ہے
حسین ؑ آوٗ کہ آج کے آدمی کی ہیت بدل گئی ہے
حسین ؑ میرے نحیف سانسوں کو پھر ضرورت ہے انبیا کی
قسم خدا کی حسین ؑ آوٗ کہ آج دنیا کو پھر ضرورت ہے کربلا کی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker