انور عباس انورتازہ ترینکالم

بس گیارہ مئی ۔

anwar abasجس دن پاکستان کی تاریخ کے اہم ترین انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔۔۔جس دن پاکستان پاکستان کے عوام اپنے مستقبل کے حکمرانوں کا چناؤ کریں گے۔۔۔اور اس دن عوام کے فیصلہ پاکستان کے مستقبل کا تعین کریگا ۔بس چند دنوں کے فاصلے پر ہے۔۔۔اس دن کا غروب ہوتا ہوا آفتاب کئی گھروں میں خوشی و مسرت کا جشن دے جائیگا۔۔۔اور کئی گھروں ،بستیوں اور شہروں کو بقعہ نور بنا دیگا۔خوشیاں محورقص ہوں گی۔اور کہیں چراغ گل کرجائیگا۔اس وقت جب گیارہ مئی محض چند دن باقی ہیں۔اور یہ آہستہ آہستہ ملک کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کی گھڑی کی جانب رواں دواں ہے۔اور اب تک تمام امیدوار خود کو مقدر کا سکندر سمجھے ہوئے ہیں۔اور انتخابات جیتے ہوئے تصور کیے بیٹھے ہیں۔اور گیارہ مئی کے دن کو محض فیصلے کے اعلان کا دن قرار دے رہے ہیں۔ ماضی میں دو دو لاکھ ووٹ رکھنے والے حلقوں سے کامیاب امیدوار محض پچاس پچاس ہزار اور اس سے بھی کم ووٹ لیکر مقدر کے سکندر بنے تھے۔مہذب دنیا میں ایسے نتائج مسترد کر دئیے جاتے ہیں اور از سرنو انتخابات منعقد ہوتے ہیں۔بعض ممالک میں تو جیتنے والے امیدوار وں کے لیے کل ووٹوں کے پچاس فیصد ووٹ حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔اس سے کم ووٹ لینے والے امیدوار وں کو دوبارہ انتخابات میں جانا پڑتا ہے۔لیکن یہ اپنا پاکستان ہے جہاں ایسی کسی قسم کی کوئی پابندی عائد نہیں ہے۔اس کھلی آزادی کے باعث ہی ہمارے ہاں ڈالے جانے والے ووٹوں کے تناسب میں دن بہ دن کمی واقع ہو تی جا رہی ہے۔پیپلز پارٹی ،عوامی نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم کے سوا باقی سب سیاسی جماعتیں بھرپور انداز میں انتخابی مہم چلا رہی ہیں۔تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے ایک بار پھر پاکستان کے عوام کو خبردار کیا گیاہے کہ’’ وہ پیپلز پارٹی ،عوامی نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم کی انتخابی سرگرمیوں سے لا تعلق ہی رہیں تو انکے لیے زیادہ بہتر ہوگا‘‘۔تحریک طالبان نے ترجمان نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں مسلم لیگ نواز،تحریک انصاف ، جماعت اسلامی ،اور جمعیت علائے اسلام کو دہشتگردی کی کارروائیوں سے مثتثنی قرار دینے کی وجوہات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا ہے ۔کہ ’’ہم ان کے نہ مخالف ہیں اور نہ ہی حامی ہیں۔انہیں نشانہ نہ بنانے کا فیصلہ تحریک طالبان کی شوری کرتی ہے۔لیکن پیپلز پارٹی،عوامی نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم کو ان کے ماضی میں کیے گے طالبان کے خلاف اقدامات اور ان کے سیکولر نظریات کے باعث ان کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔‘‘ ان تینوں بڑی جماعتوں کی جانب سے طالبان کی دہمکیوں کی وجہ سے اپنی انتخابی مہم محدود پیمانے پر چلانے کا دانشمندانہ اور مدبرانہ فیصلہ کیا گیا ہے۔لیکن ایک بات ان تینوں جماعتوں کی قیادت نے واضع طور پر کہہ دی ہے ۔کہ وہ طالبان کی دہمکیوں سے مرغوب ہوکر انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کیا جائیگا۔ طالبان کی جانب سے پیپلز پارٹی،عوامی نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم کے سوا باقی تمام جماعتوں کو فری ہینڈ دینے پر پاکستانی لبرل حلقے تو پریشان ہیں ہی۔ لیکن طالبان کی اس پالیسی نے عالمی رائے عامہ اور میڈیا کو پریشان کر رکھا ہے۔اور عالمی میڈیا یہ کہنے پر مجبور ہوگیا ہے کہ جماعت اسلامی،مسلم لیگ نواز،تحریک انصاف ،جمیعت علائے اسلام سمیت باقی سب جماعتوں کے پاس آخر کونسی’’گیدڑ سنگھی‘‘ ہے جس کی وجہ سے طالبان نے انہیں انتخابی مہم کے لیے’’ فری ہینڈ‘‘ دے رکھا ہے۔عالمی اور مقامی لبرل حلقوں کے اس سوال کا جواب کسی کے پاس بھی نہیں ہے۔کیونکہ اس سوال کی اہمیت کے تقاضہ پیش نظر اس سوال کا جواب طالبان کی دہشت گردی سے محفوظ سیاسی جماعتوں کی قیادت ہی دینا ہوگا۔ پیپلز پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے اس سوال کے جواب میں بتایا کہ مسلم لیگ نواز،جماعت اسلامی ،جمیعت علائے اسلام سمیت دیگر جماعتوں کے پاس یہی گیدڑ سنگھی ہے کہ وہ طالبان کی سرپرست اور حامی ہیں۔ یہی جماعتیں طالبان کو مالی اور افرادی قوت فراہم کرتی ہیں۔عوامی نیشنل پارٹی نے انتخابات کے التوا کے امکان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی ایک لمحہ کے لیے بھی انتخابات کے التواء کی مخالفت کرے گی۔ جبکہ ایم کیو ایم کی قیادت نے دہشت گردی کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر انتخابات کے التواء پر اپنی رضامندی کا اظہار کر دیا ہے۔نگران حکومت بھی بار بار انتخابات کے التواء کی خبروں اور قیاس آرائیوں کی تردید کر چکی ہے۔مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کب تک لاشیں اٹھاتی رہیں گی۔اور اگر طالبان کی کارروائیاں اسی رفتار سے جاری رہنے کی صورت میں اگر پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے بھی یہ کہہ کر کہ ’’ ہم اس خوف اور دہشت کے عالم میں انتخابات نہیں لڑ سکتے‘‘ انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کریں تو انتخابات کے آزادانہ ،منصفانہ اور شفاف ہونے پر سوالیہ نشان لگ جائیں گے۔اس لیے وفاقی اور صوبائی نگران حکومتوں کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فوری ایکشن کرکے انتخابات کے انعقاد کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔ نگران حکمرانوں اور الیکشن کمیشن کو اس جانب غور کرنا چا ہئے کہ طالبان کی ان دہشت گردی کی کارروائیوں کے خوف کی وجہ سے ہی عوام سیاسی جماعتوں کی انتخابی سرگرمیوں سے نہ صرف دور بلکہ لاتعلق رہنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ماضی میں تمام چھوٹے بڑے شہروں کے مکانات کی چھتوں پر سیاسی جماعتوں کے لہراتے رنگ برنگے پرچموں کو دیکھ کر اندازہ لگا لیا جاتا تھا کہ وہاں سیاسی جماعت کا اس شہر میں زور ہے۔لیکن ایسی فضا ابھی تک دیکھنے میں نہیں آ رہی ۔لاہور ہو یا شیخوپورہ یا پھر فیصل آباد ہو سب چھتوں پر ’’ہو کا عالم‘‘ نظر آئے گا۔ہو سکتا ہے کہ اس بار پچھلے انتخابات سے بھی ٹرن آوٹ کم رہے۔

یہ بھی پڑھیں  عمران خان نے اپنےترجمان عمرچیمہ کوعہدے سے فارغ کردیا

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker