تازہ ترینصابرمغلکالم

11مئی دو سال لوڈ شیڈنگ فری دن

گذشتہ سال عام انتخابات سے چند روز قبل نگران وقافی وزیر بجلی و پانی ڈاکٹرتصدق ملک کی پریس کانفرنس میں شامل ہونے کا موقع ملا،ان کی پریس بریفنگ کا مقصد صرف یہی تھا کہ ہم بھر پور کوشش کر رہے ہیں کہ انتخابات کے موقع پر مسلسل تین دن فراہمی کو یقینی بنائیں گے،ان کے مطابق اس ضمن میں تمام پاور پلانٹس کو اضافی تیل و گیس فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ ہاٹ لائن بھی قائم ہو گی تا کہ کسی فوری مسئلے کا تدارک کیا جا سکے،الیکشن آئے تین دن لوڈ شیڈنگ نہ پر عوام کے کسی عید سے کم نہ تھے ،یہ انتخابات پاکستان کی تاریخ میں اس حوالے سے بھی یادگار حثیت رکھتے ہیں کہ ان کے نتیجہ میں پہلی بار کسی جمہوری حکومت سے دوسری جمہوری حکومت کو اقتدار منتقل ہوا(یہ الگ بات ہے کہ اقتدار کے سنگھاس سے ایک بھائی اترا اور دوسرا جا بیٹھا) گذشتہ کئی سالوں سے بجلی کا جن قابو سے باہر ہے،ہر ایک صاحب اختیار نے دعوؤں کی بھرمار کر دی لیکن ان کی قسمت میں خفت اور عوام کے نصیب میں ذلالت لکھی تھی،اچھی طرح یاد ہے سال قبل انہی دنوں جب لوڈ شیڈنگ نہ کی گئی تو عوام متحیر تھے ،کیوں کہ پاکستان میں جن فقروں کو پذیرائی ملی ہے وہ یہ ہیں۔بجلی کب آئی ہے؟کس وقت بند ہو گی؟ کب تک آنے کی امید ہے؟ جلدی کریں کہیں بجلی بند نہ ہو جائے، کئی سال سے لوڈ شیڈنگ نے پاکستان کی معیشت کا دیوالیہ نکال دیا ہے،اقتصادی سرگرمیاں ختم ہو گئیں، لاکھوں مزدور بے روز گار ہو گئے ،سینکڑوں چھوٹے کارخانے زنگ آلود ہو گئے،فاقوں نے گھروں میں ڈیرے ڈال دئیے،عوام کی زندگی اجیرن ہونے کی حدوں کو بھی کراس کر گئی،بجلی کی قیمتیں آسماں پر اور بجلی کا وجود زمین پر بھی نہیں،عام آدمی کا دن کو کاروبار ٹھپ اور رات کو نیند کوسوں دور،اس بے آرامی اور ڈپریشن نے عوام کی ذہنی حالت کے چیتھڑے اڑا دئیے،دوسری جانب انرجی بحران کی وجہ سے 9کروڑ 88لاکھ افراد خط غربت سے بھی نیچے زندگی گذارنے پر مجبور ہو گئے،ان میں سے 50لاکھ سے زائد افراد ایسے بھی ہیں جنہیں ہنگامی بنیادوں پر خوراک کی اشد ترین ضرورت ہے،اسی انرجی بحران نے شرح مہنگائی میں پاکستان کو ایشیا کی سترہ معیشتوں میں سے پہلے نمبر پر لا کھڑا کیا ہے،اس وقت بھی نوجوانوں کی0 11.3فیصد تعداد بے روز گار ہے،ایک طرف عوام کو مچھر کاٹتے تو دوسری جانب حکمران ،تمام حکومتی دعوے کسی میزائل پر سوار ہو کر بحر ہند میں جا گرے،بجلی اور گیس لوڈشیڈنگ کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو گئے،اب امداد،تحفہ اور قرضہ کی رقم سے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کا دعویٰ کیا جا رہا ہے،عوام گذشتہ دو دن سے حیرت زدہ ہیں کہ بجلی بند نہیں ہوئی،یہ ایک دم سے شارٹ فال میں کمی کیسے آگئی ؟ ابھی ایک ہفتہ قبل ہی ہر دلعزیز وفاقی وزیر خواجہ آصف نے تو عوام کو اگلے تین ماہ عذاب جھیلنے کی خوشخبری سنائی تھی ، پھر یکا یک اس خاص عنایت کا ذمہ دار ڈاکٹر طاہر القادری ہے یا عمران خان،عمران خان کے احتجاج کا ایجنڈا ہی الیکشن دھاندلی ہے البتہ طاہر القادری اس کرپٹ نظام کے خلاف اٹھے ہیں،کیا اس ملک میں اپنا حق لینے کے لئے بھی سڑکوں پر نکلنا ضروری ہے؟ یہ سوچ پاکستانی عوام کے ذہنوں میں سرایت کر چکی ہے یہی وجہ ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر کہیں نہ کہیں عوام نے روڈ بند کر رکھا ہوتا ہے،گذشتہ سال انتخابات کی وجہ سے 11مئی کو بجلی بند نہ ہوئی اور اس بارپاکستان عوامی تحریک کے انقلابی پروگرام کے پہلے مرحلہ کی وجہ سے ،ڈاکٹر طاہر القادری نے پاکستان بھر میں 60شہروں میں ٹیلفونک خطاب کیا ،عوامی تحریک کی احتجاجی ریلیوں میں عوام کی شمولیت نے اس بات کی گواہی دے دی ہے کہ وہ اس نظام کا ہر صورت خاتمہ چاہتے ہیں دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے بھی پوری قوت کامظاہرہ کیا ہے اور حکومت کی بوکھلاہٹ عیاں اور واضح تھی ،پکڑ دھکڑ،وزراء کے اوٹ پٹانگ اور بے معنی بیانات ،میڈیا پر شرمناک حد تک تشہیر۔اگر خلوص نیت سے کام اور عوام کی خدمت کی جائے تو کسی تشہیری (بھونڈی) مہم کی ضرورت نہیں رہتی،بہر حال 11مئی 2013اور2014کو بھی عوام کیا یاد رکھیں گے کہ بجلی بند ہی نہیں ہوئی،گذشتہ سال موجودہ حکمرانوں کے چہروں پر رونق اور شادابی تھی اور آج پریشانی کاش حکمرانوں کے ایسے کاموں میں پائداری ہو،سنجیدگی ہو،خلوص ہو،نیک نیتی ہو، پھر دیکھتے ہیں عوامی مسائل کیسے حل نہیں ہوتے…

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!