پاکستانتازہ ترین

ریسکیو1122، 16سے 22اپریل تک ارتھ ویک منائےگی

لاہور ﴿نمائندہ خصوصی ﴾ ڈائریکٹر  جنرل  ایمر جنسی  سروسز ریسکیو 1122  ڈاکٹر رضوان  نصیر نے پنجاب کے تمام ڈسٹرکٹ ایمر جنسی آفیسرز کو ہدایت کی کہ 16سے 22اپریل 2012تک ارتھ ویک منایا جائے۔انہوں نے کہا کہ حادثات اور سانحات کی تعداد میں اضافے کی وجوہات میںماحولیاتی تبدیلی،طرز رہن سہن ، گلوبل وارمنگ ، آلودگی سے اوزون کی تہہ کا کمزور ہونا وغیرہ شامل ہیں اوریہ بات اشد ضروری ہے کہ معاشرے کے تمام شعبہ ہائے زندگی کے لوگ باہم مل کر کرۂ ارض کو بچائیں تا کہ ان سانحات کو رونما ہونے سے روکاجا سکے۔اس حوالے سے ریسکیو 1122کے تمام ضلعی افسران کو ہدایت دی کہ ایسی سر گرمیوں کی منصوبہ بندی کریں جو معاشرے میں کرۂ ارض کوحادثات اور سانحات سے بچانے کے لیے آگاہی کو عام کریں۔ان سرگرمیوں میں برقی آلات کا غیر ضروری استعمال روزانہ کی بنیاد پر کم کرنا جیسا کہ پنکھے ،برقی قمقمے،ٹی وی ، ریڈیو ، کمپیوٹر ، LCDs، پرنٹرز ، فوٹو کاپیٔرز ، برقی کیتلی ، ما سوائے کنٹرول روم کے صبح 09سے 12بجے تک بند رکھے جائیں۔ٹشو پیپرز کے بجائے روما ل کا استعمال کرنا، بال پوائنٹ کی جگہ سیاہی والے قلم کا استعمال کرنا اورترسیل اشیائ کے لیے پولی تھین بیگ کی جگہ کپڑے کے تھیلے کا استعمال، نیزدفاتر کے ماحول کو بہتر کرنے کے لئے کاغذ کا کم سے کم استعمال ،دفاتر ، اسٹیشنز،ایمر جنسی وہیکلزاور آلات کی صفائی کو یقینی بنانا ۔اسٹیشنزسے ملحقہ گندی اورخالی جگہوں پر شجر کاری سے سر سبز و شاداب عوامی باغات بنانا۔اس کے علاوہ ریسکیورز اپنے تمام اسٹیشنز پر معاشرے میں کرۂ ارض کے بچاؤکی آگاہی کو پھیلانے کے لئے آگاہی کیمپوںکا انعقادکریں گے جن پرمعاشرے کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے متعلق عوام سے مرتب شدہ عہد نامہ پُر کروایا جائے گا تا کہ زمین کو صاف ، سر سبز ،رہنے اور کام کرنے کے لئے محفوظ اور ہم آہنگ بنایا جا سکے۔ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122ڈاکٹر رضوان نصیر نے کمیونٹی سے اپیل کی کہ وہ کم سے کم ایک پوداصدقہ کرکے زمین کے بچاؤ اور زمین کو سر سبز بنانے کے لیے ریسکیو 1122کی معاونت کریں ۔انہوں نے مزید کہا کہ تما م اضلاع کے ریسکیورز 22اپریل کو آگاہی واک اپنے سنٹرل اسٹیشن سے منعقد کریں گے۔ راولپنڈی میں اس واک کا آغاز سنٹرل ریسکیوا سٹیشن چاندنی چوک لنک راول روڈسے کیا جائے گا ۔

یہ بھی پڑھیں  شاہ محمود قریشی اور جاوید ہاشمی کی ایک دوسرے پر تنقید

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker