تازہ ترینکالممحمد صدیق مدنی

سرور کائنات حضرت محمدﷺ

Siddiq Madani Columnistاللہ تعالا نے اس خاکی انسان کو روحانی غذا پہنچانے کیلئے ہر زمزں، مکان،لسان اور بیابان میں نبی بھیجے۔ جو اپنے فرائض کی تکمیل کیلئے سر خرو ہوتے گئے۔ یہاں تک کہ آخر ایام میں امام الانبیآء سرورکائنات جناب حضرت محمد ﷺ تشریف لائے ۔ آنے کو توسب سے آخر میں آئے ۔ جب کہ سب جانے کیلئے آئے لیکن آپﷺ آنے کیلئے آئے ۔ یہاں تک کہ اس دنیا میں تشریف لیجانے کے باوجود آپ کے خاتم النبیین کی برکت سے تبلیغ دین کاکام آپ کی امت کے علماء انجام دے رہے ہیں اور قیامت تک دیتے رہیں گے۔
اللہ رب العزت کا ارشاد پاک ہے ۔ ترجمہ ۔ اے محمد ﷺ کہو کہ اے انسانو !میں تم سب کی طرف اْس خدا کا پیغمبر ہوں جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے ‘‘(الا عراف۸۵۱) ’’درحقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسول ﷺ میں ایک بہترین نمونہ ہے ،ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کا امیدوارہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے‘‘(الاحزاب۱۲) مسلم کی حدیث ہے کہ ایک دفعہ چند صحابہؓ نے حضرت عائشہؓ ام المومنین سے عرض کیا کہ آپ نبی اکرم ﷺ کے کچھ حالات زندگی ہم کو بتائیں عائشہ صدیقہؓ نے تعجب سے دریافت کیا آپ نے قرآن نہیں پڑھا جو مجھ سے خلق نبی ﷺ کے متعلق سوال کرتے ہو؟(مسلم )یعنی آپ ﷺ کی ساری زندگی قرآن تھی۔ اسماء صفات والقاب کے علاوہ محمد ﷺاور ا حمد کے نام سے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو قرآن شریف میںیاد کیا ہے۔حضرت آدم ع سے لیکر حضرت محمد ﷺ تک تمام پیغمبروں نے اپنے اپنے طور پر اللہ کے حکم کے مطابق اللہ کا پیغام اللہ کی مخلوق تک پہنچایا مگر اس تما م پیغام کو اللہ تعالیٰ نے حضرت محمدﷺ کی دعوت میں یکجاکر کے قرآن شریف میں درج کر دیا اور کہہ دیا کہ میری مخلوق کے لیے میرا یہ آخری پیغام ،آخری پیغمبرﷺکے ذریعے ہے جو قیامت تک رہے گا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بشارت سنا دی کہ آج میں نے دین مکمل کر دیا ہے میری مخلوق قیامت تک اس پر عمل کرکے نجات پا جائے گی۔اب کسی پیغمبر نے نہیں آنا ہے اس دین کو امت مسلمہ نے قائم رکھنا ہے۔۹ربیع لاول مطابق۰۲اپریل۱۷۵ ء( الر حیق المختوم) کی صبح مکہ کے ایک معزز قبیلہ قریش(بنی ہاشم) میں عبداللہ بن عبدالمطلب کے گھر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے آپ ? کی والدہ کا نام آمنہ تھا ولادت سے پہلے ہی والد کا انتقال ہو گیا تھااللہ نے قرآن شریف میں فرمایا ’’بھلا اس نے تمہیں یتیم پا کر جگہ نہیں دی‘‘(الضحیٰ۶) عرب کے رواج کے مطابق آپ ﷺ کو بھی بنی سعد کی بدوی عورت حضرت حلیمہؓ کے حوالے کیا گیا تاکہ صحت مند ہو اور خالص اور ٹھوس عربی زبان سیکھ سکے حضرت حلیمہ کہتی ہیں کہ اس بچے کے آنے سے ہم آسودہ حالات ہو گئے جب کہ پہلے بہت ہی تنگ دستی تھی وہیں پر واقعہ شق صدر پیش آیا حضرت جبرائیل ع نے آپ ﷺ کا سینہ چاک کر کے زمزم کے پانی سے دھو کر اسی جگہ رکھ دیا۔اس کے ایک سال بعد آپ ﷺ کو اپنی والدہ آمنہ کے حوالے کر دیا گیا۔ کچھ مدت کے بعد آپ ﷺ کی والدہ کا انتقال ہو گیا۔ دادا عبدالمطلب کے بعدابوطالب نے اپنے بھتیجے کا حق کفالت بڑی خوبی سے ادا کیا ۰۴ سال تک قوت پہنچائی جب تک ابو طالب زندہ رہے کسی کو جرات نہ تھی کہ رسول ﷺ کو زک پہنچائے.آپ ﷺ کی عمر جب ۵۳ سال ہوئی اس وقت ایک واقعہ پیش آیا قریش نے خانہ کعبہ کی تعمیر نو کا پروگرام بنایاقریش نے فیصلہ کیا خانہ کعبہ کی تعمیر پر حلال پیسے خرچ کریں گے اس سے ثابت ہوتا ہے حرام حلال کی تمیز ان میں تھی مگر دولت کی ہوس نے انہیں نابیناکیا ہوا تھاجب حجر اسود کو اپنی جگہ رکھنے پر جھگڑا شروع ہو گیا تو ہر قبیلہ اس کو رکھنے پر زور دے رہا تھا بات اس طرح طے ہوئی کہ کل جو سب سے پہلے خانہ کعبہ میں داخل ہو گا اس کو حکم مان لیں گے اللہ کی مشیت دوسرے دن رسول ﷺ سب سے پہلے خانہ کعبہ میں داخل ہوئے لوگ مان گے کہ یہ امین ہے ہم اس پر راضی ہیں آپ ﷺ نے ایک چادر طلب کی حجر اسود کو خود اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر چادر پر رکھا پھر سب قبائل کے سرداروں سے کہا کہ آپ سب چادر کے کنار ے پکڑیں اور رکھنے کی جگہ لیں جائیں پھر اپنے ہاتھ سے حجر اسود کو اٹھا کر مقررہ جگہ پر رکھ دیا اس طرح جھگڑا ختم ہو گیا۔آپ نے اپنی زندگی کے ۵۲ سال گزارنے کے بعد حضرت خدیجہؓ سے شادی کی شادی کے ۵۱ سال بعد اللہ نے پیغمبر بنایا۔ پیغمبر ی کے ۳۱ سال مکہ میں اللہ کا پیغام اللہ کے بندوں تک پہنچانے کے بعد مدینہ ہجرت کی اور زندگی کے بقایا ۰۱ سال مدینہ کے اندر گزارے۔ ۳۶ سال کی عمر میں وفات پائی۔آپ ﷺ دور شباب میں ہی خلوت پسند ہو گئے تھے اور قوم کی بت پرستی کو دیکھ کر پریشان ہوتے تھے غار حرا میں جاکر اللہ کی عبادت کرتے تھے۔
وحی کا نزول :۔ ایک روز اللہ نے ا پنے فرشتے حضرت جبرائیل کو وحی کے ساتھ بیھجا اور فرشتے نے کہا پڑھ اللہ کے نام سے ،مگر آپﷺ نے کہا میں پڑھ نہیں سکتا۔ ’’ پڑھو(اے بنی) اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا ،جمے ہوئے خون کے ایک لو تھڑے سے انسان کی تخلیق کی، پڑھو،اور تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا ،انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا‘‘ (العلق۱۔۵) ان آیات کے بعدر سولﷺ کا دل دھک دھک کر رہا تھا حضرت خدیجہؓ کے پاس تشریف لے گئے اور کہا مجھے چادر اڑھا دو انہوں نے چادر اوڑھا دی یہاں تک کہ خوف دور ہو گیا۔حضرت خدیجہؓ آپ ﷺکو اپنے چچرے بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں رسولﷺ نے سارا واقعہ انہیں سنایا اس نے کہا یہ تو وہی ناموس ہے جسے اللہ نے موسیٰ ع پر نازل کیا تھا کاش میں اس وقت زندہ ہوتا اور آپ ﷺ کی مدد کرتا جب آ پ ﷺ کو قوم نکال دے گی آپﷺ نے فرمایا قوم مجھے نکال دے گی ورقہ نے کہا جو کوئی بھی ایسی چیز لے کر آتا ہے جو آپ ﷺلے کر آئے ہیں لوگ اسے نکال دیتے ہیں۔اس کے بعد مسلسل ۳۲ سال تک آپ ﷺ پر وحی نازل ہوتی رہی۔ قرآن شریف میں ہے
’’کسی بشر کا یہ مقام نہیں ہے کہ اللہ اس سے روبرو بات کرے اس کی بات یا تو وحی(اشارے) کے طور پر ہوتی ہے یا پردے کے پیچھے سے یا پھر وہ کوئی پیغام بر(فرشتہ) بھیجتا ہے
اور وہ اس کے حکم سے جو کچھ وہ چاہتا ہے وحی کرتا ہے‘‘( لشوریٰ۱۵) ۳۲ سال کی مدت میں قرآن شریف کا نزول مکمل ہوا۔ آپ ﷺ کو اللہ نے بشیر و نذیر بنا کر انسانیت کے سامنے پیش کیا آپ ﷺ نے نبوت کی ۳۲ سالہ زندگی میں اللہ کے کلام کو اللہ کی مخلوق تک انتھک طریقے سے پہنچایا اور اللہ نے اپنے پیارے نبیﷺ سے کہا میں نے دین مکمل کر دیا ہے اب رہتی دنیا
تک یہ دین قائم ودائم رہے گا کوئی دنیا کی طاقت اس کو مٹا نہیں سکے گی آپﷺ نے قریش کو اللہ کاپیغام پہنچایا تو وہ طرح طرح کے الزامات لگانے پر تل گئے۔ آپ ﷺ کو جادو گر،کاہن،شاعر اور نہ جانے کیا کچھ کہا مگرآپ ﷺ اپنے کام میں لگے رہے۔
دارالرقم میں دعوت کے پہلے ۳ سال:۔ نبوت کے پہلے ۳ سال خفیہ طریقے سے خاص خاص لوگو ں کو اللہ کی دعوت پہنچاتے رہے مرکز حضرت ارقمؓ کے گھر کو بنایا شروع دنوں میں حضرت خدیجہؓ ،حضرت علیؓ ،حضرت ابوبکرؓ حضرت زیدؓ یہ سب پہلے ہی دن مسلمان ہو گے تھے اس کے بعد حضرت ابو بکرؓکی محنت سے حضرت عثمانؓ ، حضرت زبیرؓ ، حضرت عبدالر حمٰنؓ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اور حضرت طلحہ بن عبیدؓ مسلمان ہوئے یہ بزرگ اسلام کا ہراول دستہ تھے آہستہ آہستہ تعداد بڑھتی گئی حضرت بلالؓ ، حضرت ابو عبیدہؓ بن جراح، ابو سلمہ بن عبدالاسد،ارقم بن ابی الارقم، عثمان بن مطعون اور ان کے دونوں بھائی قدامہؓ اور عبداللہ، عبیدہ بن حارثؓ ، سعید بن زید ان کی بیوی فاطمہؓ ،خباب بن ارت،عبداللہ بن مسعودؓ ، اور دوسرے افراد مسلمان ہوئے یہ اصحاب قریش کی تمام شاخوں سے تعلق رکھتے تھے جن کی تعداد ابن ہشام نے۰۴ سے زیادہ بتائی ہے۔مقاتل بن سلیمان کہتے ہیں کہ اللہ نے ابدائے اسلام میں دو رکعت صبح اور دو رکعت شام کی نماز فر ض کی ’’صبح اور شام اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو‘‘(المومن۵۵) اس کے بعد ۲سال تک جب جب اللہ کے کلام میں زیادہ توحید رسالت اور آخرت کے دلائل آنا شروع ہوئے تو مخا لفت بھی نسبتاً زیادہ ہوتی گئی بعد کے ۵سال اس مخالفت نے بہت زیادہ شدت اختیار کر لی بلا آخر مکی زندگی کے بقایا ۳ سال میں اہل قریش نے آپ کو قتل کرنے اور بستی سے نکال دینے کے منصوبے بنا لیے لیکن اللہ نے انصار مدینہ کے دل نرم کر دیے اور آپﷺ مدینہ ہجرت فرما گے۔
رشتہ داروں کو دعوت :۔اللہ کے حکم کے مطابق پہلے اپنے رشتہ داروں کو اسلام کی دعوت دی’’آپﷺ اپنے نزدیک ترین قرابتداروں کو ڈرایئے ‘‘(الشعرآء ۴۱۲) ان کو بلا کر اللہ کا پیغام پہنچایا ابو طالب نے حمایت کی اور ابو الہب نے کھل کر مخالفت کی۔ آپﷺ نے تمام خاندان کو ایک بار کھانے کی دعوت پر جمع کیا کل ۵۴ آدمی تھے اور فرمایا میں ایک چیز لے کر آیا ہوں جس سے دین اور دنیا دونوں میں فائدہ ہے۔ کون اس میں میری مدد کرے گا تمام مجلس میں سناٹا چھا گیا اس وقت حضرت علیؓ نے کہا میں مدد کروں گابنی ہاشم کو کیا پتہ تھا اس دعوت نے سارے عرب وعجم میں پھیل جانا ہے۔
دعوت عام :۔پھرمثال دے کر اس زمانے کے رواج کے مطابق پہاڑ صفا کی چوٹی پر چڑ کر اعلان کیا یاصباحا.یاصباحا یعنی صبح کا خطرہ صبح کا خطرہ، قریش کے لوگوں کو پکارا لوگ جمع ہو گے آپ ﷺنے فرمایا اگر میں آپ لوگوں سے کہوں کہ پہاڑ کی دوسری طرف سے دشمن حملہ کرنے والا ہے تو آپ لوگ میری بات پر یقین کریں گے سب نے کہا آپ ﷺ سچے اور نیک آدمی ہیں ہم ضرور یقین کریں گے آپﷺ نے فرمایا لوگومیں اللہ کا پیغمبر ہوں اور تمہیں ا للہ واحد کی طرف بلاتا ہوں بتوں کی پوجا سے بچاتا ہوں یہ زندگی چند روزہ ہے سب نے اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہے یہ پیغام سن کر سب حیران ہو گئے اور آپ کے حقیقی چچا ابولہب کو طیش آ گیا اور اس بدبخت نے کہا تو ہمیشہ ہلاکت او رسوا ئی کا منہ دیکھے کیا تو نے اس غرض کے لیے ہم کو بلایا تھا۔چند لمحے پہلے جسے صادق اور امین کہا جا رہا تھا جب آپ نے ایک اللہ کی عبادت کا کہا تو سب ایک دم مخالف ہو گے۔
ابو طالب کو دھمکی :۔قریش نے دھمکی کے لیے اپنے چند آدمی ابو طالب کے پاس بھیجے انہوں نے کہا تمہارے بھتیجے نے ہمارے خداؤں کو برا بھلا کہا، ہمارے دین کی عیب چینی کی ہماری عقلوں کو حماقت، کہا ہمارے باپ دادا کو گمراہ کہا، لہذا آپ یا تو اس کو روک دیں یا درمیان سے ہٹ جائیں ہم اس کے لیے کافی ہیں۔ابو طالب نرم تھے چنانچہ وہ چلے گے بعد میں ابو طالب نے اس کا ذکر رسول ﷺ سے کیا مگر رسول ﷺنے فرمایایہ میرے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے ہاتھ پر چاند رکھ دیں تب بھی میں یہ کام نہیں چھوڑوں گا۔جب قریش نے دیکھا کہ رسول ﷺ