تازہ ترینکالموسیم نذر

جشن آزادی مبارک ہو

ہر سال ہم چودہ اگست کو جشن آزادی مناتے ہیںیہ جشن آزادی کیا ہے اور ہم کیوں مناتے ہیں؟ پاکستان 14اگست 1947کو معرض وجود میں آیا۔ پاکستان کو معرض وجود میں لانے کا مقصد کیا تھا؟ آج سے تقریباً ایک صدی پہلے مسلمان ، ہندو اور سکھ وغیرہ اکٹھے رہتے تھے جس کی وجہ سے مسلمانوں کو مذہبی، سماجی ، سیاسی اور ثقافتی لحاظ سے بے شمار مشکلات تھی ان مشکلات سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لیے ایک تحریک چلی جس کا مقصد تھا کہ ایک ایسا ملک بنایا جائے جہاں پر مسلمان اپنے اللہ اور اللہ کے رسول کی عبادت کر سکیں اور جہاں پر ان کو سیاسی ، سماجی اور ثقافتی لحاظ سے مکمل آزادی ہو اور آخر کار 14اگست1947کو پاکستان کے نام سے ایک ملک بن گیا۔جس کے بانی قائداعظم محمد علی جناح تھے۔جشن سے مراد ہے کہ کسی ہدف کو مکمل کر لینے کی خوشی یا خوشی کا اظہار کرنا اور لفظ آزادی اپنے لفظی معنوں میں جبر کی متضاد ہے یعنی ایک ایسی صورتحال کہ جہاں ہمیں کسی قسم کے جبر کی وجہ سے غلامی و قید کا احساس نہ ہو یہ جبر سے دو چار ہوئے کسی انسان کو اس حالت سے نکالنے کااقرار کا نامہ ہے یہ ایک طرح کا بری الزمہ ہے جو راحت بخشتی ہے ایک من مانے حکومت کرنے والے، جبر کرنے والی طاقت، مطلق العنانی اور خود سرمستبداد تسلط و اقتدار یا اختیار سے۔ اسے ہم ایک طاقت کی طرح بھی سمجھ سکتے ہیں جو انسان میں خود اختیاری و خود فیصلے و طے کرنے کے عمل میں کار گر ثابت ہو سکتی ہے۔ اس قوت ارادی و اپنی خواہشات کی تکمیل کے سلسلے میں درکار قوت رکھنے کی حالت و صلاحیت سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔دراصل آزادی انسانی قابلیت کا وہ پیمانہ ہے جس میں وہ اپنا بنا کسی رکاورٹ و جبر یا بنا کسی استحصالی طاقت کے قابو میں رہتے ہوئے اپنے معاملات کو خود طے کرنے کی قوت کو استعمال کرنے کا اختیار اپنی خواہشات کے مطابق رکھے۔
جب پاکستان بنا تو ہندوستان سے آنے والوں نے اللہ کے نام پر اپنا گھر بار اور سب کچھ چھورڈ دیا۔ لاکھوں مسلمان بے گھر ہوئے اور کئی شہید ہوئے ۔ماؤں بہنوں کی عزتیں لٹیں صرف پاکستان کے لیے جہاں وہ اپنے دین کے مطابق زندگی گزارسکیں۔ جب یہ لوگ پاکستان پہنچے تو سندھی، بلوچی،پنچابی اور پٹھان اور دیگر بھائیوں نے ان کو اپنے گلے لگایا اور ان کے زخموں پر مرہم رکھا اور ان کی مدد کی۔اس وقت جذبہ کچھ اور تھا ہم ایک قوم نہیں تھے بلکہ ایک ملت تھے کلمہ طیبہ کی بنیاد پر برصغیر کے مسلمان ایک ہوگئے تھے۔ لیکن کیا آج ہم واقعی آزاد ہیںاور کیا بحثیت ریاست ہم اتنے آزاد ہیں کہ ہم اپنی خارجہ پالسی خود بنا سکیں اور کیا ہماری پارلیمنٹ آزاد ہے کہ وہ قیام پاکستان کے مقاصد کے عین مطابق قانون سازی کر سکے اور کیا ہماری فوج اتنی آزاد ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کر سکے۔جی نہیں ہم آزاد نہیں ہیں میں نہیں سمجھتا کہ ہم آزاد ہیں ۔اس ملک میں اگر آزادی ہے تو صرف جاگیرداروں اور وڈیروں کو ، اگر آزادی ہے تو حکمرانوں کو اگر آزادی ہے توسیاست دانوں کو۔
لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج بھی پاکستانی لوگ سو سال پیچھے ہیں آج بھی لوگوں کو مذہبی رسومات کی آزادی نہیں۔ آئے روز لوگ مسجدوں، مزاروں اور امام بارگاہوں میں بم دھمکوں میں مر رہے ہیں۔ وہ سندھی، بلوچی،پنجابی اور پٹھان جنہوں نے پاکستان کے بننے پر ایک دوسرے کو گلے لگایا تھا آج وہ ہی ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔حالانکہ قیام پاکستان کا مقصد یہ بھی تھا کہ مسلمانوں کو مادی و روحانی ضروریات کو پورا کرنا یعنی کہ ایک بہتر زندگی کی ضمانت دینامگر آج لوگ مادی و روحانی ضروریات سے قاصر ہیںلوگ مہنگائی میں پھنس کے رہ گئے ہیں نوبت یہاں تک ہے کہ لوگ اپنے بچے تک فروخت کر رہے ہیں۔کچھ خودکشیاں کر رہے ہیں۔کسی کو آٹا نصیب نہیں کسی کو آج بھی پینے کے لیاپانی میسر نہیں، کسی کو روز گار میسر نہیں،کسی کو تعلیم میسر نہیں۔ اگر اس ملک میں آزادی ہے توحکمرانوں کو کہ وہ جتناچاہیں آزادی سے ٹیکس لگا لیں اگر آزادی ہے تو منافع خوروں کو کہ وہ جتنی چاہیں آزادی سے مہنگائی بڑھا دیں، اگر آزادی ہے تو ان سیاستدانوں کو کہ جتنی چاہیں آزادی سے وہ کرپشن کر لیں۔آزادی ہے تو دہشتگردوں کو کہ وہ جہاں چاہیںآزادی سے دہشتگردی کر لیں۔اگر اس ملک میں آزادی ہے تو امریکہ کو جس کو چاہیں اس ملک سے اٹھا کر لیں جائیں اور جہاں چاہیںڈرؤن حملہ کر دیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے اللہ اور اللہ کے رسولö کے پیغام کو بھلا دیا اور پاکستان کے بانی قائد اعظم کے فرمودات کو پس پشت ڈال دیا ہے اور اب دشمن نے ہمارا گھیرا تنگ کر دیا ہے ہماری سرحدیں غیر محفوظ ہیں۔ملک میں فرقہ پرستی و قوم پرستی کی فضا برقرار ہے۔حکمران محض اپنے اقتدار کو طول دینے کی فکر میں لگے ہیں۔نوجوان بے روز گار ہیں اور بے گناہ انسانوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔کسی کو کوئی فکر نہیں۔ہر طرف خوف و ہراس اور مایوسی کا عالم ہے اس کے باوجود جشن آزدی منایا جا رہا ہے۔ہمیں آج یہ سوچنا ہے کہ ہم ملک سے بد عنوانی اور دیگر عوارض کا خاتمہ کر کے پاکستان کو ایک مہذب معاشرہ کیسے بنایا جائے اس ضمن میں پاکستان کے اعوام کو جدوجہد کے لئے ذہنی طور پر تیار کرنا ہوگا۔ان کرپٹ سیاستدانوں اور مفاد پرست حکمرانوں کو خدا حافظ کر کے کسی ایسے لیڈر کو چننا ہو گا جو صیح معنوں میں ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے۔جب ملک میں خوشحالی آئے، لوگوں کو روزگار ملے، بے گناہ لوگوں کا خون بہانا بند ہوگا۔ہماری سوچ آزاد ہوگی ہم سیاسی ،سماجی اور ثقافی لحاظ سے آزاد ہوں گئے۔ملک میں وافرمقدار میں پانی بجلی گیس اور دوسری ضروریات اور مہنگائی کم ہو گی ، ماؤں بہنوں کی عزتیں محفوظ ہو نگی۔ دہشتگردی ختم ہوگی تو ہم کہیں گے کہ ہم آزاد ہیںاور ہمارا ملک بھی آزاد ہے۔اب آپ خود سوچیں کہ اس وقت ہمیں جشن آزادی کی خوشی ہو گی کہ اس کھوکھلی جشن آزادی کی جو آج ہم منا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. Ap ne bilkul sahee kaha k hai …Ham jashan e Azaadi manaeiN b tu kis baat ka kia mulk meiN insani janoN k khoon ki holi par , dehshat gardi par ya oss mehngaee par jis ki wajah se waldeiN apne bachoN ko sar e bazaar bechne k liye laane par majboor ho gaey haiN k unheiN airyaN ragarte huey marta nhi deikh sakte …. bahut umdah tehreer hai …Salamat rahye Bro ….

Back to top button