بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

16ِ دسمبر ہمارا ماضی ،حال اور مستقبل

آج کا ’’دن یاد ہو کہ نہ یاد ہو‘‘کیونکہ ہمارا مزاج ایسا ہے کہ ’’ساری رات زلیخا پڑھی اور یہ معلوم نہ ہوا کہ زلیخا مرد تھی یا عورت‘‘آج کے دن ٹھیک 41برس قبل 16دسمبر1971ء ہمارا پیارا ملک اپنوں کی عاقبت نا اندیشی اور دشمن کی چالاکی سے دو ٹکڑ ے ہوا ۔ 41برس کے طویل دورانیہ کے باوجود جب ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں تو ہمیں اس سے اب بھی بد تر حالات کا سامناہماری بے حسی پر ماتم کناں نظر آتے ہیں۔بڑی آسانی سے سقوط ڈھاکہ کا الزام ہم اپنے اوپر لگانا اپنی توہین سمجھتے ہیں مگر جو ذمینی حقائق ہیں ان سے روگردانی ہمارا بد قسمتی سے شیوہ رہا،یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہم کھبی بھٹو،مجیب،اندرا،جنرل ٹکا،نیازی،جنرل یحیٰ سمیت ہر اس کو سقوط ڈھاکہ کا زمہ دار قرار دے رہے ہیں جو اس دور میں کسی نہ کسی منصب و اختیار پر فائز تھے لیکن ہم اس کی اصل بنیاد سے اپنی آنکھیں چرائے دکھائی دے رہے ہیں۔آج سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے طویل اور سیر حاصل بحث و مباحثہ ہونا ہمارا روایتی انداز ضرور ہے مگر ماضی کے پس منظر سے سبق حاصل کرنا ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہو گا۔تاریخ بتا رہی ہے کہ پاکستان کی خالق جماعت کا قیام مشرقی پاکستان(بنگلہ دیش ) میں ہوا اور پاکستان کی سب سے پہلے قرار داد بھی ڈھاکہ میں منظور ہوئی ۔آخر پھر کیوں پاکستان سے الگ ہونے کی تحریک وہیں سے چلی ؟عام سی کہاوت ہے کہ جب حقیقی بھائیوں کے مابین بھی حقوق کا برابری کی بنیاد پر تحفظ ممکن نہ ہوسکے تو وہ بھی آپس میں دشمن بن جاتے ہیں اور پھر ان کے نفاق سے ان کے دشمن اپنا فائدہ اٹھانے کے لئے طرح طرح کی سازشیں کر کے انہیں ایک دوسرے سے اتنا دور کر دیتے ہیں کہ ان کو تا مرگ اس نفاق کی سزا بھگتنا پڑتی ہے ۔قیام پاکستان سے 1971ء تک ہم نے جو بویا تھا وہی ہم نے کاٹا۔اگر ہمارے مسندِ اقتدار پر فائز ناعاقبت اندیش جاہ پرستی سے گریز کرتے تو آج دنیا میں ہمارا نام بڑے اسلامی ملک اور ترقی یافتہ صفوں میں ہوتا۔آج کا دن یوم سیاہ ہمارے لئے نشانِ عبرت اور یوم احتساب ہے۔سوشل میڈیا کے ذریعے میرا ایک بنگلہ دیشی شہری سے تعارف کچھ ایسے الفاظ میں ہوا،اس نے کہا’’تم ہمارے قاتل ہومیں تم سے بات کرنا پسند نہیں کرتا‘‘یہ سوچ چار دہائیاں گذرنے کے بعد بھی قائم رہنا اس امر کی گواہی ہے کہ ہما رے اقتدار پرستوں نے کس کس انداز سے ہمارے بنگالی بھائیوں کو نفرت کا شکار کیا۔مقننہ ، انتظامیہ،عدلیہ،میڈیا سمیت ہماری معاشرتی ،معاشی و سماجی ناہمواری نے 16دسمبر کا دن دیکھنا نصیب کیا۔آج ہم سقوط ڈھاکہ پر سب سے زیادہ مجرم جن جن کو گردانتے ہیں دراصل ہم اپنی نالائقی ،کج علمی اور اس مثل ’’چھاج بولے سو بولے چھلنی میں بہتر چھید‘‘مطلب یہ ہے کہ جو خود عیب دار ہو وہ عیب دار کی کیا برائی کرئے گا،ہمارے ماضی کے حکمرانوں کی تہ در تہ غلطیوں کے نتیجہ میں ہم سے مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنا۔اگر ہم شراکت کے اصولوں کا لحاظ رکھتے تو کبھی بھی مکتی باہنی نہ بنتی،ہم اسلام کے رشتہ کو مد نظر رکھتے تو کبھی بھی جدائی نہ ہوتی ،ہم نے نعرہ لگایا کہ’’ہمیں زمین چاہئے بنگالی نہیں ‘‘ٹینکوں کی یلغار سے لاکھوں بے گناہ بنگالیوں کو چھلنی کیا گیا،عصمت دری کے واقعات ہمارے لئے سیاہ کار بنے،آخر کار بھارت نے ہمارے نفاق سے فائدہ اٹھایا اور ہم رسواء ہوئے ۔لیکن تاریخ کے اس تلخ واقعہ کے بعد ہم نے اب بھی کچھ نہیں سیکھ سکا ،آج بھی مکتی باہنی ،راکھا باہنی کی بجائے طالبان کی صورت میں مختلف سیاسی و مذہبی تنظیموں کے عسکری گروہ کوئٹہ ،کراچی ،پشاور سمیت ملک بھر میں عدم استحکام کے لئے سرگرم ہیں،آج بھی امریکی بیڑا ڈرون حملوں کی شکل میں بے گناہ شہریوں کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے،کیا ہم درست سمت کی جانب تھے ؟ اس کا فیصلہ قارئین پر چھوڑتے ہوئے حال و مستقبل پر نظر ڈالتے ہیں ۔
وطن عزیز جن حالات سے گذر رہا ہے ،اللہ ہماری مدد فرمائے ،جہاں ہر روز 10ارب روپے سے زائد کرپشن ہو رہی ہو،ملک کے منافع بخش ادارے جن میں پی آئی اے،ریلوے،واپڈا،سٹیل ملزسمیت دیگر ادارے زوال پذیر ہوتے جا رہے ہوں ،پولیس محافظ کے بجائے قاتل ،دہشت گرد اور انسان دشمن بن جائے ،جہاں قانون کے رکھوالے قانون شکنی کو حکمرانی سمجھ بیٹھیں ، جیسے کراچی میں نوجوان سرفراز شاہ کو التجاؤں کے باوجود امن کے داعی رینجرز کے اہلکار سر عام گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا،جب لاپتہ افراد کی تلاش کی جائے تو عدلیہ کو بے بس کیا جاتا ہو،سر عام ٹارگٹ کلنگ معمول ہو،سچ کہنے والوں کی زندگی خطرے میں ڈال دی جائے ،ذخیرہ اندوز من مرضی سے مہنگائی کا جن بے بس عوام پر مسلط کرتے جائیں ،روزگار کے لئے لاکھوں روپوں کی بولیاں لگائی جائیں ،کبھی آمریت اور کبھی جمہوریت کے نام پر عوام کو سبز باغ دکھائے جائیں ،کس کس کا رونا رویا جائے ؟ ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہوا نظر آ رہا ہے۔
اگر ہم آج بھی طے کر لیں کہ ملک بچانا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ان نا مساعد حالات سے نکلنا ممکن نہ ہو،یہ خوش آئند امر ہے کہ ملک میں جمہوریت کا تسلسل جاری ہے،عدلیہ اور میڈیا آذاد انہ کردار ادا کر رہے ہیں،افواج پاکستان اپنی صلاحیتوں اور دلیری سے ملک کی سلامتی کے لئے کمر بستہ ہے ،سیاسی شعور کا گراف بڑھ رہا ہے۔ان اہم اداروں کی فعالت کے ثمرات اسی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں جب ہمارے ملک کے تمام کُل پُرزے درست سمت کی جانب گامزن ہو جائیں۔لیکن یہ کیسے ممکن ہے۔۔۔؟ اس کے لئے بہت کڑوا اور بہت سخت آپریشن کی ضرورت ہے ۔اگر اس آپریشن کے خد و خال پر خط کھنچا جانے کے لئے سر جوڑے جائیں تو سب سے پہلے یہی آپ سوچتے ہونگے کہ ’’انقلاب‘‘ کی بات کر رہا ہوں مگر ایسا نہیں ہے،انقلاب تو مصر ،لیبیا ،عراق ،افغانستان میں بھی آیا لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہاں جو خون ریزی جاری ہے اس سے اللہ کی پناہ،ہمیں تطہیری عمل کی ضرورت ہے ،اداروں میں دیانت دار ذمہ داران کا انتخاب ،خود احتسابی کا عمل ،فرائض منصبی کا احساس ،کرپٹ فافیا سے تعلق رکھنے والوں کو بغیر نوٹس گھر بجھوانے کا فوری عمل در آمد،ایسا قانون جو عوامی مفاد کے مغائر ہے یا ایسے قانونی سقم جن کے سائے میں کرپٹ مافیا پنپ رہے ہوں ان میں فوری تبدیلی لائی جائے۔امن کے قیام کو یقینی بنانے کے لئے عوامی اعتماد اور تحفظ کا احساس اجاگر کیا جائے۔صوبائی تعصب کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے بین الاصوبائی تعلقات کو فروغ دیا جائے،لسانی ،فرقہ وارانہ اور دیگر تعصبات کے خاتمے کے لئے شعوری مہم چلانے کے لئے سیاسی ،مذہبی اور انتظامی سطحوں کو متحرک و منظم کیا جائے،1971 ء میں اس وقت کے بعض دوراندیش منصوبہ سازوں نے حکومت کو یہ بھی مشورہ دیا تھا کہ علیدگی کے عمل کو کمزور کرنے کے لئے دونوں حصوں کے عوام کے مابین رشتہ داریاں استوار کی جائیں تاکہ قومی یکجہتی قائم رہے۔لیکن یہ تجویز بہت تاخیر سے سامنے لائی گی۔ آج بھی اس امر کی ضرورت ہے کہ بین الاصوبائی تعلقات کو مستحکم کرنے کے لئے ایسے شہریوں کو سپرسمارٹ شناختی کارڈ کا اہل قرار دیا جائے جو دوسرے صوبوں میں ذاتی تعلقات رکھتے ہوں ۔سمارٹ کارڈ جو ابھی نادرا جاری کر رہا ہے ضروری ہے کہ ایک سپر سمارٹ کارڈ کے نام سے شہریت کا شناختی کارڈ کے اجراء اور ان کارڈز کے حامل کو حکومت خصوصی مراعات دے ۔ممکن ہے کہ اس عمل سے باہمی دلچسپی اور رجحان پیدا ہو جو صوبوں کے مابین تعلق کو مضبوط کرنے میں معاون ثابت ہو سکے۔بہرحال آج سقوط ڈھاکہ ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ ہم ماضی کی خامیوں کا ادراک کرتے ہوئے آگے بڑھنے کے لئے مربوط،منظم اور مستحکم منصوبہ بندی کریں۔یقیناًقومی سلامتی کے تقاضوں کو مد نظر رکھ کر ہمارے اکابرین کو یکسوئی سے جد و جہد کرنا ہوگی۔اگر ہم نے ماضی سے سبق سیکھ لیا تو ہمیں دنیا کی کوئی طاقت دہشت گردی،معاشی استحصال اور ثقافتی یلغار سے شکست نہیں دے سکتی۔

یہ بھی پڑھیں  وزیر خارجہ اپنی جماعت اور حکومت کے لیے بہت خطرہ بننے والے ہیں،بلاول زرداری

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker