پاکستان

پیپلزپارٹی اور ن لیگ میں 20ویں آئینی ترمیم پراتفاق

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)حکومت اور اپوزیشن کے درمیان 20ویں آئینی ترمیم پر اتفاق ہو گیا, اپریل 2010ء کے بعد ہونے والی ضمنی انتخابات کو آئینی تحفظ دینے کیلئے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بیسویں آئینی ترمیم پر مذاکرات ہوئے. حکومت اور اپوزیشن کے درمیان 20 ویں آئینی ترمیم پر اتفاق رائے کےلئے سینیٹر میاں رضا ربانی کے چیمبر میں مذاکرات ہوئے جس میں دونوں جانب سے نمائندوں نے شرکت کی. ذرائع کے مطابق مسودے کا ابتدائی ڈرافٹ تیار کر لیا گیا ہے جس کی باقاعدہ منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے گی. اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں پیپلز پارٹی کے رہنماء خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان 20 ویں آئینی ترمیم کے مسودے پر اتفاق ہو گیا ہے اس کی منظوری وفاقی کابینہ سے لینے کےلئے اجلاس ایک دو روز کے اندر بلایا جائے گا. واضع رہے کہ مسلم لیگ نون نے بل میں ترامیم کیلئے تجاویز دیں تھیں۔ تجاویز میں نگران حکومت کے قیام کا معاملہ آئین کا حصہ بنانا اور غیر جانبدار چیف الیکشن کمشنر کا تقرر شامل ہے۔ الیکشن کمیشن کے ارکان کی مدت پانچ سال کرنے اور انھیں ہائیکورٹ کے جج کے برابر مراعات دینے کی تجاویز بھی دیں گئیں ۔ مسلم لیگ ن نے خواتین کی مخصوص نشستوں پر ارکان کی فہرست مکمل ہونے کے بعد متعلقہ پارٹی کو اس میں تبدیلی کا اختیار دینے کی بھی تجویز دی ۔ ایک تجویز میں کہا گیا ہے اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل ہونے والی وزارتوں کے رہ جانے والے محکمے بھی صوبوں کے سپرد کیے جائیں ۔ مسلم لیگ نے تجویز دی ہے کہ نگران حکومت کے قیام کیلئے وزیراعظم کی اپوزیشن لیڈر کے ساتھ مشاورت نہیں بلکہ اتفاق رائے کو لازمی قرار دیا جائے۔ خورشید شاہ کے مطابق گزشتہ روز اپوزیشن کے ساتھ معاملات مثبت اندازمیں آگے بڑھے تاہم دونوں اطراف کی مذاکراتی ٹیموں کی اعلیٰ قیادت سے مشاورت کے بعد ترمیم کے بل کو آج حتمی شکل دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں  پاک ایران سرحد پر پاکستان گیٹ کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker