ایس ایم عرفان طا ہرتازہ ترینکالم

2014سے قبل کیا کھویا کیا پا یا؟

s m irfan thairاب میرا ہنر ہے مر ے جمہو ر کی دولت اب میرا جنون خا ئف تعزیر نہیں ہے
اب دل پہ جو گزرے گی بے ٹو ک کہو ں گا اب میرے قلم میں کوئی زنجیر نہیں ہے
حضرت واصف علی واصف فر ما تے ہیں آج کا مہذب و متمدن انسان ایک عجیب صورت حا ل سے دوچا ر ہے اپنے آپ کو محفو ظ کر نے کی کو شش نے انسان کو غیر محفو ظ کردیا ہے ۔ زندگی تمام تر آسائشوں کے با وجود کرب مسلسل کا شکا ر ہو کر رہ گئی ہے ۔ نیکیو ں کا ثمر تو دور تک نظر نہیں آتالیکن بدی کی فو ری عا قبت راہ کی دیو ار بنی ہو ئی ہے ۔ انسان اپنے علم ، اپنے عمل ، اپنے حا لا ت ، اپنی خوا ہشات ، اپنی عادات ، غرضیکہ اپنے آپ سے نجا ت چا ہتا ہے ، اپنی گرفت سے آزادی چاہتا ہے ۔ بے نام اندیشو ں کی آند ھیا ں امید و آگہی کے چر اغو ں کو بجھا تی جا رہی ہیں ۔ آج کے انسان کی فکری صلا حیتیں منتشر ہو کر رہ گئی ہیں ۔ قا ئدین کی بہتا ت نے قیا دت کا فقدان پیدا کردیا ہے ۔ وحدت آدم جمعیت التفریق بن کے رہ گئی ہے ۔ کسی کو کسی پر اعتما د نہیں ۔ انسان کو اپنے آپ پر اعتما د نہیں ۔ مستقبل واضح نہ ہو تو حال اپنی تمام تر آسودگیو ں کے با وجود بے معنی نظر آتا ہے ۔آج مسیحا ئی کا دعویٰ ایک وبا ء کی صو رت اختیا ر کر چکا ہے ۔ جب کہ ہر آدمی کے سر پر کتبہ گڑا ہو ا ہے اور تعزیت کرنے والا اپنے آپ سے تعزیت کر رہا ہے ۔ زندگی کے جا ئز نا جا ئز تقا ضے اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ انسان بے بسی اوربے چا رگی کے عالم میں اندر سے ٹو ٹ رہا ہے ۔ علم بڑھتا جا رہا ہے ،پھیلتا جا رہا ہے لا ئبریر یا ں کتا بو ں سے بھری جا رہی ہیں اور انسان کا دل سکون سے خالی ہو تا جا رہا ہے ۔ آسائشو ں کے حصول کا جنو ں آکا س بیل کی طر ح انسان کی سوچ اور اس کے احساس کو لپیٹ میں لے چکا ہے ۔ آج اگر سقرا ط دوبا رہ پیدا ہو جا ئے تو اسے دوبارہ زہر پینا پڑے گا آج احساس مر چکا ہے ۔عوام نے جو مینیڈیٹ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو دیا تھا جو آرزوئیں ، خواہشات ، نیک تمنائیں اور تو قعات موجودہ حکومت سے وابستہ تھیں وہ سب خاک برد ہو گئیں ۔ 2013 انتہائی نمنا ک آنسوؤ ں ، آہو ں اور سسکیوں کے ساتھ روتا بلکتا اور کڑتا ہو ا ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جدا ہونے جا رہا ہے کیا سوچا تھا کہ بجلی ، گیس اور تو نائی بحران کا خا تمہ ہوجا ئے گا قومی و سرکا ری ادارے مضبوط ہو ں گے کالا با غ ڈیم کا منصوبہ اپنے حتمی انجام تک پہنچا دیا جا ئے گامہنگائی ، بیروز گاری اور مفلسی مٹا دی جائے گی ، دہشتگردی ، انتہا پسندی اور بدامنی بھی 2013 کی طر ح دفن ہو جائیں گے طا لبان سے کامیاب امن مزاکرات کا دور دورہ ہو گا نہ صرف پاکستانی معشیت کو خا طر خواہ سہا را ملے گا بلکہ وطن عزیز تر قی یا فتہ ممالک کی صف میں نہ سہی لیکن قدم بہ قدم مزید خو شحالی اور کامیابی کی طر ف لمحہ بہ لمحہ گا مزن ضرور ہو گا عام آدمی کو ریلیف میسر آئے گا ریلوے ، پی آئی اے ، سٹیل ملز جیسے دوسرے اداروں کو استحکام اور مضبوطی نصیب ہو گی لیکن ایسا تو کچھ بھی نہیں ہوا یہ تو سب دیوانے کا خواب تھا جو گذشتہ سالو ں کی طر ح پورا نہ ہو سکا اور نہ ہی دیکھنے والو ں کی آنکھیں بیداری سے سرفراز ہوئیں اس رواں سال نے میا ں نواز شریف کو وزیر اعظم کے منصب کے ساتھ ساتھ ۱ ارب با ون کڑوڑ چا لیس لا کھ ۴۴ ہزار، اپوزیشن لیڈر خو رشید شاہ کو ۱ کڑو ڑ ۸۴ لاکھ سے زائد ،مذہبی ٹھیکیدار مولانا فضل الرحمن کو ۷۵ لاکھ سے زائد ،شیخ رشید کو ۳ کڑوڑ سے زائد، تبدیلی اور انقلا ب عمران خان کو ۵ کڑوڑ ۹۳ لاکھ سے زائد، حمزہ شہباز کو ۲۵ کڑوڑ سے زائد، با غی جا وید ہا شمی کو ۹ کڑوڑ سے زائد اور مخدوم شاہ محمود قریشی کو ۸ لاکھ سے زائد کا مالک ضرور بنادیا ہے یعنی حقیقت یہ ہے کہ نئے سال میں امیر کو امیر تر اور غریب کو غریب تر بنانے کے ساتھ خو ش آمدید کہا جا رہا ہے ۔ ملک میں ہر جان خو ف و ہراس،اضطراب اور مخمسے میں مبتلا ء ہے حکمران اور ارباب اختیا ر محض اس با ت پر محو فکر ہیں کے مزاکرات کے بعد جنگ آخری آپشن پر رکھی جا ئے ۔ طا لبان کی طرف سے دو ٹوک مو قف سامنے آچکا ہے کہ امن مزاکرات نہیں ہو ں گے خود کش حملو ں اور اسلحہ و با رود نے نجانے کتنے گھر وں میں صف ماتم بچھا دی ہے مظلوم نہتے اور بیگناہ لوگو ں کو مو ت کے گھا ٹ اتارا جا رہا ہے لیکن دہشتگردوں کی دھمکیو ں اور حرکا ت و سکنا ت سے خو فزادہ بزدل حکمران محض قیا فو ں اور خام خیالی سے کام لے رہے ہیں کالعدم تنظیمو ں کی سرپرستی کرنے والے خو د ایوان اقتدار میں موجود ہیں ڈرو ن حملو ں کی رو ک تھام کے لیے امریکہ کی راکھیل اقوام متحدہ کو درخواستیں پیش کی جا رہی ہیں جس نے کشمیر جیسے گھمبیر مسئلے کو طول دے رکھا ہے ملک کے چو تھے ستون میڈیا کے خلا ف دہشتگرد کھلے عام کا روائیا ں کرنے میں مصروف ہیں لیکن ان کے چہیتے نااہل بیکا ر اور بزدل حکمران محض اپنا الو سیدھا کرنے میں مصروف عمل دکھائی دیتے ہیں یہا ں دہشتگردوں کی طرف سے ایک دھمکی منظر عام پر آتی ہے تو لاکھو ں بیگنا ہو ں عام عوام ، افواج پاکستان ،خفیہ اداروں اورسرکا ری مشینری کو ٹا رگٹ کرنے والے مو ت کے قیدیو ں کی سزائے مو ت روک دی جا تی ہے قائر اور بزدل حکمرانو ں نے مسلمانیت ، اسلامیت ، پاکستانیت اور قومیت کا جنازہ نکا ل کر رکھ دیا ہے سلام ہے اس نڈر ، مد بر اور دلیر ماں کو جس نے بلاول بھٹو جیسا بیٹا جنا جو لاکھ آسائشو ں اور مغربی دنیا کی روشنیو ں اور سہولتو ں میں پلنے بڑھنے کے باوجود بھی محض انتخابی نشان شیر نہیں، بلکہ شیر کا جگر رکھتا ہے جس نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ملک کے آئین اور قانون سے بغا وت کرنے والے دہشتگردوں کو للکا را ہے اور انکے خلا ف علم جہا د اٹھا نے کی صدا بلند کی ہے کسی نام نہا د انقلا بی اور باکمال لیڈر میں بھی یہ صلا حیت، جرات اور ہمت نہیں کہ ان نامسا د حالا ت میں حق و باطل کا دامن تھا متے ہو ئے ایسا فعل کرنے کی سوچ بھی رکھت

یہ بھی پڑھیں  جنرل گریسی سے کیانی تک

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker