بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

21دسمبر2012ء+قیامت=اسلام

چند ماہ سے تسلسل کے ساتھ مایا مذہب کے حوالے سے یہ بتایا جا رہا ہے کہ 21دسمبر2012دن 11بجکر 11منٹ اور 11سیکینڈپر پوری دنیا تباہ ہو جائے گی۔اس بری خبر نے پوری دنیا بالخصوص آذادکشمیر کے عوام میں خوف ،پریشانی اور ورطہ حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ہر ایک گھر،محلے ،بازار،مجلس،ملاقات اور اجتماع میں اس منہوس خبر کے تذکرے ہو رہے ہیں ۔اس حوالے سے بین الاقوامی میڈیا،قومی کالم نویس،موبائل ایس ایم ایس اور کئی ویب سائٹس پر بھی تبصرے کئے جا رہے ہیں۔قارئین کو اس بارے مکمل دلائل کے ساتھ بتانا ضروری ہے تاکہ تاریخی اعتبار سے کوئی کمی اور الجھاؤ باقی نہ رہے۔
یہ پیش گوئی’’ مایا ‘‘مذہب کے حوالے سے بتائی جا رہی ہے مایا مذہب کا وجود 600 قبل مسیح بتایا جاتا ہے ، اس قدیم تہذہب کا دائرہ کارلا طینی امریکہ کے کئی ممالک تک تھا جو اب کتابوں اور کہانیوں میں باقی رہ چکا ہے۔ان کی اپنی زبان ،کیلنڈر،ماہر علم نجوم اورمنفردتہذیب و ثقافت تھی،ان کے پیشواء نے یہ پیش گوئی قریباً آج سے ہزاروں سال قبل کی ہے۔ اس بارے مایا مذہب کی غیر مصدقہ کتاب سے بتایا جاتا ہے کہ ان کے کیلینڈر کے مطابق 5126برس بعد 21دسمبر2012قیامت کا سامنا ہو گا۔یہ مختصر تعارف کافی ہوگا اب آپ کو اس ساری ’’رام کہانی ‘‘بارے بتاتے ہیں۔
پہلی بات ذہین نشین کر لیں کہ’’مایا‘‘مذہب کسی نبی یا رسول سے نسبت نہیں رکھتا اور نہ ہی اس مذہب کے پیشواء اور پیروکار موجود ہیں،البتہ کچھ اس نسبت سے اپنی شناخت ضرور رکھتے ہیں مگر یہ مذہبی طور پر مایا تعلیمات سے نا بلد ہیں محض نسبت سے پہچان رکھی گئی ہے۔دوسری دلیل یہ ہے کہ مایا مذہب کی جس کتاب کا حوالہ دیا جا رہا ہے وہ کوئی الہامی کتاب بھی نہیں ہے جسے مانا جائے۔تیسری دلیل یہ ہے کہ سائنس نے بہت ترقی کر لی ہے اب تک سائنسی تحقیق سے بھی کسی ایسے بریک تھرو بارے اشارہ نہیں مل رہا ہے۔اب آئیے ماضی کے چند ایسے واقعات پر نظر ڈالتے ہیں جو وقت آنے پر جھوٹ ثابت ہوئے۔
مسلم توہم پرستوں کا عقیدہ تھا کہ دنیا میں صرف 14صدیاں رہیں گیءں ۔اس کے بعد قیامت قریب آجائے گی لیکن ثابت یہ ہوا کہ اب 15ویں صدی کے 34سال گذر رہے ہیں مگر قیامت کہیں بھی نہیں آ سکی،80کی دہائی میں سائنس دانوں کے ایک گروپ نے کہا کہ ایک سیارہ تیزی سے زمین کی طرف آ رہا ہے جس سے بڑے پیمانے پر تباہی کے آثار نظر آ رہے ہیں مگر یہ سیارہ خلاء ہی میں بے ضرر ہو جانے سے سائنسی تحقیق بھی ناقض ثابت ہوئی۔ماضی قریب میں ایک پادری ہیرالڈ کیمپنگ نے پیش گوئی کی تھی کہ 21 مئی 2011ء میں قیامت آئے گی جس سے عیسائی مذہب کے پیروکاروں میں خوف پیدا ہوا جب مذکورہ تاریخ خیر خیریت سے گذر گئی تو اس بد بخت نے پھر کہا کہ حساب کتاب کی غلطی ہوئی ہے اب 21اکتوبر2011ء کو دنیا تباہ ہو جائیگی مگر پھر ایسا نہ ہوا ۔ان سب تاریخی معلومات کی روشنی میں اب ہم اسلامی نقطہ نظر سے جائیزہ لیتے ہیں۔
بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سواء کسی کو قیامت کے آنے کا علم نہیں،جس (اللہ)نے کائنات بنائی ہے وہی فنا کرنے پر قادر ہے۔البتہ قیامت کے قرب بارے کئی پیش گوئیاں جو قران عظیم اور رسول مقبول حضرت محمد ﷺ نے فرمائی ہیں ان واقعات سے قبل ایسی توہم پرستی اور لادینی روایات کی کوئی حیثیت نہیں۔قیامت کے قرب کی بہت سی علامات کے ظہور کا ہونا لازم ہے جن میں اہم یہ ہیں ۔سیدناامام مہدی ؑ کا ظہور،حضرت عیسیٰ ؑ کا آسمان سے نزول و آمد،زمین سے ایک جانور کا نکلنا جو باتیں کرئے گا،یاجوج ما جوج کی آمد اور ان کی تباہی،سورج کا مغرب سے نکلنا جس کے بعد توبہ کا دروازہ بند کر دیا جائے گا،تباہ کن آگ کا ظاہر ہونا،دجال کی آمدجو خدائی دعویٰ کرئے گا اور اس کے جال میں جو صبح مومن اٹھے گا وہ شام کے وقت کافر ہو جائے گا اور جو شام کو مومن سوئے گا وہ صبح دجال کے فریب میں آکر کفر اختیار کرئے گا اس کے شر سے خال خال خوش قسمت بچیں گے۔سرِ عام بد کاری ہو گی اور مومن گذرتے صرف یہی کہئے گا کہ بھائی پردے میں جاؤ،باپ اور بیٹی،ماں اور بیٹے میں حیا ختم ہو جائے گی،قتل و غارت اور حق تلفی عام ہو گی ۔ایسے بے شمار واقعات ظہور پذیر ہونے کے بعدحضرت اسرافیل ؑ کا خوفناک بگل بجے گا اور روئی کی طرح پوری کائنات ریزہ ریزہ ہو جائے گی۔مذکورہ واقعات کے ظہور کی ترتیب اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہو گی۔مندرج واقعات کے علاوہ مسلمانوں کا عقیدہ بھی ہے کہ ان کے ظہور سے قبل قیامت نہیں آ سکتی اور ہر مسلمان کا یہ عقیدہ بھی ہے کہ قیامت برحق ہے جس کی آمد بارے خالق کائنات ہی علم رکھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہر ارضی و سماوی آفات سے ہمیں محفوظ رکھے ،مایا مذہب کے حوالے سے جو پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے یہ سب غیر اسلامی اور سائنسی اعتبار سے غیر حقیقت پسندانہ حیثیت رکھتا ہے۔ہمیں اللہ اور اللہ کے رسول کے احکامات و تعلیمات کو مد نظر رکھ کر دین اسلام پر چلنا چاہئے۔ایسی خبر جو غیب سے تعلق رکھتی ہو اس پر یقین کرنے سے ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ہاں البتہ ہماری بد اعمالیوں کی وجہ سے آزمائشوں اور عذابوں کا ہونا ثابت ہے ۔آج دنیا بھر میں کہیں نہ کہیں کبھی سیلاب سونامی ،سینیڈی،زلزلے اور ناقابلِ علاج امراض کینسر،ہائپاٹئٹس وغیرہ جیسے عذاب الہیٰ دیکھے اور سنے جاتے ہیں ۔ہمارے معاشرے میں قتل و غارت،اغواء اور تاوان سمیت کئی جرائم روز بروز بڑھ رہے ہیں ،باپ بیٹے اور بیٹا باپ کو قتل کر رہا ہے ،عصمت دری کے بے شمار واقعات معمول بن چکے ہیں۔اسی طرح دہشت گردی بھی ایک عذاب بن چکی ہے ،بے گناہ انسانوں کا قتل عام ہونا لمحہ فکریہ ہے،زر، زمین اور زن کے جھگڑے عام ہوتے جا رہے ہیں ۔ان معاشرتی حالات کا باریک بینی سے جائیزہ لیا جائے اور سائنس بھی یہ بتا رہی ہے کہ نظام شمسی میں غیر معمولی رد و بدل پیدا ہو رہا ہے یہ سب آثار اس امر کی گواہی ہیں کہ جو پیش گوئی قران و حدیث میں قیامت کے حوالے سے مذکور ہے اس کی شروعات ہو چکیں ہیں لہذا ہمیں توبہ کرنی چائیے اور اسلامی معاشرت کے قیام پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے ۔قیامت اتنی جلدی نہیں آئیگی مگر ہمیں اس پر غور کرنا ہوگا کہ ہماری زندگی بھی کونسی ہزاروں سال ہے۔ایک لمحے کا علم نہیں،مختصر زندگی میں ہمیں ایسے کام کرنا چاہئیں تاکہ آنے والی نسلیں ہمیں اچھے الفاظ سے یاد رکھیں اور ہماری آخرت بھی کامیاب ہو جائے۔ان سطور کی قلمبندی کرتے ہوئے قارئین سے التماس ہے کہ وہ کسی غیر مصدقہ اطلاعات پر فکر مند نہ ہوں اور آج سے عہد کیا جائے کہ ہم حسب استطاعت ہر ممکن اللہ اورحضرت محمد مصطفٰے ﷺ کے احکامات کی بہر صورت پیروی کریں گے ممکن ہے کہ ہماری توبہ کے صدقے رب العالمین ہمارے اوپر اپنے فضل و کرم میں اضافہ کر کے ہمیں دنیا و آخرت میں سرخرو فرمائے آمین۔

یہ بھی پڑھیں  دونوں ملک سیاچن سے اپنی فوجیں نکال لیں، عمران خان

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker