پروفیسر رفعت مظہرتازہ ترینکالم

اکیس ستمبر ۔۔۔یومِ عشقِ رسولﷺ

اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ عشقِ رسولؐ کے ایسے ہزاروں واقعات کی خوشبو سے مہک رہی ہے ۔صدیاں گزر گئیں لیکن حبِّ رسول میں کوئی کمی نہیں آئی۔آج بھی بِلا امتیاز ہر مسلمان عشقِ رسول میں سرشار نظر آتا ہے ۔ آقاؐ کی حرمت پہ کَٹ مرنے کو ہر مسلمان مرد و زن سعادت و عبادت سمجھتا تھا ، ہے اور تا قیامت سمجھتا رہے گا۔آج ہمیں سیکولر حلقوں کی طرف سے صبر و تحمل کا درس دیا جا رہا ہے لیکن مجھے اپنے ایمان کی انتہاؤں تک یقین ہے کہ میرے نبیؐ کے متوالے کسی بڑے سے بڑے سانحے پر تو صبر کر سکتے ہیں لیکن ایسی نا پاک جسارت پر نہیں ، ہر گز نہیں۔یہ ہر مسلمان کا فرضِ عین ہے کہ وہ ایسی رقیق حرکت کرنے والوں کو اُن کے عبرت ناک انجام تک پہنچائے بغیر اپنے جذبات کو ٹھنڈا نہ ہونے دیں۔اِس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہم جذبات میں آ کر اپنی ہی املاک کو تباہ و برباد کرنا شروع کر دیں لیکن سیکولر دانشوروں کے درسِ تحمل پر کان دھرنا بھی انتہا درجے کی بے غیرتی و بے حمیتی ہے ۔ہمیں اپنے اندر عشقِ رسول کی وہی شمع روشن کرنا ہو گی جو غازی علم الدین کو شہادت کے منصب سے سرفراز کر گیا ۔ ان کی پیروی کارتے ہوئے ہمیں اب اِن درندوں کو سدھانا ہو گا۔ یہ تو ہر ذی فہم کا ماننا ہے کہ درندے کبھی سیدھے ہاتھوں سدھائے نہیں جا سکتے۔لیکن بد قسمتی سے ایسے درندوں کو سدھانے والے ہاتھوں (مسلم حکمران) پر اِن درندوں کے خوف سے رعشہ طاری ہے ۔اگر وہ تھوڑی سی غیرت کا بھی مظاہرہ کریں تو ہفتوں یا مہینوں نہیں بلکہ دنوں میں اِن درندوں کو سدھایا جا سکتا ہے ۔عشقِ رسولؐ کا تقاضہ تو یہی ہے کہ پوری اُمّتِ مُسلمہ اپنے حکمرانوں کو اِن درندوں کے خلاف نبرد آزما ہونے کے لیے مجبور کر دے اور اگر وہ اپنی بے غیرتی اور بے حمیتی سے باز نہیں آتے تو سب کو اُٹھا کر سمندر میں غرق کر دے۔تحقیق کہ جو مسلمان اب بھی مصلحتوں کی چادر اوڑھ کر دم سادھے پڑا رہتا ہے وہ ایمان کے کمزور ترین درجے پر ہے اور لاریب اُسے روزِ محشر اِس کاکڑا حساب اور جواب دیناہو گا۔
21 ستمبر کو عُلماء کی ہڑتال کی اپیل پر لبّیک کہتے ہوئے مرکزی حکومت نے عام تعطیل کا اعلان کرکے اپنے بہت سے گناہوں کو دھو ڈالا ہے ۔اب یہ ہر مر د و زن کا فرض ہے کہ وہ اکیس ستمبر کو پُر امن احتجاج میں شریک ہو کر عاشقِ رسول ہونے کا ثبوت دے ۔یہاں معاملہ سیاست کا نہیں ، دینِ مبیں کا ہے جس کا تقاضہ ہے کہ ہم حضورؐ پر کثرت سے درود بھیجتے ہوئے گھروں سے نکلیں اورطاغوتی طاقتوں پر یہ ثابت کر دیں کہ ہم سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں لیکن حرمتِ رسولؐ پر آنچ ہر گز نہیں۔آقا ؐ کا فرمان ہے ’’تحقیق کہ تمہارا یمان اُس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک کہ میں تمہیں تمہارے ماں باپ ، اولاد ، بہن بھائی ، عزیز ، رشتہ دار حتّیٰ کہ دُنیا کی ایک ایک چیز سے پیارا نہ ہو جاؤں‘‘۔ تو کیا ہم اکیس ستمبر کو گھروں سے نکل کر آپؐ کے اِس فرمان کے مطابق عاشقِ رسولؐ ہونے کا ثبوت دیں گے؟

یہ بھی پڑھیں  حجرہ شاہ مقیم:بارش سے مکان کی چھت گرنے سے ایک شخص ہلاک

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker